مکہ معاہدہ خطے میں امن،اجتماعی سلامتی و دفاعی تعاون کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت ہے، شفقت عباس ، مجیب الرحمن شامی ، سلمان غنی ودیگر مقررین کاپینل ڈسکشن سے خطاب

ڈائریکٹر جنرل پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ لاہور شفقت عباس نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے میں امن، اجتماعی سلامتی، دفاعی تعاون اور علاقائی استحکام کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، معاہدے کا مقصد کسی ملک کے خلاف محاذ آرائی نہیں بلکہ خطے میں امن، استحکام، باہمی اعتماد اور مشترکہ سلامتی کو فروغ دینا ہے،اختلافات کے حل کے لیے …

لاہور۔12اگست (اے پی پی):ڈائریکٹر جنرل پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ لاہور شفقت عباس نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے میں امن، اجتماعی سلامتی، دفاعی تعاون اور علاقائی استحکام کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، معاہدے کا مقصد کسی ملک کے خلاف محاذ آرائی نہیں بلکہ خطے میں امن، استحکام، باہمی اعتماد اور مشترکہ سلامتی کو فروغ دینا ہے،اختلافات کے حل کے لیے سفارت کاری، مذاکرات اور باہمی تعاون کو ترجیح دی گئی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) لاہور کے زیر اہتمام ’’مکہ معاہدہ امن، سلامتی، استحکام‘‘ کے موضوع پر منعقدہ پینل ڈسکشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

پینل ڈسکشن میں دفاعی تجزیہ کاروں، سینئر صحافیوں، کالم نگاروں، اساتذہ اور پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے افسران نے شرکت کی۔شفقت عباس نے ڈسکشن میں حصہ لینے والے معزز مہمانوں کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدے کا مقصد کسی ملک کے خلاف محاذ آرائی نہیں بلکہ خطے میں امن، استحکام اور مشترکہ سلامتی کو فروغ دینا ہے، اختلافات کے حل کے لیے سفارت کاری، مذاکرات اور باہمی تعاون کو ترجیح دی جانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی اپنی اپنی خصوصی صلاحیتیں وتجربات ہیں اور جب تینوں ممالک کی یہ صلاحیتیں ایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہوں گی تو ایک مضبوط اور موثر قوت سامنے آسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تینوں ممالک کے درمیان تعاون نہ صرف دفاعی بلکہ اقتصادی، سفارتی اور تزویراتی سطح پر بھی مثبت نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔

شفقت عباس نے کہا کہ موجودہ دور میں کسی بھی ملک کی طاقت کا تعین صرف دفاعی صلاحیت سے نہیں بلکہ اس کی معیشت، تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی، انسانی وسائل اور سفارتی اثر و رسوخ سے بھی ہوتا ہے۔ پاکستان کو اپنی نوجوان آبادی، جغرافیائی محل وقوع اور دفاعی صلاحیت کو قومی ترقی کے لیے استعمال کرنا ہوگا۔انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کو اپنی دفاعی کامیابیوں کو معاشی ترقی، تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی، ہنرمندی، تحقیق اور برآمدات کے فروغ میں تبدیل کرنا ہوگا، مضبوط دفاع کے ساتھ مضبوط معیشت ہی پاکستان کو عالمی سطح پر مزید موثر اور باوقار کردار ادا کرنے کے قابل بنا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں امن، باہمی احترام، خودمختاری اور علاقائی استحکام بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، مکہ معاہدہ بھی باہمی تعاون اور اجتماعی سلامتی کے اسی تصور کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بن سکتا ہے ۔

سینئر صحافی و تجزیہ کار مجیب الرحمن شامی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ آٹھ عشروں کے دوران دفاع، سفارت کاری اور خارجہ امور کے میدان میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی سفارتی خدمات انجام دینے والے سفارت کاروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود پاکستان نے دنیا میں اپنا مقام اور وقار بلند کیا ہے، حالیہ پاک بھارت جنگ کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کے قد، اعتماد اور وقار میں اضافہ ہوا ہے، محدود وسائل کے باوجود پاکستان کی عزت میں اضافہ کوئی معمولی بات نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بڑی کمزوری تعلیم کی کمی اور خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں ہم تعلیم پر کم خرچ کر رہے ہیں، جبکہ ہمارے اڑھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ پاکستان کو اپنا تعلیمی نصاب بہتر بنانے کے ساتھ ہنرمندی، سائنس، ٹیکنالوجی اور تحقیق پر خصوصی توجہ دینا ہوگی، قوم نے جب بھی کسی مشکل کا سامنا کیا، وہ سرخرو ہوئی، تاہم کامیابی کے بعد آرام طلبی اختیار کرنے کے بجائے مسلسل محنت، خود احتسابی اور آگے بڑھنے کا عزم برقرار رکھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنی برآمدات میں اضافہ، پیداواری صلاحیت بہتر اور معیشت کو مضبوط بنانا ہوگا، دفاعی کامیابیوں کو معاشی ترقی میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کا پاکستان گزشتہ سال کے پاکستان سے بہتر، زیادہ بااعتماد اور زیادہ پرعزم ہے۔سینئر صحافی سلمان غنی نے کہا کہ بعض اوقات ایسے حالات بھی پیدا ہوتے ہیں جن سے بظاہر شر کے باوجود خیر کے راستے نکلتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدے میں تینوں ممالک کی مختلف نوعیت کی طاقت اور صلاحیتیں یکجا ہوتی ہیں، پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے، سعودی عرب ایک بڑی اقتصادی قوت اور ترکیہ دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی و جنگی سازوسامان کے حوالے سے نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدہ ایک اہم پیش رفت اور اس کا پیغام خطے کے تمام ممالک تک پہنچا ہے، مکہ مکرمہ جیسے مقدس مقام پر اس معاہدے کا ہونا بھی خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے سے تینوں ممالک کے عوام میں خوشی کی لہر دوڑی ہے ،اس کے مثبت اثرات اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری اور معاشی استحکام پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔سلمان غنی نے کہا کہ سعودی عرب نے پاکستان کا ہر مشکل وقت میں ساتھ دیا ہے، پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے بعد بھی سعودی عرب نے پاکستان کے لیے تیل کی فراہمی بحال رکھی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اب دفاع کے ساتھ ساتھ معاشی طور پر بھی مضبوط ہونا ہے ،اس مقصد کے حصول میں سعودی عرب اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملکی قیادت کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط بنانا ہے۔ حالیہ پاک بھارت جنگ کے تناظر میں انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل نے دشمن کو پسپا ہوتے اور پاکستان کی دفاعی صلاحیت کا عملی مظاہرہ دیکھا ہے جس سے قومی اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس اعتماد کو قومی ترقی، تعلیم، معیشت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔دفاعی تجزیہ کار کرنل (ر) عابد نے کہا کہ مکہ معاہدے میں پاکستانی قیادت نے اہم کردار ادا کیا ہے جبکہ فیلڈ مارشل کی ملٹری ڈپلومیسی نے بھی اس حوالے سے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدے کی اہمیت کو محض دفاعی تناظر تک محدود نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس کے وسیع تر علاقائی، تزویراتی، اقتصادی اور سفارتی اثرات ہیں۔انہوں نے کہا کہ اکیسویں صدی یوریشیا کی صدی ہے جبکہ موجودہ دور میں معدنی وسائل کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے، جن علاقوں میں معدنی وسائل موجود ہیں وہ عالمی سطح پر اہمیت اختیار کررہے ہیں، اس تناظر میں بلوچستان اور پاکستان کی جغرافیائی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔کرنل (ر) عابد نے کہا کہ پاک بھارت جنگ کے بعد اللہ تعالی نے پاکستان کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے ہیں اور سیاسی و عسکری قیادت نے ان مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے، مکہ معاہدہ بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے جو پاکستان کی علاقائی اور عالمی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔

سابق وائس چانسلر ہوم اکنامکس یونیورسٹی ڈاکٹر فلیحہ افضل نے کہا کہ موجودہ حکومت کی جانب سے کیے جانے والے متعدد اقدامات امن اور استحکام کی جانب پیش رفت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ پاک بھارت جنگ کے دوران پاکستانی عوام اور نوجوانوں کے جذبات میں آنے والی تبدیلی سب کے سامنے ہے۔انہوں نے کہا کہ پاک بھارت جنگ سے قبل عالمی سطح پر پاکستان کا موقف اس انداز میں نہیں سنا جاتا تھا، تاہم جنگ کے دوران حالات یکسر تبدیل ہوئے اور دنیا نے پاکستان کی صلاحیتوں کو تسلیم کیا، جس سے عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں اضافہ ہوا۔ڈاکٹر فلیحہ افضل نے کہا کہ مکہ معاہدے پر پوری قوم خوش اور اس معاہدے نے پاکستان کے کردار کو مزید نمایاں کیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں مزید مسلم ممالک بھی اس تعاون کا حصہ بنیں گے، پاکستان امن کے لیے جو کردار ادا کررہا ہے، دنیا اس کا اعتراف کررہی اور مکہ معاہدہ پاکستان کے امن پسند کردار کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم دنیا کو اپنے مشترکہ مفادات کے تحفظ، معاشی ترقی، علمی تعاون، دفاعی صلاحیتوں کے فروغ اور علاقائی امن کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔کالم نگار ملک سلمان نے کہا کہ مکہ معاہدہ امن کے لیے ہے ،اس کے ذریعے مسلم ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اور اجتماعی سلامتی کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیت کے ذریعے اقوام عالم میں نمایاں مقام حاصل کیا اور مکہ معاہدہ اس مقام کو مزید مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت نے ملک کے دفاع کو مضبوط بنانے کے ساتھ عالمی سطح پر اس کے وقار میں بھی اضافہ کیا ہے، تاہم مستقبل میں دفاعی طاقت کے ساتھ معاشی استحکام اور قومی ترقی پر بھی بھرپور توجہ دینا ہوگی۔جی سی یونیورسٹی لاہور کی اردو ادب کی پروفیسر ڈاکٹر فرزانہ ریاض نے کہا کہ پاکستانی تہذیب وثقافت کی جڑیں بہت گہری اور قدیم ہیں ، قوم نے اپنی ثقافتی اقدار کو ہمیشہ جوڑے رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مکہ امن معاہدہ محض چند ممالک کے درمیان محدود نوعیت کا معاہدہ نہیں بلکہ اس میں مستقبل میں مزید اقوام کے شامل ہونے کی گنجائش موجود ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ مسلم دنیا میں باہمی اتحاد، تعاون اور امن کے فروغ کا یہ سفر مزید آگے بڑھے گا اور مختلف مسلم ممالک ایک دوسرے کے قریب آکر مشترکہ مسائل کے حل کے لیے موثر کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم ممالک کے درمیان باہمی روابط اور تعاون کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔صحافی نوراللہ نے کہا کہ پاکستان نے اپنے دفاع اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر دور میں اہم کردار ادا کیا ہے،حالیہ پاک بھارت جنگ کے بعد پاکستان کے قومی وقار میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدے کے ذریعے پاکستان ایسے ممالک کے ساتھ مزید مضبوط تعلقات استوار کررہا ہے جن کی معیشت اور دفاعی صلاحیتیں نمایاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت اپنی جگہ ایک اہم طاقت اور اس وقت پاکستان کی علاقائی پوزیشن پہلے سے زیادہ مضبوط ہے، مکہ معاہدہ خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے حوالے سے اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنی مضبوط دفاعی پوزیشن کو معاشی اور سفارتی کامیابیوں میں تبدیل کرنے کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔پینل ڈسکشن کے دوران مقررین نے مکہ معاہدے کے علاقائی، دفاعی، سفارتی، اقتصادی اور سماجی پہلوں پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔ مقررین نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون خطے میں امن، استحکام اور اجتماعی سلامتی کے لیے مثبت پیش رفت ثابت ہوسکتا ہے۔

مقررین نے اس امر پر بھی زور دیا کہ موجودہ عالمی حالات میں مسلم ممالک کو باہمی اختلافات سے بالاتر ہوکر مشترکہ مفادات، امن، ترقی اور اجتماعی سلامتی کے لیے موثر کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدہ خطے میں تعاون کی نئی راہیں کھولنے اور باہمی اعتماد کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔مقررین نے کہا کہ مکہ معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان بڑھتے ہوئے باہمی اعتماد، مشترکہ مفادات اور تعاون کی نئی جہتوں کی عکاسی کرتا ہے۔تینوں ممالک کی دفاعی، اقتصادی، سفارتی اور تزویراتی صلاحیتیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں اور ان کے درمیان مضبوط تعاون خطے میں امن و استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی اور علاقائی حالات میں مسلم ممالک کے درمیان باہمی تعاون، اتحاد، سفارت کاری اور مشترکہ حکمت عملی کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔پینل ڈسکشن کے اختتام پر ڈائریکٹر جنرل پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ لاہور شفقت عباس نے تمام معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم موضوع پر جامع اور بامقصد گفتگو نے مکہ معاہدے کے مختلف پہلوئوں کو سمجھنے میں مدد فراہم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی علمی، فکری اور تجزیاتی نشستیں قومی اور بین الاقوامی امور پر عوامی شعور اجاگر کرنے اور مثبت مکالمے کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔