امریکی دارالحکومت واشنگٹن کی وفاقی اپیل کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وائٹ ہاؤس میں 40 کروڑ ڈالر کی لاگت سے نئے وسیع بال روم کی تعمیر کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے منصوبے پر روک لگا دی ہے۔
امریکی اپیل کورٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے 40 کروڑ ڈالر کے وائٹ ہاؤس بال روم منصوبے کو روک دیا

مزید خبریں
واشنگٹن ۔8اگست (اے پی پی):امریکی دارالحکومت واشنگٹن کی وفاقی اپیل کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وائٹ ہاؤس میں 40 کروڑ ڈالر کی لاگت سے نئے وسیع بال روم کی تعمیر کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے منصوبے پر روک لگا دی ہے۔
شنہوا کے مطابق کولمبیا ڈسٹرکٹ کی امریکی کورٹ آف اپیلز کے تین رکنی بینچ نے 2 کے مقابلے میں 1 ووٹسے فیصلہ سنایا، تاہم عدالت نے اپنے فیصلے پر 14 روز کے لیے عمل درآمد روک دیا ہے تاکہ ٹرمپ انتظامیہ سپریم کورٹ سے رجوع کر سکے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ہر صدر وائٹ ہاؤس اور اس کی انتظامی رہائش گاہ کا عارضی مکین ہوتا ہے، مالک نہیں۔ عدالت کے مطابق صدر کو اس جائیداد کے بارے میں یکطرفہ طور پر ایسا اختیار حاصل نہیں جس کے تحت وہ اس میں بڑی تبدیلیاں کر سکے۔فیصلے میں کہا گیا کہ امریکی تاریخ میں اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی کہ کسی صدر نے یکطرفہ طور پر نجی طور پر جمع کیے گئے فنڈز استعمال کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کے بڑے حصے کو منہدم کیا ہو، جس کی تعمیر کانگریس نے منظور اور امریکی ٹیکس دہندگان نے مالی طور پر کی ہو۔
عدالت نے نیشنل ٹرسٹ فار ہسٹورک پریزرویشن کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اکتوبر 2025 میں صرف تین دن کے دوران ٹرمپ نے مبینہ طور پر ضروری مشاورت کیے بغیر اور کانگریس کی اجازت حاصل کیے بغیر وائٹ ہاؤس کی پوری ایسٹ ونگ عمارت مسمار کروا دی تاکہ تقریباً90 ہزار مربع فٹ پر مشتمل بال روم تعمیر کیا جا سکے۔عدالت کے مطابق منصوبے کے لیے نجی فنڈز استعمال کیے جا رہے ہیں اور اس پر کانگریس کی نگرانی بھی نہیں ہے۔وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے متعدد اتحادی اس بال روم منصوبے کی حمایت کر رہے ہیں، تاہم کانگریس میں بعض ری پبلکن ارکان کی جانب سے بھی اس پر تحفظات سامنے آئے ہیں۔جون کے آغاز میں7 ری پبلکن سینیٹرز نے ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر ایک ترمیم کے حق میں ووٹ دیا تھا، جس کا مقصد کانگریس کی منظوری کے بغیر بال روم کی تعمیر یا اس کے لیے فنڈنگ روکنا تھا۔








