اڑان پاکستان کے تحت 10 لاکھ نوجوان اپنے علاقوں میں سماجی آگاہی مہم چلائیں گے،وفاقی وزیر احسن اقبال

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور ملک کی آبادی تقریباً 26 کروڑ تک پہنچ چکی ہے جس میں نوجوانوں کا تناسب تقریباً 60 فیصد ہے، تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث غذائیت، صحت، تعلیم اور ابتدائی بچپن کی نشوونما سمیت انسانی وسائل سے متعلق …

اسلام آباد۔12اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور ملک کی آبادی تقریباً 26 کروڑ تک پہنچ چکی ہے جس میں نوجوانوں کا تناسب تقریباً 60 فیصد ہے، تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث غذائیت، صحت، تعلیم اور ابتدائی بچپن کی نشوونما سمیت انسانی وسائل سے متعلق ضروریات پوری کرنا ایک بڑا قومی چیلنج بنتا جا رہا ہے۔وفاقی وزیر نے ان خیالات کا اظہار پاکستان میں غذائیت اور ابتدائی بچپن کی نشوونما کے حوالے سے کثیر شعبہ جاتی مکالمے کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ موجودہ دور انسانی وسائل کی منصفانہ تقسیم اور موثر استعمال کا دور ہے اور پاکستان کے مستقبل کا انحصار اس بات پر ہے کہ آج ہم اپنے بچوں اور نوجوانوں کی صحت، تعلیم اور صلاحیتوں پر کتنی سرمایہ کاری کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تقریباً 40 فیصد بچے نشوونما کی کمی کا شکار ہیں جو ایک سنگین قومی مسئلہ ہے، کسی بھی معاشرے کی صحت مند بنیاد بچوں کی زندگی کے پہلے پانچ سالوں میں استوار ہوتی ہے، بچے کی تعلیم و تربیت بھی پیدائش کے ساتھ ہی شروع ہوجاتی ہے، اس لیے ابتدائی عمر میں اسے ملنے والی غذا، صحت، تربیت اور ماحول اس کی پوری زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ غذائیت کا مسئلہ صرف مناسب خوراک کی فراہمی تک محدود نہیں بلکہ اس کے ساتھ زچہ و بچہ کی صحت، صاف پانی، صفائی ستھرائی اور حفظانِ صحت کے مسائل بھی براہ راست جڑے ہوئے ہیں، ماں اور بچے کی صحت باہم منسلک ہے، اس لیے ان تمام شعبوں میں مربوط اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ زچہ و بچہ کی صحت کے تحفظ کے لیے موثر اقدامات کرے اور اپنے ترقیاتی منصوبوں میں ماں اور بچے کو مرکزی حیثیت دے۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی تعلیم اور ابتدائی بچپن کی معیاری نشوونما کے لیے بھی خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے جبکہ نظام تعلیم میں ابتدائی جماعتوں کے لیے تربیت یافتہ اساتذہ کی فراہمی ناگزیر ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان 2047ء میں آزادی کے 100 سال مکمل کرے گا اور اس وقت ہمیں ایک صحت مند، تعلیم یافتہ، باصلاحیت اور تخلیقی نسل درکار ہوگی، آج بچے جس ماحول میں پرورش پاتے ہیں، اس کے اثرات آنے والے پاکستان کی سماجی اور معاشی ترقی پر مرتب ہوں گے۔انہوں نے اٹھارویں آئینی ترمیم کے تناظر میں کہا کہ 2010ء میں متعدد اہم شعبے صوبوں کو منتقل کیے گئے تاہم اختیارات کی منتقلی کے بعد ان شعبوں میں عوامی خدمات کے معیار میں مطلوبہ بہتری نہیں آسکی۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں کو اختیارات منتقل کیے گئے لیکن ان اختیارات اور وسائل کو نچلی سطح تک موثر انداز میں منتقل کرنے اور مقامی سطح پر خدمات کی فراہمی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ اختیارات کی منتقلی کا بنیادی مقصد عوام کو ان کی دہلیز پر بہتر خدمات فراہم کرنا تھا، صحت، تعلیم، غذائیت اور ابتدائی بچپن کی نشوونما جیسے شعبوں میں بہتری کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں، متعلقہ اداروں اور معاشرے کے تمام طبقات کو مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ وزارت منصوبہ بندی بچوں کی نشوونما اور غذائیت کے مسئلے کو قومی سطح پر اٹھا رہی ہے اور تمام صوبوں کے ساتھ مل کر اس پر کام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے مشترکہ قومی عزم اور مربوط اقدامات ضروری ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے پاس منصوبہ بندی اور پالیسیوں کی کمی نہیں، اصل ضرورت ان پالیسیوں پر موثر عملدرآمد اور تسلسل کو یقینی بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر 2010ء میں ان مسائل پر موثر اقدامات کیے جاتے تو آج پاکستان ان میں سے کئی چیلنجز سے بہت پہلے نکل چکا ہوتا۔انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی کے لیے پالیسیوں میں تسلسل ناگزیر ہے جبکہ افراتفری اور پالیسیوں میں بار بار تبدیلی ترقی کے عمل کو نقصان پہنچاتی ہے، پاکستان کو معاشی ترقی کے ساتھ اپنی سماجی بنیادوں کو بھی مضبوط بنانا ہوگا اور سماجی اہداف کو قومی ترجیحات میں نمایاں مقام دینا ہوگا۔احسن اقبال نے کہا کہ اڑان پاکستان کے تحت نوجوانوں کی استعدادِ کار بڑھانے کے لیے ایک پروگرام شروع کیا جا رہا ہے جس کے تحت دس لاکھ نوجوانوں کو سماجی آگاہی کے سفیر بنایا جائے گا، یہ نوجوان اپنے اپنے علاقوں، محلوں اور برادریوں میں بچوں کی صحت، غذائیت، ابتدائی تعلیم اور نشوونما سمیت اہم سماجی مسائل کے بارے میں آگاہی مہمات چلائیں گے اور معاشرے میں شعور اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ نوجوان پاکستان کی سب سے بڑی طاقت ہیں اور ان کی توانائی کو مثبت سماجی تبدیلی کے لیے بروئے کار لانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی صحت، غذائیت اور ابتدائی نشوونما کے مسائل کو قومی مشن کے طور پر لے کر موثر انداز میں ان پر عملدرآمد کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط اور خوشحال مستقبل چاہتا ہے تو اسے آج ہی اپنے بچوں کی صحت، تعلیم، غذائیت اور تربیت کو قومی ترقی کے مرکز میں رکھنا ہوگا، یہی سرمایہ کاری 2047ء کے پاکستان کی مضبوط بنیاد ثابت ہوگی۔

مزید خبریں