وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کا بین الاقوامی قابل تجدید توانائی کانفرنس کے دوران نشست سے خطاب

اسلام آباد۔4اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ پاکستان کے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت عائد بعض پابندیاں حکومت کو بجلی کے نرخوں کا ایسا لچکدار اورمارکیٹ پر مبنی نظام متعارف کرانے سے روک رہی ہیں جس کے ذریعے بجلی کی لاگت میں کمی، بیٹری سٹوریج کے فروغ اور ملک میں صاف توانائی کی جانب منتقلی کے عمل کو تیز کیا …

اسلام آباد۔4اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ پاکستان کے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت عائد بعض پابندیاں حکومت کو بجلی کے نرخوں کا ایسا لچکدار اورمارکیٹ پر مبنی نظام متعارف کرانے سے روک رہی ہیں جس کے ذریعے بجلی کی لاگت میں کمی، بیٹری سٹوریج کے فروغ اور ملک میں صاف توانائی کی جانب منتقلی کے عمل کو تیز کیا جا سکتا ہے۔

منگل کو بین الاقوامی قابل تجدید توانائی کانفرنس کے دوران ایک نشست سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت گزشتہ کئی ماہ سے آئی ایم ایف کے ساتھ ’’ٹائم آف یوز ٹیرف‘‘ متعارف کرانے کے لیے بات چیت کر رہی ہےجس کے تحت بجلی کی قیمت مختلف اوقات میں پیداوار کی حقیقی لاگت کے مطابق مقرر کی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا جیسے ممالک میں بجلی فراہم کرنے والی کمپنیاں اضافی پیداوار خصوصاً دن کے وقت جب شمسی توانائی زیادہ دستیاب ہوتی ہے صارفین کو کم نرخوں پر بجلی فراہم کر سکتی ہیں تاہم پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط کے باعث ایسا نظام نافذ نہیں کر پا رہا۔

اویس لغاری نے کہا کہ اگر دن کے وقت بجلی تقریباً 6 روپے فی یونٹ کی معمولی لاگت پر فراہم کی جائے تو صارفین بیٹری سٹوریج میں سرمایہ کاری کریں گے، اضافی قابل تجدید توانائی ذخیرہ کریں گے اور شام کے مہنگے اوقات میں اسے استعمال کر سکیں گےجس سے قومی گرڈ پر دبائو میں نمایاں کمی آئے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ مجوزہ ٹیرف اصلاحات سے حکومت پر کوئی مالی بوجھ نہیں پڑے گاجبکہ طلب میں اتار چڑھائو کم ہونے، گرڈ کی کارکردگی بہتر بنانے اور قابل تجدید توانائی کے زیادہ استعمال میں مدد ملے گی۔

وفاقی وزیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کو بجلی کے نظام کی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہےجس میں سمارٹ میٹرنگ،بجلی کے بہائو کی حقیقی وقت میں نگرانی اور جدید ٹیرف نظام کے نفاذ کے لیے ضروری انفراسٹرکچر شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے عالمی گرین ہائوس گیسوں کے اخراج میں معمولی حصہ ڈالنے کے باوجود عوام کی قیادت میں شمسی توانائی کے شعبے میں ایک نمایاں انقلاب برپا کیا ہے، لیکن عالمی برادری نے نہ تو اس پیش رفت کو مناسب انداز میں تسلیم کیا اور نہ ہی بجلی کے بنیادی ڈھانچے کی جدیدکاری کے لیے موثر گرین فنانسنگ فراہم کی۔

سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ گرڈ کی اپ گریڈیشن اور ٹیرف اصلاحات کے لیے رعایتی مالی معاونت کی فراہمی سے بجلی کی قیمتوں میں کمی، طویل المدتی توانائی کے تحفظ اور صاف توانائی کی جانب منتقلی کے عمل کو مزید تیز کیا جا سکتا ہے۔