سعودی اصلاحات کے باعث صحت کی سہولیات کی کوریج 97.5 فیصد تک پہنچ گئی،آئی ایم ایف

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے سعودی عرب میں صحت کے شعبے میں ہونے والی اصلاحات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ان اقدامات سے صحت کے نظام کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

ریاض۔6اگست (اے پی پی):عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے سعودی عرب میں صحت کے شعبے میں ہونے والی اصلاحات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ان اقدامات سے صحت کے نظام کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

العربیہ اردو کے مطابق آئی ایم ایف نے گزشتہ روز اپنی 2026 کی آرٹیکل فور مشاورتی رپورٹ میں بتایا کہ 2025 کے دوران نافذ کی گئی اصلاحات نے صحت کے شعبے کی استعداد بڑھانے اور کارکردگی کے اشاریوں کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں صحت کی سہولیات کی کوریج 97.5 فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ اوسط متوقع عمر79.7 سال ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ صحت کی نگہداشت کے معیار کا اشاریہ 70 فیصد تک پہنچ گیا جو مملکت میں طبی خدمات کی ترقی اور بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔ کی رپورٹ کے مطابق صحت کے شعبے کی پائیداری میں صحت کی مالیاتی پالیسیوں اور وسائل کی موثر تقسیم کے باعث نمایاں بہتری آئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان اقدامات سے صحت کی خدمات کی مسلسل ترقی اور طبی نظام کی کارکردگی کو مزید موثر بنانے میں مدد مل رہی ہے، جو سعودی وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہے۔

آئی ایم ایف کی رپورٹ میں صحت کی خدمات کی بہتری میں مصنوعی ذہانت (AI) کے کردار کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق صحہ ورچوئل ہسپتال تشخیص اور طبی نگہداشت کی خدمات کو موثر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سعودی عرب جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کو بروئے کار لا کر طبی خدمات کے معیار کو مزید بہتر بنانے کی سمت میں پیش رفت کر رہا ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ نے اپنی 2026 کی آرٹیکل فور مشاورتی رپورٹ میں سعودی عرب کے صحت کے شعبے میں اصلاحات کو اجاگر کیا ۔ رپورٹ میں 2025 کے دوران مملکت میں صحت کے شعبے میں کی جانے والی اصلاحات کے اہم نتائج کا جائزہ لیا گیا اور صحت کی کوریج، طبی خدمات کے معیار اور صحت کے نظام کی پائیداری کے اشاریوں میں ہونے والی پیش رفت کو سراہا گیا۔