چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے بھارتی غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ پاکستان کے غیر متزلزل، اصولی اور تاریخی عزمِ حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 5 اگست 2019ء کو بھارت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے عالمی طور پر تسلیم شدہ اصولوں کی صریح خلاف ورزی …
چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر خصوصی پیغام
اسلام آباد۔4اگست (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے بھارتی غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ پاکستان کے غیر متزلزل، اصولی اور تاریخی عزمِ حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 5 اگست 2019ء کو بھارت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے عالمی طور پر تسلیم شدہ اصولوں کی صریح خلاف ورزی تھے۔
سینیٹ سیکرٹریٹ کے مطابق یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ یومِ استحصالِ کشمیر بھارتی غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کے عوام کی مسلسل قربانیوں، مصائب اور ثابت قدمی کی یاد دلاتا ہے، یہ دن عالمی برادری کے ضمیر کو بھی جھنجھوڑتا ہے کہ وہ مقبوضہ علاقے میں ڈھائے جانے والے سنگین مظالم کا نوٹس لے اور انصاف کے قیام اور خطے میں پائیدار امن کے لئے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے ۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019ء کے بعد بھارت نے بھارتی غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے، اس کی منفرد شناخت کو مسخ کرنے، حقیقی سیاسی قیادت کو دبانے، بنیادی آزادیوں کو سلب کرنے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں مزید شدت پیدا کر دی ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ جبر، ریاستی تشدد اور ظلم کا کوئی بھی ہتھکنڈا کشمیری عوام کی آزادی، وقار اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت کے حصول کی جائز خواہش کو کبھی ختم نہیں کر سکتا۔سید یوسف رضا گیلانی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کشمیری عوام کی منصفانہ جدوجہد میں اپنی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت ہر حال میں جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کا پائیدار اور منصفانہ حل صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہی ممکن ہے تاکہ وہ آزادانہ طور پر اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ یہی منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں دیرپا امن، سلامتی اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔چیئرمین سینیٹ نے اقوام متحدہ، عالمی برادری، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور تمام بااثر عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارتی غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، غیر قانونی اقدامات اور کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کا فوری نوٹس لیں۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ ادارے بھارت کو بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد کا پابند بنانے کے لئے مؤثر کردار ادا کریں۔









