بریسٹ کینسر بارے آگاہی کو صرف طبی معلومات تک محدود نہیں رکھنا چاہیے،وائس چانسلر ویمن یونیورسٹی ملتان

ویمن یونیورسٹی ملتان میں بریسٹ کینسر ریسرچ ڈے کے سلسلے میں علمی و آگاہی راؤنڈ ٹیبل ٹاک کا انعقاد کیا گیا۔

ملتان۔ 18 اگست (اے پی پی):ویمن یونیورسٹی ملتان کے شعبہ اپلائیڈ سائیکالوجی کے زیر اہتمام پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیونگ اینڈ لرننگ (PILL) کے اشتراک سے بریسٹ کینسر ریسرچ ڈے کے سلسلے میں علمی و آگاہی رائونڈ ٹیبل ٹاک کا انعقاد کیا گیا۔

پروگرام کی کوآرڈینیشن ڈاکٹر سعدیہ مشرف نے کی۔ نشست میں ماہرین امراض سرطان، ماہرین نفسیات اور دیگر ماہرین نے بریسٹ کینسر کی روک تھام، ابتدائی تشخیص، علاج، ذہنی صحت اور خواتین کو درپیش سماجی و ثقافتی چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سیدہ شاہدہ بتول نے کہا کہ بریسٹ کینسر کے بارے میں آگاہی کو صرف طبی معلومات تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ نفسیاتی مشاورت اور موثر تعلیمی رہنمائی کو بھی اس کا لازمی حصہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بروقت تشخیص میں طبی سہولیات تک رسائی، علاج کے اخراجات، ثقافتی حسا سیت، خاندانی رویے اور خواتین میں طبی معائنے سے متعلق ہچکچاہٹ اہم رکاوٹیں ہیں، جنہیں تحقیق اور آگاہی کے ذریعے دور کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ کینسر سے متعلق خوف اور غلط تصور ات کو مستند سائنسی معلومات کے ذریعے ختم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ماہر امراض سرطان پروفیسر ڈاکٹر اعجاز احمد نے کہا کہ ابتدائی مرحلے میں تشخیص کی صورت میں بریسٹ کینسر کا موثر علاج ممکن ہے۔انہوں نے باقاعدہ خود معائنہ، بروقت طبی مشورے اور احتیاطی اقدامات کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے نوجوانوں کو آگاہی کا سفیر بننے کی ترغیب دی۔ ماہرین نے بریسٹ کینسر کی علامات، تشخیصی مراحل، دستیاب طبی سہولیات اور درست معلومات کی فراہمی پر گفتگو کی۔ رائونڈ ٹیبل میں صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے کردار پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ماہرین نے کہا کہ مصنوعی ذہانت تحقیق اورکلینیکل فیصلہ سازی میں معاون ثابت ہو سکتی ہے تاہم طبی فیصلوں میں ماہرین کی تصدیق ناگزیر ہے۔ شرکا نے تحقیق، نفسیاتی معاونت، قابل رسائی تشخیصی سہولیات اور مسلسل عوامی آگاہی کو مربوط بنیادوں پر فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔

مزید خبریں