پنجاب کا فلاحی نظام دیہات کے مکینوں کی دہلیز تک امید کا سفر

پنجاب کافلاحی نظام خاموشی سے صوبےبھر میں زندگیاں بدل رہا ہے۔بے روزگار افراد کو کاروبار کے لیے سرمایہ مل رہا ہے، طلبہ روزانہ کے سفری بوجھ سے سکون پا رہے ہیں، اور دیہی خواتین خود کفالت کی راہ پر مویشی پال رہی ہیں۔

ملتان۔ 05 اگست (اے پی پی):پنجاب کافلاحی نظام خاموشی سے صوبےبھر میں زندگیاں بدل رہا ہے۔

بے روزگار افراد کو کاروبار کے لیے سرمایہ مل رہا ہے، طلبہ روزانہ کے سفری بوجھ سے سکون پا رہے ہیں، اور دیہی خواتین خود کفالت کی راہ پر مویشی پال رہی ہیں۔ یہ سب مل کر ایک ایسی تصویر بناتے ہیں جس میں صوبے کا کوئی گوشہ فلاحی دائرے سے باہر نہیں رہا۔اس معاشی تحریک کا مرکز "سی ایم پنجاب آسان کاروبار فنا نس اسکیم”ہے، جو نئے اور موجودہ کاروباری افراد کو آسان مالی معاونت فراہم کر کے مقامی کاروبار کی ترقی کے لیے سنگ میل ثابت ہو رہی ہے۔ سرمائے کی فراہمی کے ساتھ ساتھ یہ پروگرام مالی شمولیت کے فرق کو بھی پاٹ رہا ہے، جس سے پسے ہوئے طبقے کے کاروباری افراد کو پہلی بار باقاعدہ قرضہ جاتی نظام تک رسائی مل رہی ہے۔مریم کی دستک کے تحت حکومتی خدمات براہ راست شہریوں کی دہلیز تک پہنچائی جا رہی ہیں جس سے قطاروں اور بار بار دفاتر کے چکر لگانے سے نجات ملی ہے۔ بزرگ شہری، معذور افراد اور دور دراز علاقوں کے رہائشی اس سہولت سے سب سے زیادہ مستفید ہو رہے ہیں رہائش کے شعبے میں "اپنی چھت اپنا گھر” پروگرام خاندانوں کو اپنے گھر بنانے میں مدد دے رہا ہے، جبکہ "اپنی چھت محفوظ چھت” کے تحت خراب مکانات کی مرمت یا تعمیرِ نو کے لیے قرضے دیے جا رہے ہیں۔ گلوبل آئی ٹی سرٹیفیکیشن پروگرام کے تحت نوجوانوں کو بین الاقو امی معیار کی تکنیکی مہارتیں سکھائی جا رہی ہیں، جو انہیں عالمی ڈیجیٹل معیشت میں فری لانس اور ریموٹ ملازمتوں کے مواقع فراہم کر رہی ہیں۔ ماحولیاتی تحفظ کے لیے "سی ایم پنجاب گرین کریڈٹ پروگرام” ماحول دوست طریقے اپنانے والے شہریوں کو مراعات دے رہا ہے۔

"پنجاب دھی رانی پروگرام” کے تحت غریب گھرانوں کی بیٹیوں کی اجتماعی شادیاں کامیابی سے جاری ہیں اور اب تک صوبے بھر میں سینکڑوں شادیاں ہو چکی ہیں وز یراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر اب اس پروگرام کا دائرہ قیدیوں کی بیٹیوں تک بھی بڑھا دیا گیا ہے، جو قید یوں کی جانب سے اپنی بیٹیوں کی شادیوں کے لیے مدد کی درخواستوں کے بعد کیا گیا ۔ صوبائی وزیر برائے سماجی بہبود و بیت المال پنجاب سہیل شوکت بٹ نے اس توسیع کی تصدیق کرتے ہوئے اسے قیدیوں کی بیٹیوں کے لیے امید کی کرن قرار دیا۔ سکیم کے کامیاب نفاذ کے لیے ڈویژنل ڈائریکٹرز کو اپنے اپنے علاقوں میں قیدیوں کے مکمل ریکارڈ اکٹھے کرنے اور جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔

اسی طرح "سی ایم پنجاب دیہی خواتین کو مویشیوں کے ذریعے بااختیار بنانے کے پروگرام” کے تحت زرعی گھرانوں کی خواتین کو مویشی فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ خود کفیل ہو سکیں۔ سینئر ویٹرنری آفیسر ڈاکٹر جمشید اختر نے اے پی پی کو بتایا کہ بیواؤں اور مطلقہ خواتین کو بھی اس سکیم کے تحت جانور دیے جا رہے ہیں اور لائیو اسٹاک کے شعبے میں ایسی خواتین کی مدد کے لیے کافی کام جاری ہے۔”سی ایم فری سولر پینل اسکیم” بجلی کے بلوں کے بوجھ میں کمی لا رہی ہے، جبکہ "فری بائیکس فار اسٹوڈنٹس” سکیم غریب گھرانوں کے طلبہ کے روزانہ سفری اخراجات کم کرنے میں کامیاب ثابت ہو رہی ہے۔دیہی سطح پر آن لائن سروس فراہم کرنے والے مراکز ان سکیموں کے بارے میں آگاہی پھیلانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ آن لائن سہولت مرکز چلانے والے محمد تنویر نے بتایا کہ آگاہی بڑھنے کے ساتھ دیہی رہائشیوں کی بڑی تعداد مختلف درخواست فارم مکمل کروانے کے لیے ان کے پاس آ رہی ہے۔

برسوں سے علاقے کے بہت سے لوگوں کے لیے اپنے گھر کا خواب دور کی بات تھی، مگر اب یہ حقیقت بدل رہی ہے۔ اس سکیم کے لیے درخواست دہندگان کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ سماجی شخصیت عدیل چودھری نے کہا کہ ان اقدامات کے مجموعی اثرات اب شہری مراکز سے آگے بڑھ کر پنجاب کے دیہی علاقوں تک پہنچ رہے ہیں۔جیسے جیسے یہ اسکیمیں پالیسی سے عملی نفاذ کی طرف بڑھ رہی ہیں، صوبے کا سماجی تحفظاتی نظام مزید وسیع ہونے کو ہے، جو دیرینہ نظرانداز شدہ برادریوں کو ٹھوس ساختی بہتری فراہم کرے گا۔پنجاب کے دیہاتوں اور آنگنوں میں یہ پروگرام محض سرمائے اور مویشیوں کی تقسیم نہیں کر رہے، بلکہ خاموشی سے پسماندہ برادریوں کی کہانی نئے سرے سے لکھ رہے ہیں۔ جہاں کبھی خاموش مایوسی کا راج تھا، وہاں اب خود اعتمادی جنم لے رہی ہے۔ خالی زمین سے اٹھتا گھر، عالمی معیار کی آئی ٹی مہارت سیکھتی نوجوان لڑکی، یا جیل میں بیٹھا وہ باپ جو جانتا ہے کہ اس کی بیٹی کی شادی محفوظ ہے۔ یہ محض الگ تھلگ کامیابی کی کہانیاں نہیں، بلکہ ایک صوبے کے اپنے وعدے کی بازیابی کے زندہ سنگ میل ہیں۔یہ پیش رفت اس بات کی ضمانت ہے کہ ترقی اب ہر شہری کی دہلیز تک پہنچنے والی مستقل حقیقت بن جائے گی۔