ایڈووکیٹ سپریم کورٹ پاکستان اور آئینی و بین الاقوامی قانون کے ماہر حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا ہے کہ 14 اگست محض قومی کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں بلکہ پاکستان کے قیام کے لیے برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخی سیاسی اور آئینی جدوجہد کی تکمیل کی علامت ہے، یومِ آزادی ہمیں اس عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ پاکستان کو ایک آئینی، جمہوری، خوشحال، منصفانہ اور …
یومِ آزادی قومی احتساب اور بہتر مستقبل کی تعمیر کا دن ہے،حافظ احسان احمد کھوکھر
اسلام آباد۔13اگست (اے پی پی):ایڈووکیٹ سپریم کورٹ پاکستان اور آئینی و بین الاقوامی قانون کے ماہر حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا ہے کہ 14 اگست محض قومی کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں بلکہ پاکستان کے قیام کے لیے برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخی سیاسی اور آئینی جدوجہد کی تکمیل کی علامت ہے، یومِ آزادی ہمیں اس عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ پاکستان کو ایک آئینی، جمہوری، خوشحال، منصفانہ اور فلاحی ریاست بنایا جائے۔اپنے انٹرویو میں حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا کہ 14 اگست 1947 کو پاکستان ایک آزاد ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ قیامِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح اور آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت میں ایک طویل سیاسی جدوجہد کا نتیجہ تھا، جبکہ 23 مارچ 1940 کی قراردادِ لاہور نے مسلمانوں کے لیے الگ وطن کے مطالبے کو فیصلہ کن سیاسی بنیاد فراہم کی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان انتہائی مشکل حالات میں معرضِ وجود میں آیا۔ تقسیم کے نتیجے میں لاکھوں افراد نے ہجرت کی، انسانی المیے نے جنم لیا اور نئی ریاست کو محدود وسائل کے باوجود حکومتی ادارے قائم کرنے، مہاجرین کی آبادکاری، معیشت کی تعمیر، ملکی دفاع اور آئینی نظام کی تشکیل جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔حافظ احسان احمد کھوکھر کے مطابق پاکستان کی تاریخ کو صرف مشکلات کے تناظر میں نہیں دیکھا جاسکتا بلکہ یہ بقا، ادارہ سازی اور قومی کامیابیوں کی بھی داستان ہے۔ پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود سول انتظامیہ، عدلیہ، مسلح افواج، سفارتی سروس، مرکزی بینکاری نظام، جامعات اور معاشی ادارے قائم کیے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آئینی سفر قراردادِ مقاصد 1949، 1956 اور 1962 کے آئین سے گزرتا ہوا 1973 کے آئین تک پہنچا، جس نے پارلیمانی طرزِ حکومت، وفاقیت، بنیادی حقوق اور نمائندہ اداروں پر مبنی موجودہ آئینی ڈھانچے کی بنیاد رکھی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دفاع، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی اہم سنگِ میل عبور کیے۔ پاکستان کی نوجوان آبادی اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانی بھی قومی اثاثہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنی موجودہ انتظامی ساخت کا بھی جائزہ لینا چاہیے اور نئے صوبوں یا چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام کے معاملے پر آبادی، جغرافیہ، انتظامی ضروریات اور معاشی استعداد کی بنیاد پر سنجیدہ قومی بحث ہونی چاہیے۔ تاہم ایسی اصلاحات آئینی طریقہ کار اور سیاسی اتفاقِ رائے کے تحت ہونی چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ بااختیار بلدیاتی نظام بھی ناگزیر ہے۔ آئین کا آرٹیکل 140 اے صوبوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ بلدیاتی نظام قائم کرتے ہوئے سیاسی، انتظامی اور مالی ذمہ داریاں منتخب مقامی نمائندوں کو منتقل کریں۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح اور پاکستان کے لیے قربانیاں دینے والے لاکھوں افراد کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ صرف یومِ آزادی منانا نہیں بلکہ ایسا پاکستان تعمیر کرنا ہے جو آئینی، جمہوری، خوشحال، منصفانہ اور فلاحی ریاست ہو، جہاں ہر شہری عزت، تحفظ اور مساوی مواقع کے ساتھ زندگی گزار سکے۔









