پاکستان میں فلپائن کے سفیر ڈاکٹر ایمانوئل آر فرنانڈیز نے پاکستان کے 80ویں یوم آزادی کے تاریخی موقع پر حکومت اور عوام کو دلی مبارکباد پیش کی ہے۔یہاں جاری ایک پیغام میں فلپائنی سفیر نے قومی اقتصادی خوشحالی کے حصول کے لیے پاکستان کی مسلسل اور پُرعزم کوششوں کو سراہا۔
فلپائن کے سفیر کی پاکستانی قوم کو 80ویں یوم آزادی پر مبارکباد

مزید خبریں
اسلام آباد۔14اگست (اے پی پی):پاکستان میں فلپائن کے سفیر ڈاکٹر ایمانوئل آر فرنانڈیز نے پاکستان کے 80ویں یوم آزادی کے تاریخی موقع پر حکومت اور عوام کو دلی مبارکباد پیش کی ہے۔یہاں جاری ایک پیغام میں فلپائنی سفیر نے قومی اقتصادی خوشحالی کے حصول کے لیے پاکستان کی مسلسل اور پُرعزم کوششوں کو سراہا۔
اسلام آباد میں فلپائن کے سفارتخانے نے میزبان ملک کے ساتھ یوم آزادی کی تقریبات میں شرکت کے لیے اپنے دفاتر دن بھر کے لیے باضابطہ طور پر بند رکھے۔سفیر ایمانوئل آر فرنانڈیز نے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تعلقات سات دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط ہیں اور تجارت اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر مشتمل ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت 3,500 سے زائد فلپائنی باشندوں اور کارکنوں کی ایک متحرک کمیونٹی کا میزبان ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ متحرک سفارتی تبادلہ حال ہی میں جون 2026 میں بھی دیکھنے میں آیا، جب پاکستانی قیادت نے فلپائن کے 128ویں یوم آزادی کے موقع پر اسی طرح دلی مبارکباد پیش کی۔سفیر ایمانوئل آر فرنانڈیز نے کہاکہ دونوں ممالک قومی شناخت، ثقافتی ورثے اور عام شہریوں کی امن، وقار اور مواقع کی خواہشات کے لیے گہری قدر و منزلت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان مشترکہ تجربات نے اس خیرسگالی اور باہمی احترام کو فروغ دینے میں مدد دی ہے جو سات دہائیوں سے زائد عرصے سے فلپائن اور پاکستان کے تعلقات کی خصوصیت رہے ہیں۔
خودمختاری کے گہرے مفہوم پر روشنی ڈالتے ہوئے سفیر نے زور دیا کہ حقیقی آزادی کے لیے معاشرتی اقدار سے مسلسل وابستگی ضروری ہے۔انہوں نے کہاکہ جب ہم اپنی تاریخ پر غور کرتے ہیں تو ہمیں یاد رہتا ہے کہ آزادی صرف خودمختاری کے دفاع کے ذریعے برقرار نہیں رہتی بلکہ ان اقدار سے وابستگی کے ذریعے بھی قائم رہتی ہے جو آزادی کو معنی عطا کرتی ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ معاشرے اس وقت ترقی کرتے ہیں جب وہ ہر فرد کے وقار کا احترام کرتے ہیں، انصاف اور قانون کے سامنے مساوات کو برقرار رکھتے ہیں اور دوسروں کی فلاح و بہبود کے لیے ہمدردی، احساس اور فکر کو فروغ دیتے ہیں۔








