وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی سے سپین کے سفیر کارلوس آراگون گل دے لا سرنا کی خیرسگالی ملاقات، مختلف شعبوں سمیت دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے پر تبادلہ خیال

وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی سے سپین کے سفیر کارلوس آراگون گل دے لا سرنا کی خیرسگالی ملاقات، مختلف شعبوں سمیت دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے پر تبادلہ خیال

اسلام آباد۔5اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی سے پاکستان میں سپین کے سفیر کارلوس آراگون گل دے لا سرنا نے بدھ کے روز وزارت میں خیرسگالی ملاقات کی۔ ملاقات میں ثقافت، ورثے کے تحفظ، آثار قدیمہ، عجائب گھروں، ادب، تعلیم اور ثقافتی سفارت کاری کے شعبوں میں پاکستان اور سپین کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے مختلف پہلوئوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کو ثقافتی روابط اور ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے مزید مستحکم بنانے کے مشترکہ عزم کا اظہار کیا گیا۔وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی نے سپین کے سفیر کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سپین کے ساتھ اپنے تاریخی اور ثقافتی تعلقات کو بے حد اہمیت دیتا ہے اور ورثے کے تحفظ، آثار قدیمہ کی تحقیق، عجائب گھروں کی ترقی، ادبی تبادلوں، ثقافتی میلوں اور تعلیمی شراکت داری کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ثقافت اقوام کے درمیان مضبوط پل کا کردار ادا کرتی ہے اور باہمی ہم آہنگی، عوامی روابط اور عالمی امن کے فروغ میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔وفاقی وزیر نے بارسلونا کے اپنے دورے کو یاد کرتے ہوئے اسے ایک یادگار تجربہ قرار دیا اور سپین کے شاندار ثقافتی ورثے، مہمان نوازی اور منفرد طرز تعمیر کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ سپین میں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد کاروبار، ملازمت اور دیگر شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دے رہی ہے جو دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے ہسپانوی کھانوں کو بھی پسندیدگی سے یاد کیا۔اورنگزیب خان کھچی نے 25 اپریل 2007ء کو میڈرڈ میں پاکستان اور سپین کے درمیان طے پانے والی ثقافتی، تعلیمی اور سائنسی تعاون کی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت ادارہ جاتی روابط، طلبہ و ماہرین کے تبادلے، تعلیمی تعاون، معلومات کے تبادلے، اسناد کی باہمی تسلیم شدگی اور ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدامات کی مضبوط بنیاد موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ علامہ محمد اقبال کی شاعری اور فلسفہ سپین میں خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے ’’مسجد قرطبہ‘‘ اور The Reconstruction of Religious Thought in Islam سمیت اقبال کی تصانیف کے ہسپانوی تراجم کا ذکر کرتے ہوئے تجویز دی کہ دونوں ممالک کی جامعات، کتب خانوں اور ثقافتی اداروں کے درمیان اقبالیات، ادبی تبادلوں اور تراجم کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دیا جائے۔وفاقی وزیر نے پاکستان کے عظیم آثار قدیمہ خصوصاً گندھارا اور بدھ مت کے ورثے کو اجاگر کرتے ہوئے سپین کو آثار قدیمہ کے مشترکہ سرویز، تحفظ و بحالی کے منصوبوں، عجائب گھروں کی ترقی، تاریخی مقامات کی مرمت اور ماہرین کی پیشہ ورانہ تربیت میں تعاون کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ اس تعاون سے مشترکہ انسانی ورثے کے تحفظ کے ساتھ ساتھ علمی تحقیق اور ثقافتی روابط کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔انہوں نے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اور سپین کی وزارتِ ثقافت کے درمیان ثقافت اور ورثے کے شعبے میں ایک نئی مفاہمتی یادداشت پر مذاکرات کی بھی تجویز دی جس میں مشترکہ آثارِ قدیمہ کی تحقیق، تحفظ کے منصوبے، عجائب گھروں کے تبادلے، پاکستانی ماہرین کی خصوصی تربیت، ثقافتی میلوں، فنون لطیفہ کی نمائشوں، ادبی تراجم اور تعلیمی تعاون کو شامل کیا جا سکتا ہے۔

وفاقی وزیر نے ثقافتی سفارت کاری کو مزید موثر بنانے کے لیے تشہیری مواد، ثقافتی نمائشوں، آثار قدیمہ کی نمائشوں اور علمی وفود کے باقاعدہ تبادلوں کی اہمیت پر بھی زور دیا۔انہوں نے سپین کے سفیر کو وزارتِ قومی ورثہ و ثقافت کے سالانہ ثقافتی میلے ’’لوک میلہ‘‘ میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال اس میلے میں تقریباً چالیس لاکھ افراد نے شرکت کی تھی۔ انہوں نے سپین کو دعوت دی کہ وہ اپنے روایتی کھانوں، موسیقی، رقص، دستکاری اور دیگر ثقافتی رنگ اس میلے میں پیش کرے تاکہ دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کی ثقافت سے مزید قریب آ سکیں۔وفاقی وزیر نے پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے) کا تعارف بھی کرایا اور سپین کے سفیر کو اسلام آباد میں قائم اس کی مرکزی آرٹ گیلری کے دورے کی دعوت دی تاکہ فنون لطیفہ کے شعبے میں مشترکہ تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔

اس موقع پر سپین کے سفیر کارلوس آراگون گل دے لا سرنا نے پاکستان کے شاندار ثقافتی اور تاریخی ورثے کو سراہتے ہوئے ثقافت، آثار قدیمہ، ورثے کے تحفظ، عجائب گھروں، تعلیم اور ادبی تبادلوں کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ سپین میں مقیم پاکستانی برادری میں ان کے متعدد قریبی دوست ہیں جو ہسپانوی معاشرے میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے سپین کے اسلامی ورثے، تاریخی اسلامی یادگاروں اور خطاطی کی روایات کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان اور سپین کے درمیان وسیع تر ثقافتی اشتراک کی خواہش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ سپین دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے جہاں عالمی ثقافتی ورثے کے سب سے زیادہ مقامات موجود ہیں اور ان کے تحفظ اور فروغ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سپین میں علامہ محمد اقبال کی فلسفیانہ تصانیف کا ہسپانوی زبان میں ترجمہ کیا جا رہا ہے جو سپین کے ساتھ اقبال کے گہرے فکری اور تاریخی تعلق کی عکاسی کرتا ہے۔سفیر نے پشاور اور ٹیکسلا کے عجائب گھروں کے اپنے دوروں کو شاندار تجربہ قرار دیتے ہوئے گندھارا تہذیب اور پاکستان کے آثار قدیمہ کی بھرپور تعریف کی۔ انہوں نے لاہور کی پتنگ بازی کی ثقافت کو بھی سراہا اور نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل) کی بین الاقوامی زبانوں کی تدریس میں خدمات کو قابل تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہسپانوی زبان سیکھنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اس موقع پر سیکریٹری قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اسد رحمان گیلانی نے سفیر کو بتایا کہ اسلام آباد میں جلد بین الاقوامی ادیبوں کی کانفرنس منعقد کی جا رہی ہے جس میں ہسپانوی ادیبوں کی شرکت کا خیرمقدم کیا جائے گا۔ انہوں نے سفیر کو اسلام آباد میوزیم میں قائم گندھارا گیلری کے دورے کی بھی دعوت دی جہاں حال ہی میں وطن واپس لائے گئے نایاب تاریخی نوادرات نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں۔ملاقات کے اختتام پر دونوں شخصیات نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سپین کے درمیان ثقافتی تعاون کو عملی شکل دینے، ادارہ جاتی روابط کو مزید مستحکم بنانے اور دیرینہ دوستانہ تعلقات کو نئی جہت دینے کے لیے باقاعدہ رابطے برقرار رکھے جائیں گے۔

 

مزید خبریں