شواہد پر مبنی طرز حکمرانی کو مضبوط بنانے کی جانب اہم پیش رفت، ’’اسٹیٹ آف ٹرانسپیرنسی اِن پاکستان رپورٹ 2026‘‘ جاری
شواہد پر مبنی طرز حکمرانی کو مضبوط بنانے کی جانب اہم پیش رفت، ’’اسٹیٹ آف ٹرانسپیرنسی اِن پاکستان رپورٹ 2026‘‘ جاری

مزید خبریں
اسلام آباد۔12اگست (اے پی پی):پاکستان میں شواہد پر مبنی طرز حکمرانی کو مضبوط بنانے کی جانب اہم پیش رفت کے طور پر ’’اسٹیٹ آف ٹرانسپیرنسی اِن پاکستان رپورٹ 2026‘‘ جاری کر دی گئی جو ملک میں طرز حکمرانی کے معیار کا پہلا قومی سطح پر نمائندہ جائزہ ہے اور پاکستانی شہریوں کے تجربات، تصورات اور توقعات کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔مشعل پاکستان، جو ورلڈ اکنامک فورم کا کنٹری پارٹنر انسٹی ٹیوٹ ہے، کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ میں TARL فریم ورک متعارف کرایا گیا ہے جس میں شفافیت ، احتساب ، قانون کی حکمرانی اور قانونی حیثیت شامل ہیں تاکہ اداروں کی کارکردگی اور عوامی اعتماد کی جامع تصویر پیش کی جا سکے۔
رپورٹ میں چاروں صوبوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت ملک بھر میں 2,000 افراد کے سروے، ماہرین سے مشاورت اور ادارہ جاتی تجزیے کی بنیاد پر پاکستان میں شواہد پر مبنی طرز حکمرانی کا پہلا بنیادی معیار قائم کیا گیا ہے۔رپورٹ کی مرکزی مصنفہ اور مشعل پاکستان کی ڈائریکٹر پرویش چوہدری نے کہا کہ یہ رپورٹ محض ایک تحقیقی اشاعت نہیں بلکہ ایک قومی معیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شفافیت کا مقصد اداروں کو بے نقاب کرنا نہیں بلکہ انہیں مضبوط بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ رپورٹ اس بات کے بارے میں قابل اعتماد شواہد فراہم کرتی ہے کہ کیا بہتر کام ہو رہا ہے اور کہاں بہتری کی ضرورت ہے،اس حوالے سے قابلِ اعتماد شواہد فراہم کرکے رپورٹ باخبر پالیسی سازی، تعمیری عوامی مکالمے اور مسلسل حکمرانی اصلاحات کے لیے مشترکہ بنیاد فراہم کرتی ہے۔
رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے مشعل پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر جہانگیر نے کہا کہ شفافیت اب محض طرز حکمرانی کا اصول نہیں رہی بلکہ یہ ایک قومی اسٹریٹجک صلاحیت بن چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ جو ممالک کھلے پن، احتساب اور اداروں پر اعتماد کو مضبوط کرتے ہیں، وہ سرمایہ کاری راغب کرنے، عوامی خدمات بہتر بنانے اور مضبوط معیشتیں تشکیل دینے کے لیے زیادہ بہتر طور پر تیار ہوتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی گورننس رینکنگز کے برعکس پاکستان ٹرانسپیرنسی رپورٹ اس بات کا جائزہ لیتی ہے کہ شہری روزمرہ زندگی میں حکومتی اداروں کو کس طرح دیکھتے اور ان سے کس طرح تعامل کرتے ہیں۔ رپورٹ نے پالیسی سازوں، پارلیمنٹ، ریگولیٹرز، ترقیاتی شراکت داروں، تعلیمی اداروں، کاروباری شعبے اور سول سوسائٹی کو اصلاحات کے فروغ، ادارہ جاتی کارکردگی میں بہتری اور عوامی اعتماد کے قیام کے لیے عملی شواہد فراہم کیے ہیں۔
رپورٹ کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں گورننس کا مستقبل تیزی سے نوجوانوں کی ترجیحات اور توقعات سے تشکیل پا رہا ہے کیونکہ سروے میں شامل 80 فیصد افراد کی عمریں 18 سے 35 سال کے درمیان تھیں، جو اس نسل کی ترجیحات اور توقعات کی عکاسی کرتی ہیں جو ملک کے مستقبل کا تعین کرے گی۔رپورٹ میں یہ بھی اجاگر کیا گیا کہ سماجی اعتماد پاکستان کے اہم ترین قومی اثاثوں میں شامل ہے۔ 63 فیصد جواب دہندگان نے ان لوگوں پر اعتماد کا اظہار کیا جنہیں وہ ذاتی طور پر جانتے ہیں، 53 فیصد نے عام طور پر لوگوں پر اعتماد کا اظہار کیا جبکہ 52 فیصد نے اجنبی افراد تک پر اعتماد کا اظہار کیا، جو سماجی سرمائے کے مضبوط ذخیرے کی نشاندہی کرتا ہے جس کی بنیاد پر ادارے آگے بڑھ سکتے ہیں۔نتائج سے مزید ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی عوام بین الاقوامی اقتصادی روابط کے لیے کھلے پن کا مظاہرہ کرتے ہیں، جبکہ 46 فیصد جواب دہندگان نے کثیر القومی کمپنیوں پر غیر جانب دار سے مثبت اعتماد کا اظہار کیا۔
رپورٹ میں عوامی اداروں اور جاری اصلاحات پر اعتماد کے حوالے سے بھی حوصلہ افزا رجحانات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ تقریباً ایک تہائی جواب دہندگان نے مالیاتی ذمہ داری، ادارہ جاتی مضبوطی، فلاحی قانون سازی اور انسداد بدعنوانی کے اقدامات میں پارلیمنٹ کی کوششوں کو تسلیم کیا، جبکہ 39 فیصد نے ملک کی معاشی سمت میں بہتری کو تسلیم کیا۔اعلیٰ عدلیہ پر عوامی اعتماد مسلسل عدالتی اصلاحات کے لیے ایک اہم بنیاد فراہم کرتا ہے، جبکہ 40 فیصد افراد نے غیر جانب دار ی سے مثبت اعتماد کا اظہار کیا۔ مسلح افواج ادارہ جاتی اعتماد کے حوالے سے بدستور سب سے بلند مقام پر ہیں جہاں 82 فیصد افراد نے ملکی سرحدوں کے تحفظ میں ان کے کردار کو تسلیم کیا جبکہ 74 فیصد نے دہشت گردی کے خلاف اقدامات میں ان کی خدمات کو تسلیم کیا۔سروے سے مزید ظاہر ہوا کہ پاکستان کے ریگولیٹری اور عوامی اداروں نے عوامی سطح پر نمایاں آگاہی اور روابط حاصل کیے ہیں۔ اہم ریگولیٹرز کے بارے میں آگاہی کی شرح ایف بی آر 95 فیصد، پی ٹی اے اور ہائر ایجوکیشن کمیشن 90 فیصد، نیب 85 فیصد، ایس ای سی پی 78 فیصد، پیمرا 75 فیصد اور اوگرا 65 فیصد رہی۔ڈیجیٹل عوامی خدمات کے بڑھتے ہوئے دائرہ کار کی عکاسی کرتے ہوئے 95 فیصد جواب دہندگان نے ایف بی آر اور 80 فیصد نے پی ٹی اے کے ساتھ رابطے کا بتایا۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ساتھ بھی عوامی روابط برقرار رہے، جہاں 85 فیصد جواب دہندگان نے کمیشن کے ساتھ رابطے کا بتایا جبکہ 76 فیصد نے باقاعدگی سے رابطے کا اظہار کیا۔دریں اثنا، خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) نے بھی تیزی سے قومی سطح پر آگاہی حاصل کی ہے اور حال ہی میں قیام کے باوجود 55 فیصد جواب دہندگان اس ادارے سے آگاہ تھے۔ رپورٹ میں حکمرانی اور شفافیت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم مواقع کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ صرف 7 فیصد جواب دہندگان ریگولیٹری فیصلوں کے خلاف باضابطہ اپیل کے طریقہ کار سے آگاہ تھے، جو قانون سازی میں تبدیلی کے بجائے عوامی آگاہی میں اضافے کے ذریعے شفافیت بہتر بنانے کے اہم موقع کی نشاندہی کرتا ہے۔ رپورٹ کے اہم نتائج میں پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی پر بڑھتا ہوا اعتماد بھی شامل ہے، جبکہ رپورٹ میں پاکستان ٹرانسپیرنسی انڈیکس کی تیاری کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
یہ سالانہ پیمائشی فریم ورک قومی سطح پر تیار کردہ شواہد کے ذریعے ادارہ جاتی کارکردگی، شہریوں کے اعتماد اور حکمرانی اصلاحات کی سال بہ سال نگرانی کو ممکن بنائے گا۔پاکستان ٹرانسپیرنسی رپورٹ 2026 کا مقصد شفافیت، احتساب، قانون کی حکمرانی اور ادارہ جاتی قانونی حیثیت کی پیمائش کے لیے سالانہ قومی معیار کے طور پر کام کرنا، شواہد پر مبنی پالیسی سازی میں معاونت کرنا اور پاکستان کے حکمرانی کے نظام میں مسلسل بہتری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔







