پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی( ایس ڈی پی آئی ) کے زیر اہتمام اعلیٰ سطحی قومی مباحثے میں سیاسی رہنماؤں، پالیسی سازوں، ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے پاکستان میں طرز حکمرانی اور عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنانے کے طریقوں پر تفصیلی غور کیا۔
ایس ڈی پی آئی کے زیر اہتمام اعلیٰ سطحی قومی مباحثے، طرزِ حکمرانی مضبوط بنانے کے لیے نئے صوبوں، انتظامی یونٹس اور بلدیاتی اصلاحات کا جائزہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔13اگست (اے پی پی):پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی( ایس ڈی پی آئی ) کے زیر اہتمام اعلیٰ سطحی قومی مباحثے میں سیاسی رہنماؤں، پالیسی سازوں، ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے پاکستان میں طرز حکمرانی اور عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنانے کے طریقوں پر تفصیلی غور کیا۔ مباحثے میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام، بااختیار بلدیاتی حکومتوں، مالیاتی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، ادارہ جاتی اصلاحات اور حکومتی ڈھانچے کو عوامی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے سمیت مختلف اصلاحاتی تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔
شرکا نے عوام کو بہتر حکمرانی، موثر نمائندگی اور بنیادی سہولیات تک آسان رسائی فراہم کرنے کے لئے آئینی تقاضوں، عوامی حمایت، مالیاتی پائیداری اور انتظامی صلاحیت کو بنیادی معیار بنانے کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا ۔ شرکا نے حکمرانی کے موزوں ڈھانچے اور انتظامی اکائیوں کے حجم کے بارے میں مختلف آراء پیش کیں۔وفاقی وزیر برائے قومی صحت، ضوابط و رابطہ کاری سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ انتظامی ڈھانچے میں کسی بھی تبدیلی کو بنیادی طور پر اس پیمانے پر پرکھا جانا چاہئے کہ آیا اس سے عوام میں محرومی اور عدم شمولیت کا احساس کم ہوتا ہے اور انہیں بہتر خدمات میسر آتی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ چھوٹی انتظامی اکائیاں حکومت کو عوام کے قریب لا سکتی ہیں تاہم صوبوں کی تعداد خواہ کتنی بھی ہو، بااختیار بلدیاتی حکومتیں موثر حکمرانی کا لازمی حصہ رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کی تجاویز کو عوامی حمایت حاصل ہونی چاہئے۔وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے بامعنی اختیارات کی منتقلی میں مالی وسائل کی کمی کی نشاندہی کرتے ہوئے تجویز دی کہ قومی، صوبائی اور بلدیاتی انتخابات ایک ہی وقت میں کرائے جائیں اور ان کے لئے یکساں مدت مقرر ہو۔ انہوں نے بلدیاتی اداروں کو مقررہ مدت سے پہلے تحلیل ہونے سے آئینی تحفظ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔پارلیمانی سیکریٹری برائے اطلاعات و نشریات بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ نئے صوبوں کا معاملہ آئین اور شواہد کی بنیاد پر آگے بڑھایا جانا چاہئے۔
انہوں نے سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے پر بھی زور دیا۔پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وفاقی وزیرِ اطلاعات قمر زمان کائرہ نے کہا کہ انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کی بحث نئی نہیں تاہم اصلاحات کا عمل اس احتیاط سے آگے بڑھایا جانا چاہئے کہ وسائل کی تقسیم کے حوالے سے بین الصوبائی یا علاقائی حساسیت مزید نہ بڑھے۔پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی ندیم افضل چن نے کہا کہ سیاسی اور ریاستی اداروں کو مل کر اتفاق رائے پر مبنی اصلاحاتی ایجنڈا تشکیل دینا چاہئے۔ انہوں نے عدالتی و انتخابی اصلاحات، سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری عمل اور قانون کی حکمرانی کو بھی حکمرانی کی بہتری سے جڑے اہم شعبے قرار دیا اور کہا کہ انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کی ہر تجویز آئینی دائرے میں رہ کر ہونی چاہئے۔
جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا کہ نئے صوبوں کا قیام اور بلدیاتی حکومتوں کی مضبوطی وسیع تر مالیاتی اور آئینی اصلاحات کے ساتھ زیر غور آنی چاہئے۔ انہوں نے وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل، پانی اور دیگر آئینی معاملات پر اختلافات کے حل کے لئے مشترکہ مفادات کونسل کے زیادہ موثر کردار کی ضرورت پر زور دیا۔سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے ریاستی اداروں پر عوام کے کم ہوتے اعتماد اور حد سے بڑھی ہوئی مرکزیت کو پاکستان کے بڑے حکمرانی مسائل قرار دیا۔ انہوں نے تین سطحی این ایف سی نظام کی تجویز دی ۔انہوں نے کہا کہ جہاں نئے صوبوں کے قیام کی مضبوط عوامی خواہش موجود ہو، وہاں اس پر غور کیا جانا چاہئے تاہم بڑے یا چھوٹے صوبوں کے معاشی فوائد اور نقصانات کا فیصلہ قیاس کے بجائے شواہد کی بنیاد پر ہونا چاہئے۔
سابق میئر لاہور میاں عامر محمود نے نئے صوبوں کے قیام پر شواہد کی بنیاد پر غور کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اصل مقصد محض علاقائی تقسیم نہیں بلکہ عوام کی فلاح اور سرکاری خدمات تک آسان رسائی ہونا چاہئے۔ انہوں نے منتخب نمائندوں کے زیادہ موثر احتساب، سیاسی جماعتوں کو مضبوط بنانے اور صوبوں سے اختیارات کو مزید نچلی سطح تک منتقل کرنے پر زور دیا۔وزیراعظم کے معاون برائے تجارت رانا احسان افضل نے کہا کہ بحث کو صرف صوبوں کی تعداد تک محدود نہیں رہنا چاہئے بلکہ اسے عمودی اختیارات کی منتقلی اور مالی طور پر خودمختار، تسلسل کے ساتھ کام کرنے والی اور بااختیار بلدیاتی حکومتوں کے وسیع تر سوال سے جوڑنا چاہئے۔ایم کیو ایم پاکستان کی رہنما اور رکن قومی اسمبلی آسیہ اسحاق نے موثر انتظامیہ کے لئے چھوٹے صوبوں کے قیام کی حمایت کی۔
انہوں نے چھوٹی انتظامی اکائیوں کے ساتھ ایک مضبوط بلدیاتی نظام کی ضرورت پر زور دیا جس کے اختیارات آئین کے آرٹیکل 140-A کے تحت واضح طور پر متعین ہوں۔رکن قومی اسمبلی اور سابق چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی نور عالم خان نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام سے پہلے اور اس کے ساتھ ساتھ جامع حکمرانی اصلاحات ضروری ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبوں کے قیام سے متعلق آئین کے آرٹیکل 239 اور پارلیمان میں دو تہائی اکثریت کی آئینی شرط کی مکمل پاسداری ضروری ہے۔معاشی ماہر اور سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر فرخ سلیم نے بڑی تعداد میں نئے صوبے بنانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ادارہ جاتی کمزوریوں کو دور کرنا ضروری ہے۔ سینئر صحافی اور تجزیہ کار محمد ملک نے کہا کہ اداروں کے رویے اور سیاسی ثقافت میں تبدیلی کے بغیر محض انتظامی ڈھانچے کی تبدیلی موثر ثابت نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بنیادی طور پر ادارہ جاتی صلاحیت کے بحران کا سامنا ہے جسے صرف نئی انتظامی اکائیاں قائم کرکے حل نہیں کیا جا سکتا۔سابق وفاقی وزیر اور خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کے سابق مشیر بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ نئے صوبوں کی طرف کسی بھی پیش رفت سے پہلے وسیع سیاسی اتفاقِ رائے ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر ایسے اقدام کی قانونی اور سیاسی حیثیت متنازع ہو سکتی ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ پارلیمان اور تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی پر مشتمل ایک قومی کمیشن قائم کیا جائے جو تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد اس معاملے پر سفارشات مرتب کرے۔اختتامی کلمات میں ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ قومی مکالمے نے اس امر کی اہمیت واضح کی ہے کہ حکمرانی کے مختلف ماڈلز اور اصلاحاتی تجاویز کو ایک ہی پالیسی فورم پر زیر بحث لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ شرکا نے نئے صوبوں اور انتظامی اکائیوں کے بارے میں مختلف آراء پیش کیں تاہم موثر بلدیاتی حکومتوں، بامعنی مالیاتی اختیارات کی منتقلی اور بہتر عوامی خدمات کی فراہمی کو مستقبل کے کسی بھی حکمرانی کے نظام کے اہم اجزاء قرار دینے پر نمایاں اتفاق پایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مکالمہ کسی ایک ساختی حل کو حتمی قرار دینے کے بجائے مزید غور، تحقیق اور شواہد کی بنیاد پر پالیسی سازی کے لئے اہم نکات سامنے لانے میں کامیاب رہا۔مکالمے میں ڈاکٹر خاقان حسن نجیب، سابق مشیر وزارتِ خزانہ، محمد علی درانی، سابق وفاقی وزیر اور ہارون الرشید، صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سمیت دیگر مقررین نے بھی اظہار خیال کیا۔








