سندھ میں موٹروے اور قومی شاہراہوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے رواں مالی سال میں 49 ارب 30 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں حیدرآباد۔سکھر موٹروے اور سیلاب سے متاثرہ این-5 کی بحالی سمیت اہم منصوبے شامل ہیں
سندھ میں موٹروے اور ہائی وے منصوبوں کے لیے 49.3 ارب روپے مختص

مزید خبریں
اسلام آباد۔11اگست (اے پی پی):سندھ میں موٹروے اور قومی شاہراہوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے رواں مالی سال میں 49 ارب 30 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں حیدرآباد۔سکھر موٹروے اور سیلاب سے متاثرہ این-5 کی بحالی سمیت اہم منصوبے شامل ہیں۔ ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی)2026-27کے سندھ سے متعلق حصے میں موٹرویز اور قومی شاہراہوں کے نو منصوبے شامل ہیں، جن کی مجموعی منظور شدہ پی سی-ون لاگت 594 ارب 97 کروڑ 70 لاکھ روپے ہے۔ جون 2026 تک ان منصوبوں پر مجموعی طور پر 122 ارب 50 کروڑ 80 لاکھ روپے خرچ کیے جا چکے تھے، جبکہ یکم جولائی 2026 تک باقی ماندہ مالی ضروریات 472 ارب 46 کروڑ 90 لاکھ روپے ریکارڈ کی گئیں۔مالی سال 2026-27 کے لیے مختص رقم میں 8 ارب 5 کروڑ 50 لاکھ روپے مقامی وسائل جبکہ 41 ارب 25 کروڑ روپے غیر ملکی معاونت پر مشتمل ہیں۔سب سے زیادہ 30 ارب روپے 306 کلومیٹر طویل حیدرآباد۔سکھر موٹروے کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ چھ لین پر مشتمل یہ منقسم اور باڑ سے محفوظ موٹروے بلڈ، آپریٹ اینڈ ٹرانسفر (بی او ٹی) کی بنیاد پر تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے۔اس منصوبے کی منظور شدہ لاگت 363 ارب 70 کروڑ روپے ہے، جبکہ باقی ماندہ مالی ضرورت 363 ارب 69 کروڑ 10 لاکھ روپے ہے۔ رواں مالی سال کے لیے مختص 30 ارب روپے میں 2 ارب روپے مقامی وسائل اور 28 ارب روپے غیر ملکی معاونت شامل ہے۔ دستاویزات کے مطابق منصوبے کی خریداری کا عمل نومبر 2026 میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔سیلاب سے متاثرہ قومی شاہراہ این-5 کے مورو سے رانی پور تک کلومیٹر 318 سے 404 کے درمیان شمالی اور جنوبی دونوں کیریج ویز کی بحالی و تعمیر نو اور 32 متاثرہ پلوں کی بحالی کے لیے 9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔اس منصوبے کی مجموعی لاگت 57 ارب 24 کروڑ 50 لاکھ روپے ہے، جس میں سے جون 2026 تک 13 ارب 22 کروڑ 40 لاکھ روپے خرچ کیے جا چکے تھے، جبکہ باقی ماندہ مالی ضرورت 44 ارب 2 کروڑ 10 لاکھ روپے ہے۔ رواں مالی سال کی مختص رقم میں 1 ارب 75 کروڑ روپے مقامی وسائل اور 7 ارب 25 کروڑ روپے غیر ملکی معاونت شامل ہیں۔منصوبے کے لاٹ-1 پر 23 فیصد اور لاٹ-2 پر 19 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ منصوبے کی تکمیل کا ہدف 30 جون 2027 مقرر کیا گیا ہے۔نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے انڈس ہائی وے (این-55) پر شکارپور سے راجن پور کے درمیان 221.9 کلومیٹر طویل اضافی کیریج وے کی تعمیر کے لیے 5 ارب روپے مختص کیے ہیں، جن میں 4 ارب روپے غیر ملکی معاونت شامل ہے۔اس منصوبے کی منظور شدہ لاگت 44 ارب 70 کروڑ 40 لاکھ روپے ہے، جبکہ اب تک 32 ارب 10 کروڑ 80 لاکھ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں اور 12 ارب 59 کروڑ 60 لاکھ روپے کی مالی ضرورت باقی ہے۔منصوبے کے لاٹ-1 پر 24 فیصد، لاٹ-2 پر 21 فیصد، لاٹ-3 پر 79 فیصد اور لاٹ-4 پر 73 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ منصوبے کو اکتوبر 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔چین کے تعاون سے این-5 کے ہالا۔مورو سیکشن کے 66 کلومیٹر حصے کی بحالی کے لیے مزید 2 ارب 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس منصوبے کی منظور شدہ لاگت 27 ارب 97 کروڑ 30 لاکھ روپے ہے، جبکہ خریداری کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔سکھر میں این-5 اور این-65 کے سنگم پر چار لین فلائی اوور اور رابطہ سڑکوں کی تعمیر کے لیے ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ 2 ارب 79 کروڑ 20 لاکھ روپے کے اس منصوبے پر 62 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور فنڈز کی دستیابی سے مشروط اسے 13 اپریل 2027 تک مکمل کرنے کا ہدف ہے۔959 کلومیٹر کراچی۔لاہور موٹروے کے لیے زمین کے حصول، متاثرہ املاک کے معاوضے اور یوٹیلٹی سروسز کی منتقلی کے لیے 80 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ 66 ارب 74 کروڑ 20 لاکھ روپے کے اس منصوبے پر 68 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور فنڈز کی دستیابی سے مشروط اسے دسمبر 2026 تک مکمل کرنے کی توقع ہے۔سکھر۔ملتان موٹروے پر بھونگ انٹرچینج کے لیے 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ 1 ارب 78 کروڑ روپے کے اس منصوبے پر 75 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور اسے 31 اگست 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ کیریک کوریڈور ڈویلپمنٹ انویسٹمنٹ پروگرام ٹرانچ-I کے منصوبوں کے لیے 83 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ سیکشن 1 اور 3 مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ سیکشن 2 پر 95 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔اس کے علاوہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت مجوزہ نئی کراچی۔حیدرآباد موٹروے کی کمرشل فزیبلٹی کے لیے 7 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔








