سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ سزائے موت کے مقدمات میں انصاف کے عمل کے دوران معمول سے بڑھ کر ’’سپر ڈیو پراسس‘‘ کے تقاضے پورے کرنا ضروری ہیں، کسی شخص کو سنے بغیر سزا دینا فطری انصاف، منصفانہ ٹرائل اور آئینی تقاضوں کے منافی ہے، جبکہ انتظامی ہدایات یا فل کورٹ کے انتظامی فیصلے قانون اور آئین سے بالاتر نہیں ہو سکتے۔
حتمیت سے بڑھ کر انصاف اہم، سنے بغیر سزائے موت کے خلاف نظرثانی مسترد کرنے کا حکم قانونی حیثیت نہیں رکھتا،سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔ 16 اگست (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ سزائے موت کے مقدمات میں انصاف کے عمل کے دوران معمول سے بڑھ کر ’’سپر ڈیو پراسس‘‘ کے تقاضے پورے کرنا ضروری ہیں، کسی شخص کو سنے بغیر سزا دینا فطری انصاف، منصفانہ ٹرائل اور آئینی تقاضوں کے منافی ہے، جبکہ انتظامی ہدایات یا فل کورٹ کے انتظامی فیصلے قانون اور آئین سے بالاتر نہیں ہو سکتے۔عدالت نے قرار دیا کہ اگر کسی سابقہ عدالتی حکم میں بنیادی نوعیت کی قانونی و طریقہ کار کی خامی ہو اور فریق کو سماعت کا حق ہی نہ دیا گیا ہو تو معاملہ محض نظرثانی کا نہیں بلکہ حکم واپس لینے (ریکال) کے اختیار کے دائرے میں آتا ہے۔ ایسے غیر قانونی حکم کی بنیاد پر بعد کی نظرثانی درخواست کو دوسری نظرثانی قرار دے کر ناقابلِ سماعت نہیں کیا جا سکتا۔
سپریم کورٹ نے یہ اہم آبزرویشنز شیر اعظم کی فوجداری نظرثانی درخواست سے متعلق مقدمے کے تفصیلی تحریری فیصلہ میں دیں۔ جسٹس ملک شہزاد احمد خان کی سربراہی میں جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل تین رکنی بینچ نے 19 مئی 2026 کو مقدمے کی سماعت کے بعد فیصلہ جاری کیا۔عدالت نے 26 اپریل 2012 کا وہ حکم کالعدم قرار دیا جس کے ذریعے شیر اعظم کی پہلی نظرثانی درخواست چیمبر میں مسترد کی گئی تھی۔ عدالت نے قرار دیا کہ مذکورہ درخواست کی سماعت کے وقت نہ ملزم موجود تھا اور نہ ہی اس کی جانب سے کوئی وکیل پیش ہوا، لہٰذا اسے سنے بغیر نظرثانی درخواست مسترد کرنا اصولِ فطری انصاف کی صریح خلاف ورزی تھی۔فیصلے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ رولز 1980 میں ایسی کوئی شق موجود نہیں جس کے تحت سزائے موت پانے والے شخص کی نظرثانی درخواست اس کا موقف سنے بغیر چیمبر میں مسترد کی جا سکے۔
فل کورٹ کے 20 اکتوبر 1990 کے اجلاس اور اس کے نتیجے میں جاری انتظامی حکم کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے قرار دیا کہ اس انتظامی فیصلے کو قانون اور قواعد کی تائید حاصل نہیں تھی اور متعلقہ قواعد میں اس مقصد کے لیے کوئی ترمیم بھی نہیں کی گئی۔عدالت نے آئین کے آرٹیکل 175(2) کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ کوئی عدالت وہی اختیار استعمال کر سکتی ہے جو اسے آئین یا قانون کے تحت حاصل ہو۔ اس کے ساتھ آئین کے آرٹیکل 4 اور 10-A کے تحت قانون کے مطابق برتاؤ، منصفانہ ٹرائل اور قانونی تقاضوں کے مطابق کارروائی ہر شہری کا حق ہے۔جسٹس شکیل احمد نے اپنے اضافی نوٹ میں قرار دیا کہ جہاں کسی شہری کی زندگی اور آزادی داؤ پر لگی ہو وہاں طریقہ کار کی شفافیت محض رسمی معاملہ نہیں رہتی بلکہ ایک بنیادی آئینی ضمانت بن جاتی ہے۔
سزائے موت کے مقدمات میں عدالتی عمل کی قانونی حیثیت صرف نتیجے کی درستگی سے نہیں بلکہ اس طریقہ کار کی شفافیت، قانونی حیثیت اور منصفانہ سماعت سے بھی وابستہ ہے جس کے ذریعے نتیجہ اخذ کیا گیا ہو۔اضافی نوٹ میں کہا گیا کہ سزائے موت اپنی نوعیت میں ناقابلِ واپسی سزا ہے، اس لیے ایسے مقدمات میں ’’سپر ڈیو پراسس‘‘ کا معیار لاگو ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آئین کے آرٹیکلز 4، 9 اور 10-A میں دی گئی ضمانتوں پر سختی سے عمل کیا جائے، ملزم کے خلاف شواہد کا انتہائی احتیاط سے جائزہ لیا جائے اور سزا کے تعین سے متعلق تمام عوامل کو پوری طرح ملحوظ رکھا جائے۔جسٹس شکیل احمد نے قرار دیا کہ نظرثانی کا اختیار محض اپیل کا متبادل نہیں بلکہ واضح غلطی، انصاف کی ناکامی اور طریقہ کار کی ناانصافی کو درست کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ قانون مقدمات کے حتمی فیصلے کو اہمیت دیتا ہے تاہم انصاف اس سے زیادہ اہم ہے، اس لیے کسی شخص کو سماعت کا حق دیے بغیر جاری کیے گئے ایسے حکم کو صرف حتمیت کے اصول کی بنیاد پر برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ موجودہ مقدمے میں استغاثہ کا کیس بنیادی طور پر حالات و واقعات پر مبنی شواہد اور بعد ازاں واپس لیے گئے عدالتی اعتراف پر قائم تھا۔ اضافی نوٹ کے مطابق سرکاری وکیل نے بھی دورانِ سماعت تسلیم کیا کہ مقدمہ سزائے موت دینے کا متقاضی نہیں تھا۔ ایسے مقدمات میں جہاں شواہد اعلیٰ ترین درجے کا یقین فراہم نہ کریں، سزائے موت برقرار رکھنے کے بجائے عمر قید کی سزا مناسب قرار دی جا سکتی ہے۔سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ حالات و واقعات پر مبنی شواہد خواہ کتنے ہی مضبوط کیوں نہ ہوں، ان کا انتہائی محتاط جائزہ ضروری ہے، جبکہ واپس لیا گیا اعترافِ جرم آزاد اور قابلِ اعتماد شواہد سے مضبوط معاونت کا متقاضی ہوتا ہے۔
اگر سزائے موت کی موزونیت کے بارے میں معقول شک موجود ہو تو قانون زندگی کی سزا یعنی عمر قید کے حق میں جھکتا ہے۔مقدمے کے ریکارڈ کے مطابق شیر اعظم کو تھانہ غازی، ضلع ہری پور میں درج مقدمہ میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302(ب) کے تحت سزائے موت سنائی گئی تھی، جسے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے برقرار رکھا تھا۔ تاہم سپریم کورٹ نے موجودہ نظرثانی میں قرار دیا کہ قتل کا محرک ثابت نہیں ہوا، مقدمہ چشم دید گواہوں پر مبنی نہیں تھا اور ایف آئی آر نامعلوم ملزمان کے خلاف درج ہوئی تھی۔عدالت نے چنانچہ نظرثانی درخواست جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے شیر اعظم کی دفعہ 302(ب) کے تحت سزا اور جرم ثابت ہونے کا فیصلہ برقرار رکھا تاہم سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا۔
مقتول کے قانونی ورثا کو دو لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے اور عدم ادائیگی کی صورت میں مزید چھ ماہ قید کی سزا کا حکم بھی برقرار رکھا گیا جبکہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 382-B کا فائدہ بھی دیا گیا۔سپریم کورٹ نے اس سے قبل جاری 26 اپریل 2012 کے حکم کو ’’قانون کی نظر میں غیر موجود‘‘ قرار دیتے ہوئے موجودہ درخواست کو دوسری نظر ثانی نہیں سمجھا اور اسے پہلی قابلِ سماعت نظرثانی درخواست کے طور پر نمٹایا۔







