"راہول گاندھی نے الزام عائد کیا ہے کہ پرامن احتجاج کرنے والے نوجوانوں کو تشدد، دھمکیوں اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ خواتین مظاہرین کو بھی دباؤ کا نشانہ بنایا گیا۔”
طلبا کے گھروں میں غنڈے بھیج کر معافیاں منگوانے کی کوشش کی گئی،راہول گاندھی

مزید خبریں
نئی دلی۔6اگست (اے پی پی):کانگریس کے سابق صدر اورپارلیمنٹ کے ایوان زیرین لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی نے کہا ہے کہ پرامن طور پر احتجاج کرنے والے نوجوانوں کو تشدد، دھمکیوں اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ خواتین مظاہرین کے گھروں میں غنڈے بھیج کر ان سے زبردستی معافی منگوانے کی کوشش کی گئی۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق راہول گاندھی نے مختلف ریاستوں سے آئے ہوئے طلبا کے ساتھ نئی دہلی کے جن پتھ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ طلبا نے آئین ، تعلیمی نظام اور ملک کے مستقبل کےلئے آواز اٹھائی ، مظاہرین نے کسی قسم کا تشدد نہیں کیا لیکن اس کے باوجود ان پر لاٹھیاں برسائی گئیں ، انہیں مارا پیٹا گیا اور انہیں اب بھی مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے۔انہوں نے طلبا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے کوئی غلط کام نہیں کیا لہذا کسی سے معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے۔ راہول گاندھی نے وزیر داخلہ امیت شاہ کو براہ راست نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر پولیس کارروائی ان کے علم کے بغیر ہوئی تو وہ اپنے فرائض انجام دینے میں ناکام رہے ہیں اور اگر یہ ظالمانہ کارروائی ان ہی کے حکم پرہوئی ہے تو پھر وہ اس کے ذمہ دار ہیں ، دونوں صورتوں میں جوابدہی امیت شاہ ہی کی بنتی ہے۔راہول گاندھی نے کہا کہ وزیر اعظم مودی اور امیت شاہ میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ میڈیا کے سامنے آکر اس معاملے پر سوالات کا سامنا کریں۔








