پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت ملک بھر میں دو لاکھ 55 ہزار سے زائد مستحق خواتین کی ڈیجیٹل مالیاتی خواندگی کی تربیت کامیابی سے مکمل کر لی ہے۔
ایس ڈی پی آئی نے بی آئی ایس پی کے تحت ملک بھر میں دو لاکھ 55 ہزار سے زائد مستحق خواتین کی ڈیجیٹل مالیاتی خواندگی کی تربیت کامیابی سے مکمل کر لی
اسلام آباد۔4اگست (اے پی پی):پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت ملک بھر میں دو لاکھ 55 ہزار سے زائد مستحق خواتین کی ڈیجیٹل مالیاتی خواندگی کی تربیت کامیابی سے مکمل کر لی ہے۔ اس سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ ڈیجیٹل مالیاتی خواندگی کا یہ منصوبہ پاکستان میں خواتین کو مالی طور پر بااختیار بنانے اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے ذریعے بڑی تعداد میں خواتین کو جدید مالیاتی نظام سے منسلک کیا گیا جو سماجی تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔ انہوں نے منصوبے پر کام کرنے والی ٹیم کو ہدایت کی کہ دوران عمل حاصل ہونے والے تجربات، کامیاب کہانیوں اور درپیش چیلنجز کو دستاویزی شکل دی جائے تاکہ مستقبل میں سماجی تحفظ اور عوامی فلاح سے متعلق تحقیق کے لیے اس سے استفادہ کیا جا سکے۔
منصوبے کی سربراہ اور ایس ڈی پی آئی کے سینٹر فار ایویڈنس ایکشن اینڈ ریسرچ کی ریسرچ فیلو ڈاکٹر فریحہ ارمغان نے بتایا کہ جرمن ترقیاتی ادارے جی آئی زیڈ (GIZ) اور یورپی یونین کے تعاون سے شروع ہونے والا یہ منصوبہ 2023ء میں ایک پائلٹ پروگرام کے طور پر شروع کیا گیا تھا جسے بعد ازاں ملک کے چاروں صوبوں تک توسیع دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جولائی 2024ء میں شروع ہونے والا دوسرا مرحلہ بھی اپنے مقررہ اہداف کے مطابق کامیابی سے مکمل کیا گیا جس میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے دفاتر نے بھرپور تعاون فراہم کیا۔ انہوں نے بتایا کہ منصوبے کی کامیابی میں پنجاب، خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں تعینات صوبائی رابطہ کاروں، فیلڈ کوآرڈینیٹرز، امپلیمنٹیشن کوآرڈینیٹرز اور کوالٹی ایشورنس ٹیم نے اہم کردار ادا کیا۔
ان کے مطابق منصوبے میں تقریباً 250 تربیت کار، 40 امپلیمنٹیشن کوآرڈینیٹرز اور 30 رکنی کوالٹی ایشورنس ٹیم نے حصہ لیا جبکہ آٹھ ملین سے زائد ریکارڈز پر مشتمل ڈیٹا بیس کا بھی موثر انداز میں انتظام کیا گیا۔ ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر (پالیسی) ڈاکٹر شفقت منیر نے کہا کہ مستحق خاندانوں تک براہ راست پہنچ کر انہیں تربیت فراہم کرنا ایک بڑا چیلنج تھا تاہم ٹیم نے پیشہ ورانہ انداز میں یہ ذمہ داری انجام دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ ادارے کی شواہد پر مبنی پالیسی سازی اور سماجی اثرات کے نمایاں منصوبوں میں شمار کیا جائے گا۔
ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر (ریسرچ) ڈاکٹر ساجد امین جاوید نے کہا کہ منصوبے کی کامیابی موثر قیادت، واضح حکمت عملی اور پوری ٹیم کی مشترکہ محنت کا نتیجہ ہے۔تقریب کے اختتام پر منصوبے کی کامیاب تکمیل کے موقع پر کیک کاٹا گیا جبکہ ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے منصوبے کی سربراہ، کنسلٹنٹس، صوبائی رابطہ کاروں، فیلڈ سٹاف، امپلیمنٹیشن کوآرڈینیٹرز اور کوالٹی ایشورنس ٹیم کے ارکان میں تعریفی اسناد تقسیم کرتے ہوئے ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔









