پاکستان کے قرضوں کی صورتحال میں نمایاں بہتری، قرضوں میں اضافے کی شرح 20 سال کی کم ترین سطح پر

اکستان کی معیشت میں استحکام کے نتیجے میں قرضوں کے بوجھ سے متعلق اہم اشاریوں میں نمایاں بہتری سامنے آئی ہے۔ مالی سال 2025-26 میں قرضوں میں اضافے کی شرح 7.7 فیصد کے ساتھ 20 سال کی کم ترین سطح پر آ گئی، قرض سے جی ڈی پی کا تناسب 68 فیصد جبکہ بیرونی قرض سے جی ڈی پی کا تناسب 21.5 فیصد تک کم ہو گیا۔ قرضوں کی مدت …

اسلام آباد۔12اگست (اے پی پی):پاکستان کی معیشت میں استحکام کے نتیجے میں قرضوں کے بوجھ سے متعلق اہم اشاریوں میں نمایاں بہتری سامنے آئی ہے۔ مالی سال 2025-26 میں قرضوں میں اضافے کی شرح 7.7 فیصد کے ساتھ 20 سال کی کم ترین سطح پر آ گئی، قرض سے جی ڈی پی کا تناسب 68 فیصد جبکہ بیرونی قرض سے جی ڈی پی کا تناسب 21.5 فیصد تک کم ہو گیا۔ قرضوں کی مدت میں اضافہ، سودی ادائیگیوں کے بوجھ میں کمی، زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں اضافے اور بیرونی قرضوں پر انحصار میں کمی نے پاکستان کے قرض پروفائل کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ مستحکم بنا دیا ہے۔پاکستان کے قرضوں کے مجموعی پروفائل میں نمایاں بہتری سامنے آئی ہے، جہاں قرضوں میں اضافے کی رفتار گزشتہ دو دہائیوں کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، قرض سے جی ڈی پی کا تناسب کم ہوا ہے، بیرونی قرضوں کا بوجھ نسبتاً محدود ہوا ہے، قرضوں کی اوسط مدت میں اضافہ، ری فنانسنگ اور رول اوور کے خطرات میں کمی، جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔

مالی سال 2025-26 کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے قرضوں میں سالانہ اضافہ 7.7 فیصد رہا، جو گزشتہ 20 سال کے دوران کم ترین شرح ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں قرضوں میں اوسط سالانہ اضافہ تقریباً 16 فیصد رہا، جبکہ مالی سال 2019 میں یہ شرح 31 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔قرض سے جی ڈی پی کا تناسب 68 فیصد تک کمی ہوئی ۔ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط، بنیادی بجٹ سرپلسز اور معاشی استحکام کے اقدامات کے نتیجے میں پاکستان کا Debt-to-GDP Ratio مالی سال 2025-26 میں تقریباً 68 فیصد تک کم ہو گیا ہے، جو مالی سال 2022-23 میں 75 فیصد تھا۔ مالی سال 2019 سے 2021 کے دوران یہ تناسب 86 سے 88 فیصد کی بلند سطح پر پہنچ گیا تھا۔ یہ کمی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ملکی معیشت کے حجم کے مقابلے میں قرضوں کا بوجھ بتدریج کم ہو رہا ہے اور مالیاتی پوزیشن میں استحکام پیدا ہو رہا ہے۔

بیرونی قرض سے جی ڈی پی کا تناسب 9 سال کی کم ترین سطح پر آ گیا۔ پاکستان کے بیرونی قرض سے جی ڈی پی کے تناسب میں بھی نمایاں کمی ہوئی ہے۔ External Debt-to-GDP Ratio تقریباً 21.5 فیصد تک آ گیا ہے، جو تقریباً نو سال کی کم ترین سطح ہے۔مالی سال 2019 سے 2021 کے دوران بیرونی قرض سے جی ڈی پی کا تناسب تقریباً 31 فیصد رہا تھا۔ بیرونی قرضوں کے تناسب میں کمی پاکستان کی بیرونی مالی کمزوری اور شرحِ مبادلہ سے متعلق خطرات کو محدود کرنے میں اہم پیش رفت ہے۔زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں اضافہ میں بہتری آ ئی۔قرضوں کے بہتر ہوتے پروفائل کے ساتھ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے ذخائر مالی سال 2023 کے وسط میں تقریباً 2.9 ارب ڈالر کی بحران زدہ سطح سے بڑھ کر مالی سال 2025-26 میں تقریباً 18.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔اس طرح اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں ساڑھے تین سال کے دوران چھ گنا سے زائد اضافہ ہوا، جو درآمدات کی تقریباً تین ماہ کی ضروریات کو کور کرنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔

پاکستان کے مجموعی سرکاری قرضوں میں بیرونی قرضوں کا حصہ بھی کم ہوا ہے۔ مالی سال 2025-26 میں بیرونی قرض کا حصہ تقریباً 31 فیصد رہ گیا ہے، جو مالی سال 2019 سے 2023 کے دوران 37 سے 38 فیصد تھا۔ اس وقت ملکی اور بیرونی سرکاری قرضوں کا تناسب تقریباً 69:31 ہو گیا ہے۔ قرضوں کے اس تبدیل ہوتے ڈھانچے سے غیر ملکی کرنسی میں قرضوں کی نمائش اور شرحِ مبادلہ کے اتار چڑھاؤ سے پیدا ہونے والے خطرات کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔قرضوں کے فعال انتظام کے تحت حکومت نے مقررہ مدت سے پہلے 4.722 ٹریلین روپے کا سرکاری قرض ریٹائر کیا ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران ہی تقریباً 2.9 ٹریلین روپے کا قرض قبل از وقت ادا کیا گیا، جو مالی سال 2024-25 میں قبل از وقت ریٹائر کیے گئے 1.8 ٹریلین روپے کے مقابلے میں 62 فیصد زیادہ ہے۔یہ اقدامات محض معمول کی قرض ادائیگی کے بجائے فعال Liability Management کا حصہ ہیں، جن کا مقصد ری فنانسنگ اور رول اوور کے خطرات کم کرنا، قرضوں کی لاگت کو بہتر بنانا اور حکومتی نقدی و مالیاتی انتظام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔قرضوں کے فعال انتظام کے نتیجے میں ملکی کرنسی میں قرضوں کی اوسط مدت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

مالی سال 2023-24 میں تقریباً 2.7 سال رہنے والی اوسط مدت مالی سال 2025-26 میں 3.8 سال سے تجاوز کر گئی ہے۔طویل مدت کے قرضوں سے حکومت پر مختصر مدت میں قرض واپس کرنے یا نئے قرض کے ذریعے پرانے قرض کو رول اوور کرنے کا دباؤ کم ہوتا ہے، جس سے مالیاتی استحکام میں مدد ملتی ہے۔ قرضوں کے انتظام میں بہتری کا ایک اہم پہلو سودی ادائیگیوں کے بوجھ میں کمی ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق سودی اخراجات تقریباً 8.9 ٹریلین روپے سے کم ہو کر 6.9 ٹریلین روپے کی سطح پر آئے ہیں۔اسی طرح وفاقی اور صوبائی مجموعی آمدن کے مقابلے میں سودی ادائیگیوں کا حصہ مالی سال 2023-24 کے تقریباً 61 فیصد سے کم ہو کر مالی سال 2025-26 میں تقریباً 35 فیصد رہ گیا ہے۔ یعنی ہر 100 روپے کی مجموعی حکومتی آمدن میں سے سود کی ادائیگی پر خرچ ہونے والی رقم تقریباً 61 روپے سے کم ہو کر 35 روپے کے قریب رہ گئی ہے، جس سے ترقیاتی اور عوامی فلاحی اخراجات کے لیے مالی گنجائش بڑھانے کی استعداد پیدا ہوتی ہے۔

قرضوں کے انتظام کے ساتھ ساتھ حکومت نے مالیاتی نظم و ضبط اور محصولات میں اضافے پر بھی توجہ مرکوز کی ہے۔ مالی سال 2025-26 میں ٹیکس آمدن میں تقریباً 11 فیصد اضافہ ہوا جبکہ قرضوں میں اضافہ 7.7 فیصد رہا۔پاکستان نے مسلسل تین بنیادی بجٹ سرپلسز بھی ریکارڈ کیے ہیں، جو مالیاتی استحکام کی جانب اہم پیش رفت ہے۔ آئی ایم ایف نے بھی پاکستان کی مالی کارکردگی، بنیادی بجٹ سرپلس اور معاشی استحکام کی کوششوں کو نمایاں کیا ہے۔پاکستان نے تقریباً چار سال بعد عالمی کیپیٹل مارکیٹ میں واپسی کرتے ہوئے یورو بانڈ اور پانڈا بانڈ کے ذریعے عالمی سرمایہ کاروں سے سرمایہ حاصل کیا۔ پاکستان کے پانڈا بانڈ کو سرمایہ کاروں کی جانب سے مضبوط ردعمل ملا اور اس کی طلب جاری کردہ حجم سے تقریباً پانچ گنا زیادہ رہی۔ یہ پیش رفت عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری کی علامت قرار دی جا رہی ہے۔

اسی طرح روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ اور نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کے دائرہ کار کو بھی وسعت دی گئی ہے، جس کے ذریعے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور دیگر اہل غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع بڑھائے گئے ہیں۔پاکستان کی معاشی صورتحال میں بہتری کو عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ جولائی 2026 میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ B- سے بڑھا کر B کر دی اور آؤٹ لک مستحکم قرار دیا۔ریٹنگ میں بہتری کے اہم عوامل میں مالیاتی استحکام، محصولات میں بہتری، زرمبادلہ کے ذخائر کی بحالی، اصلاحات پر پیش رفت اور حکومتی قرض سے جی ڈی پی کے تناسب میں کمی شامل ہیں۔

قرضوں کے موجودہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان کی مالیاتی حکمت عملی اب محض قرضوں کے حصول اور فوری مالی ضروریات پوری کرنے تک محدود نہیں رہی بلکہ فعال قرض مینجمنٹ، قرضوں کی مدت میں اضافہ، ری فنانسنگ رسک میں کمی، بیرونی انحصار میں کمی اور مالیاتی گنجائش بڑھانے پر مرکوز ہے۔تاہم معاشی استحکام کو پائیدار ترقی میں تبدیل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ قرضوں کے بہتر انتظام کے ساتھ برآمدات میں اضافہ، نجی شعبے کی سرمایہ کاری، ٹیکس بیس میں توسیع، توانائی کے شعبے میں اصلاحات، سرکاری اداروں کی کارکردگی میں بہتری اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ جاری رکھا جائے۔

تازہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی قرض صورتحال میں درج ذیل نمایاں بہتری سامنے آئی ہے، قرضوں میں اضافہ 7.7 فیصد، 20 سال کی کم ترین سطح؛ تقریباً 68 فیصد؛ڈیبیٹ ٹو جی ڈی پی ریشو،ایکسٹرنل ڈیبٹ ریشو21.5 فیصد، تقریباً 9 سال کی کم ترین سطح، مجموعی سرکاری قرضوں میں بیرونی قرض کا حصہ تقریباً 31 فیصد،زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 18.4 ارب ڈالر؛ 4.722 ٹریلین روپے کا قرض مقررہ مدت سے پہلے ادا، مالی سال 2025-26 میں 2.9 ٹریلین روپے کا قرض قبل از وقت ادا؛ قرضوں کی اوسط مدت 3.8 سال سے زائد؛ سودی ادائیگیوں کا آمدن میں حصہ تقریباً 61 فیصد سے کم ہو کر 35 فیصد؛ مسلسل تین بنیادی بجٹ سرپلسز؛ عالمی کیپیٹل مارکیٹ میں پاکستان کی واپسی؛اور S&P کی جانب سے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری آ ئی ہے ۔

پاکستان کے لیے اب اصل چیلنج اس مثبت سمت کو برقرار رکھنا اور قرضوں کے بہتر ہوتے بنیادی اشاریوں کو مستحکم اقتصادی نمو، سرمایہ کاری، برآمدات، روزگار اور طویل مدتی معاشی لچک میں تبدیل کرنا ہے۔قرضوں کے تیز رفتار اضافے سے قرضوں کے مؤثر انتظام کی طرف، مختصر مدتی ری فنانسنگ کے خطرات سے فعال لائبلٹی مینجمنٹ کی طرف اور بیرونی مالی کمزوری سے مضبوط زرمبادلہ کے بفرز کی طرف پاکستان کی پیش رفت معاشی استحکام کی ایک اہم علامت ہے۔حکومت کی ترجیح اب معاشی استحکام کو پائیدار اور نجی شعبے کی قیادت میں ہونے والی ترقی میں تبدیل کرنا ہے تاکہ بہتر قرض مینجمنٹ کے ثمرات معیشت اور عوام دونوں تک پہنچ سکیں۔