وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں عوام کی حقیقی سیاسی قیادت کو مسلسل دبانا، شہری آزادیوں پر قدغنیں عائد کرنا اور آزاد ذرائع ابلاغ و ڈیجیٹل مواصلات پر پابندیاں برقرار رکھنا شدید تشویش کا باعث ہے، تنازعہ کشمیر جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے سب سے بنیادی اور دیرینہ حل …
جموں و کشمیر کے تنازعہ کا منصفانہ اور پُرامن حل پاکستان کی پالیسی کا بنیادی ستون ہے، شزا فاطمہ خواجہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔5اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں عوام کی حقیقی سیاسی قیادت کو مسلسل دبانا، شہری آزادیوں پر قدغنیں عائد کرنا اور آزاد ذرائع ابلاغ و ڈیجیٹل مواصلات پر پابندیاں برقرار رکھنا شدید تشویش کا باعث ہے، تنازعہ کشمیر جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے سب سے بنیادی اور دیرینہ حل طلب مسئلہ ہے۔
بدھ کویومِ استحصال کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ آج حکومتِ پاکستان اور پوری پاکستانی قوم اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ بھرپور انداز میں غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔ ہم اس دن کو اس عزم کے ساتھ مناتے ہیں کہ دنیا کو بھارت کے 5 اگست 2019 کے ان غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کی سنگینی کی یاد دہانی کرائی جائے جن کے ذریعے اس نے غیر قانونی طور پر بھارت کےغیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی صریحا خلاف ورزی ہیں۔سات برس گزر جانے کے باوجود یہ غیر قانونی اقدامات نہ تو جموں و کشمیر کی قانونی حیثیت تبدیل کر سکے ہیں اور نہ ہی کشمیری عوام کے اپنے جائز حقِ خودارادیت کے حصول کے عزمِ پختہ کو کمزور کر سکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان اقدامات نے بھارتی ریاستی جبر میں اضافہ کیا، بنیادی آزادیوں کو محدود کیا اور غیر قانونی قانون سازی و انتظامی اقدامات کے ذریعے علاقے کے آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنے کی مکروہ کوششوں کو مزید تیز کیا۔انہوں نے کہا کہ بھارت کےغیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں عوام کی حقیقی سیاسی قیادت کو مسلسل دبانا، شہری آزادیوں پر قدغنیں عائد کرنا اور آزاد ذرائع ابلاغ و ڈیجیٹل مواصلات پر پابندیاں برقرار رکھنا شدید تشویش کا باعث ہے۔ان تمام مشکلات کے باوجود کشمیری عوام کا حوصلہ، استقامت اور ثابت قدمی آج بھی غیر متزلزل ہے۔ اپنے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے ان کی پُرامن اور منصفانہ جدوجہد آج بھی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ کشمیریوں کی مثالی جدوجہد انصاف، انسانی وقار اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی پر یقین رکھنے والے تمام افراد اور اقوام کی حمایت اور احترام کی مستحق ہے۔جموں و کشمیر کا تنازع جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے سب سے بنیادی اور دیرینہ حل طلب مسئلہ ہے۔
خطے میں پائیدار امن، طاقت کے استعمال یا یکطرفہ اقدامات سے نہیں بلکہ کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق اس تنازع کے منصفانہ اور پُرامن حل سے ہی ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ اب وقت کی ضرورت ہے کہ بین الاقوامی برادری کو محض تشویش کے اظہار تک محدود رہنے کے بجائے اس دیرینہ تنازع کے منصفانہ اور دیرپا حل کے لیے اپنا مؤثر اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔اس موقع پر ہم ایک بار پھر اس امر کا اعادہ کرتے ہیں کہ جموں و کشمیر کے تنازع کا منصفانہ اور پُرامن حل پاکستان کی پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔ پاکستان کشمیری عوام کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت ہر سطح پر جاری رکھے گا اور ان کی آواز کو ہر علاقائی اور بین الاقوامی فورم پر پوری قوت سے بلند کرتا رہے گا۔پاکستان بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بھارت پر زور دے کہ وہ بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بند کرے، اگست 2019 سے نافذ کیے گئے اپنے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات واپس لے، جموں و کشمیر کے عوام پر مسلط جابرانہ قوانین کا خاتمہ کرے اور سازگار ماحول پیدا کرے تاکہ کشمیری عوام اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق اپنے حقِ خودارادیت کو آزادانہ طور پر استعمال کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے تنازع کے پُرامن اور منصفانہ حل کی راہ ہموار کر سکیں۔








