پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر محی الدین احمد وانی نے کہا ہے کہ گراس روٹ سے سینئر لیول تک ہاکی کے مکمل نظام کو بہتر بنانا ہماری ترجیح ہے۔ انہوں نے بیان میں کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ 3 سے 5 سالہ طویل المدتی حکمت عملی کے تحت ہاکی کے پورے نظام کو ازسرنو تعمیر کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ترجیح صرف ایک ٹورنامنٹ جیتنا نہیں …
گراس روٹ سے سینئر لیول تک ہاکی کے مکمل نظام کو بہتر بنانا ترجیح ہے،صدر پی ایچ ایف

مزید خبریں
لاہور۔16اگست (اے پی پی):پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر محی الدین احمد وانی نے کہا ہے کہ گراس روٹ سے سینئر لیول تک ہاکی کے مکمل نظام کو بہتر بنانا ہماری ترجیح ہے۔ انہوں نے بیان میں کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ 3 سے 5 سالہ طویل المدتی حکمت عملی کے تحت ہاکی کے پورے نظام کو ازسرنو تعمیر کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ترجیح صرف ایک ٹورنامنٹ جیتنا نہیں بلکہ گراس روٹ سے سینئر لیول تک ہاکی کے مکمل نظام اور ماحول کو بہتر بنانا ہے۔
اس مقصد کے لیے سکول ہاکی سے شروع ہو کر ڈسٹرکٹ، صوبائی اور قومی چیمپئن شپ تک ایک شفاف نظام تشکیل دیا جا رہا ہے جس کے ذریعے کھلاڑی اپنی صلاحیت اور کارکردگی کی بنیاد پر قومی سینئر ٹیم تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نیدرلینڈز، بیلجیئم، جرمنی جیسے ممالک کی طرز پر مضبوط انفراسٹرکچر اور جدید ٹریننگ ماڈل نافذ کیا جائے گا۔ غیر ملکی ماہرین کے تعاون سے پاکستانی کوچز کی جدید خطوط پر تربیت کی جائے گی جبکہ قومی ٹیموں کے بیرون ملک دوروں اور غیر ملکی ٹیموں کو پاکستان مدعو کرنے کے لیے بھی ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نمائندگی کرنے والے کھلاڑیوں کے لیے بہتر اور پرکشش مالی مراعات کے ساتھ محفوظ مستقبل کا پاتھ وے بھی یقینی بنایا جائے گا۔ منصوبے کے تحت آئندہ 5 سال میں ملک بھر میں آسٹرو ٹرفس کی تعداد 52 سے بڑھا کر 100 کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ ہر گرائونڈ پر فعال کوچنگ، باقاعدہ مقابلوں اور گرلز ہاکی کے فروغ کو لازمی قرار دیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ منصوبے کے پہلے سال میں بنیادی ڈھانچے اور گراس روٹ نظام قائم کیا جائے گا، دوسرے سال اکیڈمیز، کوچنگ اور ٹیلنٹ نچرنگ کو مضبوط بنایا جائے گا جبکہ تیسرے سال نظام کی کارکردگی اور حاصل ہونے والے نتائج کا جائزہ لیا جائے گا۔ صدر پاکستان ہاکی فیڈریشن نے کہا کہ ہدف کوئی عارضی شارٹ کٹ نہیں بلکہ پاکستان کے قومی کھیل اور اس کی عظیم روایت کی مستقل واپسی ہے۔ اس منصوبے کی کامیابی کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتوں، تمام سٹیک ہولڈرز اور عوام کو مل کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔








