"افغان طالبان حکومت نے مبینہ طور پر خفیہ طور پر ’ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ‘ (ای ٹی آئی ایم) کے 70 جنگجوؤں کو بھاری اسلحہ سمیت بدخشاں صوبے میں تعینات کرنے کا حکم دیا ہے۔”
افغان طالبان حکومت کا خفیہ طور پر’’ایسٹ ترکستان اسلامی تحریک ‘‘کے 70 جنگجوؤں کو بدخشاں میں تعینات کا حکم

مزید خبریں
اسلام آباد۔15اگست (اے پی پی):افغان طالبان حکومت نے خفیہ طور پر’’ ایسٹ ترکستان اسلامی تحریک ‘‘ (ای ٹی آئی ایم )کے 70 جنگجوؤں کو بھاری اسلحہ کے ساتھ بدخشاں صوبے میں تعینات کرنے کا حکم دیا ہے ۔
ایک سرکاری دستاویز سے انکشاف کیا گیا ہے کہ طالبان کی جنرل انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ نے 70 غیر ملکی ایغور "ایسٹ ترکستان اسلامی تحریک” (ای ٹی آئی ایم ) کے جنگجوؤں، جنہیں دستاویز میں "مسلم ایغور مجاہدین” کہا گیا ہے، کو درجنوں ہتھیاروں سمیت بدخشاں صوبے میں تعینات کرنے کا حکم دیا۔دستاویز کے مطابق طالبان کی جنرل انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹوریٹ آف آپریشنز کی ہدایت پر بغلان صوبے کی انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے بدخشاں کی انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کو ایک خط بھیجا گیا، جس میں مقامی بدخشاں انٹیلی جنس حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان جنگجوؤں کی تعیناتی اور موجودگی کو خفیہ رکھنے کو یقینی بنائیں۔یہ انکشاف ایک نادر دستاویزی ثبوت فراہم کرتا ہے کہ طالبان حکومت آج بھی افغان سرزمین پر غیر ملکی عسکریت پسند نیٹ ورکس کی میزبانی کر رہی ہے اور انہیں فعال طور پر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر رہی ہے۔ یہ انکشاف ا یسے وقت سامنے آیا ہے جب طالبان حکومت کے عالمی برادری سے کیے گئے اس وعدے کو پانچ سال گزر چکے ہیں کہ وہ بین الاقوامی دہشت گرد گروپوں سے اپنے تعلقات منقطع کر لے گی۔طالبان کی حکومت کے تحت افغانستان کا سکیورٹی منظرنامہ مستحکم ہونے کے بجائے یہ ظاہر کر رہا ہے کہ ریاستی انٹیلی جنس کے ڈھانچے کو ’’ایسٹ ترکستان اسلامی تحریک ‘‘ (ای ٹی آئی ایم ) جیسے گروپوں کو پناہ دینے اور سرکاری رازداری کی آڑ میں دوبارہ تعینات کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ طرزِ عمل مربوط اور جوابدہ حکمرانی کے کسی بھی دعوے کی نفی کرتا ہے اور خطے میں جاری عدم استحکام میں ایک اور اضافہ ہے








