خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان کی 24 وادیوں میں 286 پیشگی انتباہی نظام کی تنصیب کا منصوبہ

پاکستان 3 کروڑ 70 لاکھ ڈالر مالیت کے گلوف۔II منصوبے کے تحت گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کی 24 حساس وادیوں میں 286 پیشگی انتباہی نظام نصب کر رہا ہے تاکہ برفانی جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب اور دیگر موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کی تیاری کو مضبوط بنایا جا سکے۔

اسلام آباد۔16اگست (اے پی پی):پاکستان 3 کروڑ 70 لاکھ ڈالر مالیت کے گلوف۔II منصوبے کے تحت گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کی 24 حساس وادیوں میں 286 پیشگی انتباہی نظام نصب کر رہا ہے تاکہ برفانی جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب اور دیگر موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کی تیاری کو مضبوط بنایا جا سکے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب ایک سرکاری دستاویز کے مطابق وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری نے پیشگی انتباہی نظام، گلوف کے خطرات میں کمی اور گلیشیئرز کے تحفظ کے لیے متعدد اقدامات شروع کیے ہیں۔گلوف۔II منصوبے میں شامل 24 وادیوں میں سے 18 گلگت بلتستان اور 6 خیبرپختونخوا میں واقع ہیں۔

دستاویز کے مطابق منصوبے کی مجموعی لاگت 3 کروڑ 70 لاکھ ڈالر ہے۔وزارت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات میں گلوف۔II کے تحت نصب پیشگی انتباہی نظام کو فعال کرکے پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ (پی ایم ڈی) کے حوالے کرنا بھی شامل ہے۔گلوف کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ادارہ جاتی نظام مضبوط بنانے کی غرض سے مئی 2026 میں گلوف رسک ریڈکشن پر تکنیکی کمیٹی قائم کی گئی۔ وزارت نے اگست 2025 میں علاقائی گلیشیئرز کے تحفظ کا اقدام بھی وزیراعظم آفس کو پیش کیا تھا۔دستاویز کے مطابق اس اقدام میں موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت کے لیے مالی وسائل میں اضافہ، علاقائی تعاون اور معلومات کے تبادلے کو مضبوط بنانے، سیٹلائٹ نگرانی اور جدید سینسرز کے استعمال، مختلف قدرتی خطرات کے لیے پیشگی انتباہی نظام میں توسیع اور قدرتی و موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ بنیادی ڈھانچے کے فروغ کی تجاویز شامل ہیں۔

گلوف۔II کے علاوہ سسٹین ایبل ایکشن فار ایکوسسٹم ریسٹوریشن اِن پاکستان (سیفر) منصوبے کے تحت بھی5پیشگی انتباہی نظام شامل ہیں، جن میں سے4گلگت بلتستان اور ایک خیبرپختونخوا میں ہے۔ دستاویز کے مطابق ان نظاموں کی لاگت 18 لاکھ 60 ہزار ڈالر ہے جبکہ سیفر منصوبے کی مجموعی لاگت ایک کروڑ ڈالر ہے۔خیبرپختونخوا میں بونیر اور شانگلہ منصوبے کے تحت مزید 2 پیشگی انتباہی نظام شامل ہیں، جن میں سے ایک بونیر اور ایک شانگلہ میں قائم کیا جائے گا۔ ان نظاموں کی لاگت 4 لاکھ 50 ہزار ڈالر بتائی گئی ہے جبکہ پورے منصوبے کی مجموعی لاگت 90 لاکھ ڈالر ہے۔دوسری جانب نیشنل ایڈاپٹیشن پلان (این اے پی) منصوبے کے تحت ملک بھر میں نصب تمام پیشگی انتباہی نظاموں کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔

دستاویز کے مطابق اس کی لاگت 14 لاکھ ڈالر ہے جبکہ پورے منصوبے کی لاگت 29 لاکھ ڈالر ہے۔دستاویز میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے ٹیلرڈ انٹیلی جنس فار ایکشن ایبل ارلی وارننگ سسٹم (ٹی آئی اے ای ڈبلیو ایس) کو بھی اس شعبے میں جاری اقدامات میں شامل کیا گیا ہے۔مجموعی طور پر ان اقدامات میں پیشگی انتباہی بنیادی ڈھانچے کی تنصیب، موجودہ نظاموں کا جائزہ، گلیشیئرز کی نگرانی، ادارہ جاتی رابطہ کاری اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کی تیاری کو مضبوط بنانے کے مختلف اقدامات شامل ہیں۔