پاکستان کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان تیسرے فریق کی ثالث کے طور پر کی جانے والی سفارتی کوششیں بنیادی طور پر تنازعات کے حل کے زمینی حقائق پر مبنی ہیں، جبکہ امن عمل میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ ثالثی کی ناکامی کے بجائے تنازعات کے انتظام کے فطری محرکات کی عکاسی کرتی ہے
امریکہ اور ایران کے درمیان گہری بداعتمادی کے باعث امن کی کوششیں ماند پڑنے پر پاکستان کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا، تجزیہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔8اگست (اے پی پی):پاکستان کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان تیسرے فریق کی ثالث کے طور پر کی جانے والی سفارتی کوششیں بنیادی طور پر تنازعات کے حل کے زمینی حقائق پر مبنی ہیں، جبکہ امن عمل میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ ثالثی کی ناکامی کے بجائے تنازعات کے انتظام کے فطری محرکات کی عکاسی کرتی ہے۔ اس امر کا اظہار ممتاز امریکی آن لائن میگزین ’’ساؤتھ ایشین وائسز ‘‘ میں شائع ہونے والے جغرافیائی سیاسی تجزیےمیں کیا گیا ہے ۔’’جب امن متاثر ہو تو پاکستان کو موردِ الزام کیوں نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے‘‘ کے عنوان سے مضمون میں ابراہیم المراشی نے اپنے تجزیہ میں نشاندہی کی ہے کہ بالخصوص آنجہانی امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم اور بھارت و اسرائیل میں موجود علاقائی ناقدین کی جانب سے ہونے والی تنقید کے تناظر میں طویل المدتی امن کا حصول توقعات سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور مشکل ثابت ہونے پر ثالثوں کو اکثر بلاجواز تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ تجزیہ میں کہا گیا ہے کہ جنگیں ختم کرنا ان لوگوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے سے کہیں زیادہ مشکل کام ہے جو جنگیں شروع کرتے ہیں۔ اس تناظر میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ہونے والی سفارتی کاوشوں کو بین الاقوامی تنازعات کے انتظام کے مسلمہ اصولوں کی روشنی میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔اسلام آباد کی ثالثی سے طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کے ساختی محرکات کو اجاگر کرتے ہوئے مضمون میں وضاحت کی گئی ہے کہ دیرپا جنگ بندی کا قیام بڑی حد تک بروقت اقدام، صبرو تحمل اور تزویراتی محلِ وقوع پر منحصر ہوتا ہے۔ پاکستان نے اپنی منفرد ’’جغرافیائی محلِ وقوع کی سفارتی اہمیت‘‘سے کامیابی سے فائدہ اٹھایا۔ چین اور ایران کے درمیان جغرافیائی طور پر واقع ہونے کے ساتھ ساتھ امریکا کے ساتھ اپنی دیرینہ تزویراتی شراکت داری برقرار رکھنے کے باعث پاکستان تینوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے راستے کھولنے کی پوزیشن میں تھا۔تجزیہ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے ایک درمیانی طاقت کے طور پر وہ سفارتی کامیابی حاصل کی جو 1971 میں اس کے تاریخی کردار کی یاد تازہ کرتی ہے، جب اس نے امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کے چین کے خفیہ دورے میں سہولت فراہم کی تھی۔ 2026 کے موسمِ بہار میں امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کے دوران پاکستان خود کو تعلقات کی ایک منفرد حیثیت کے مرکز میں پاتا رہا۔ مئی 2025 کے تنازع کے بعد واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان تزویراتی قربت میں اضافے کے نتیجے میں، جس میں پاکستان کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنا اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی وائٹ ہاؤس میں میزبانی بھی شامل تھی، پاکستان نے واشنگٹن تک منفرد رسائی برقرار رکھی، جبکہ ایران کے ساتھ اس کی 900 کلومیٹر طویل سرحد بھی ہے۔تجزیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا اثر و رسوخ مالی مراعات یا طاقت کے استعمال پر نہیں بلکہ جغرافیہ، امریکی قیادت تک براہِ راست رسائی اور تہران میں اس کی غیر معمولی ساکھ پر مبنی تھا۔ مغربی ایشیا میں واحد مسلم اکثریتی فوجی اور جوہری طاقت ہونے کے ناطے، جو اسرائیل کی مخالفت کرتی ہے اور جس نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کی واضح مذمت کی تھی، پاکستان نے دونوں متحارب طاقتوں کے درمیان ایک اہم پل کا کردار ادا کیا۔اشاعت کے مطابق سفارتی مداخلت اس لیے کامیاب ہوئی کیونکہ یہ عین اس وقت سامنے آئی جب بین الریاستی تنازع دونوں فریقوں کے لیے "تکلیف دہ تعطل” کی کیفیت تک پہنچ گیا تھا۔ تنازعات کے حل کے ماہر ولیم زارٹمین کی وضع کردہ یہ اصطلاح اس مرحلے کی نشاندہی کرتی ہے جب فریقین جنگ جاری رکھنے کے بجائے مذاکرات کی جانب مائل ہونے لگتے ہیں۔ ثالثی کے لیے موزوں اس مرحلے، جسے ’’ریپنِس‘‘کہا جاتا ہے، کا آغاز اس وقت ہوا جب ایران کی قیادت اور بنیادی ڈھانچے پر امریکا اور اسرائیل کے شدید حملوں کے جواب میں ایران نے خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک میں جوابی کارروائیاں کیں اور آبنائے ہرمز بند کر دی گئی۔7 اپریل کو صدر ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے الٹی میٹم جاری کیے جانے کے بعد ایک بڑی تباہی کو فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایک اہم ٹیلی فون کال کے ذریعے ٹالا گیا، جس میں دونوں فریقوں پر جنگی کارروائیاں روکنے پر زور دیا گیا۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں جنگ بندی ہوئی اور اسلام آباد میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی مذاکرات کاروں کے درمیان 20 گھنٹے سے زائد پر محیط تاریخی براہِ راست مذاکرات کا آغاز ہوا۔ یہ 1979 کے انقلاب کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان اعلیٰ ترین سطح کا براہِ راست رابطہ تھا۔بعد ازاں پیدا ہونے والی کشیدگی اور ایم او یو کی شرائط معطل کیے جانے کے دعووں کا حوالہ دیتے ہوئے المراشی کا کہنا ہے کہ پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانا تیسرے فریق کی ثالثی کی بنیادی نوعیت کو غلط سمجھنے کا نتیجہ ہے۔ تنازعات کے انتظام کے ماہرین، جن میں ہربرٹ کیلمن، جرمن مارشل فنڈ کی گریس ورمِن بول اور قطر میں جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے پروفیسر مہران کامراوا شامل ہیں، کے حوالے سے تجزیہ میں زور دیا گیا ہے کہ گہری نفسیاتی بداعتمادی، تاریخی طور پر اعتماد کا کمزور ہونا اور آبنائے ہرمز سے متعلق ساختی تنازعات دوبارہ پیدا ہونے والی کشیدگی کی بنیادی وجوہ ہیں، نہ کہ ثالث ملک کی کسی ساختی ناکامی کا نتیجہ۔مزید برآں، اشاعت کے مطابق باہمی نقصان اور مشکلات کا احساس وقت کے ساتھ قدرتی طور پر تبدیل ہوتا رہتا ہے، کیونکہ کئی ایسے آزاد عوامل بھی موجود ہوتے ہیں جو کسی ثالث کے اختیار سے باہر ہوتے ہیں۔ ان میں واشنگٹن میں داخلی سیاسی نظام الاوقات، بحیرہ احمر میں اسلامی انقلابی گارڈ کور کی تزویراتی چالیں اور خلیج میں موسمی حالات شامل ہیں۔ تجزیہ میں کہا گیا ہے کہ فوجی کشیدگی اور سیاسی بیان بازی کے باوجود نہ تو واشنگٹن اور نہ ہی تہران نے مجموعی امن عمل کو ترک کیا ہے۔ رپورٹ اس امر پر زور دیتی ہے کہ تیسرے فریق کے ثالث کا بنیادی کام مصنوعی طور پر ’’ریپنِس‘‘ پیدا کرنا نہیں، بلکہ مستقل مزاجی اور قابلِ اعتماد موجودگی برقرار رکھنا ہے، تاکہ جب بھی متحارب فریق مذاکرات کی میز پر واپس آنے کے لیے آمادہ ہوں، اسلام آباد میں مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کیا جا سکے








