پاکستان ریلوے نے قیمتی سرکاری اثاثوں کے تحفظ کے لیے جاری وسیع پیمانے پر انسدادِ تجاوزات مہم کے تحت گزشتہ پانچ مالی سال کے دوران ملک بھر میں قابض شدہ 2,552 ایکڑ اراضی واگزار کرا لی ہے۔وزارت ریلوے کے ایک افسر نے اے پی پی کو بتایا کہ پاکستان ریلوے کے پاس ملک بھر میں مجموعی طور پر 168,858 ایکڑ اراضی ہے
پاکستان ریلوے نے گزشتہ پانچ مالی سالوں کے دوران ملک بھر میں قابضین سے 2,552 ایکڑ قیمتی اراضی واگزار کرا لی
اسلام آباد۔9اگست (اے پی پی):پاکستان ریلوے نے قیمتی سرکاری اثاثوں کے تحفظ کے لیے جاری وسیع پیمانے پر انسدادِ تجاوزات مہم کے تحت گزشتہ پانچ مالی سال کے دوران ملک بھر میں قابض شدہ 2,552 ایکڑ اراضی واگزار کرا لی ہے۔وزارت ریلوے کے ایک افسر نے اے پی پی کو بتایا کہ پاکستان ریلوے کے پاس ملک بھر میں مجموعی طور پر 168,858 ایکڑ اراضی ہے جس میں سے 12,468 ایکڑ، یعنی 7.38 فیصد، اس وقت تجاوزات کی زد میں ہے۔انہوں نے بتایا کہ محکمہ ریلوے نے گزشتہ تین سال کے دوران قابض شدہ اراضی کی واپسی کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کی ہے۔ اس سلسلے میں صوبائی حکومتوں کے تعاون سے ملک گیر انسدادِ تجاوزات مہم شروع کی گئی ہے جبکہ انسپکٹر جنرلز پولیس اور چیف سیکرٹریز سے آپریشنز کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔افسر نے بتایا کہ انسدادِ تجاوزات کے لیے سہ ماہی منصوبے متعارف کرائے گئے ہیں جبکہ قبضہ آرڈیننس 1965 کے تحت قابضین کو قانونی نوٹس جاری کیے جاتے ہیں اور انہیں غیر قانونی طور پر زیر قبضہ اراضی خالی کرنے کے لیے 14 روز کی مہلت دی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلوے کی تمام اراضی کا ریکارڈ ڈیجیٹل اور جیو ریفرنس کیا جا چکا ہے جبکہ اسے پاکستان ریلوے لینڈ مینجمنٹ اینڈ انفارمیشن سسٹم کے ذریعے صوبائی ڈیٹا بیسز سے منسلک کیا گیا ہے۔ یہ نظام موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے بھی دستیاب ہے، جس سے اراضی کی حقیقی وقت میں نگرانی اور مؤثر فیصلہ سازی میں مدد مل رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ سرکاری محکموں کی جانب سے ریلوے کی اراضی پر غیر مجاز قبضے کو ریلوے لینڈ پالیسی کے تحت لیز معاہدوں کے ذریعے قانونی شکل دی جا رہی ہےجبکہ تجارتی نوعیت کی تجاوزات کا ریمیڈیئل پالیسی کے تحت جائزہ لیا جا رہا ہے اور لیز انتظامات کے ذریعے پیشگی پریمیم اور واجبات کی ادائیگی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔افسر نے کہا کہ پاکستان ریلوے غیر قانونی قبضوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرتا ہے اور نئی تجاوزات کی روک تھام کے لیے باقاعدگی سے انسدادِ تجاوزات آپریشنز جاری رکھے ہوئے ہے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران واگزار کرائی گئی مجموعی 2,552 ایکڑ اراضی میں سے پنجاب میں 1,078 ایکڑ، سندھ میں 837 ایکڑ، خیبر پختونخوا میں 419 ایکڑ اور بلوچستان میں 218 ایکڑ اراضی شامل ہے۔انہوں نے بتایا کہ واگزار کرائی گئی اراضی میں 713 ایکڑ تجارتی، 268 ایکڑ رہائشی، 1,564 ایکڑ زرعی جبکہ سات ایکڑ دیگر نوعیت کی اراضی شامل ہے۔








