نیشنل پرائس کمیٹی کمیٹی کا اجلاس، وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال کی اشیائے خوردونوش کے معیار کی ملک گیر نگرانی اور موثر کارروائی کی ہدایت
نیشنل پرائس کمیٹی کمیٹی کا اجلاس، وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال کی اشیائے خوردونوش کے معیار کی ملک گیر نگرانی اور موثر کارروائی کی ہدایت

مزید خبریں
اسلام آباد۔19اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال کی زیر صدارت نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ کی جانب سے بناسپتی گھی، خوردنی تیل اور دودھ سے متعلق غیر معیاری نمونوں کی رپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے ایل پی جی کی مقررہ قیمتوں اور مارکیٹ میں رائج قیمتوں کے درمیان نمایاں فرق سے متعلق رپورٹ بھی زیر غور آئی۔وزارت منصوبہ بندی کے شعبہ غذائیت نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کی جانب سے تجویز کردہ مقامات سے تمام صوبوں میں بناسپتی گھی، خوردنی تیل اور دودھ کے تقریباً 491 نمونے حاصل کیے گئے جن کا پی سی ایس آئی آر میں تجزیہ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق بناسپتی گھی کے 26 نمونوں میں ٹرانس فیٹ کی مقدار مقررہ حد سے زیادہ پائی گئی جو زیادہ سے زیادہ 15.87 گرام فی 100 گرام تک تھی جبکہ پی ایس کیوسی اے کی مقررہ حد 2 گرام فی 100 گرام ہے۔ 22 نمونوں میں پیرو آکسائیڈ ویلیو جبکہ 15 نمونوں میں فری فیٹی ایسڈز مقررہ حد سے زیادہ پائے گئے۔ 46 بناسپتی گھی کے نمونوں میں وٹامن اے موجود نہیں تھا جبکہ بعض نمونوں میں تیل کی خرابی اور زائد نمی بھی سامنے آئی۔ بلینڈڈ کوکنگ آئل کے 26 نمونوں میں وٹامن اے موجود نہیں تھا جبکہ چار نمونوں میں پیرو آکسائیڈ ویلیو مقررہ حد سے زیادہ پائی گئی جس کی بلند ترین سطح 76.71 ریکارڈ ہوئی جبکہ مقررہ حد 10 ہے۔ متعدد نمونوں میں فری فیٹی ایسڈز، تیل کی خرابی اور زائد نمی و بخارات بھی پائے گئے۔ ریفائنڈ پام اولیئن کے چار میں سے تین نمونے بھی مقررہ معیار پر پورے نہیں اترے۔
دودھ کے معیار سے متعلق رپورٹ میں بتایا گیا کہ معیار پر پورا نہ اترنے والے پیک شدہ مائع دودھ کے تمام 26 نمونوں میں دودھ کی چکنائی مقررہ معیار سے کم تھی جبکہ معیار پر پورا نہ اترنے والے دودھ پائوڈر کے تمام 8 نمونوں میں پروٹین کی مقدار مقررہ حد سے کم پائی گئی۔ دو نمونوں میں مجموعی راکھ اور چکنائی کی مقدار میں بھی مقررہ معیار سے انحراف سامنے آیا۔صوبائی سطح پر کیے گئے تجزیے کے مطابق بلوچستان میں بناسپتی گھی کے 79.4 فیصد، سندھ میں 63.3 فیصد، خیبر پختونخوا میں 58.3 فیصد، پنجاب میں 15.9 فیصد اور اسلام آباد میں 5.5 فیصد نمونے مقررہ معیار پر پورے نہیں اترے۔
بلینڈڈ کوکنگ آئل کے سندھ میں 47.7 فیصد اور بلوچستان میں 46.6 فیصد نمونے غیر معیاری پائے گئے جبکہ سندھ اور بلوچستان سے حاصل کیے گئے ریفائنڈ پام اولیئن کے تمام نمونے مقررہ معیار پر پورے نہیں اترے۔ خیبر پختونخوا سے حاصل کیے گئے پیک شدہ مائع دودھ کے تمام نمونے بھی مقررہ معیار کے مطابق نہیں تھے۔رپورٹ کے نتائج پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ جن خدشات کا ہم اظہار کر رہے تھے، وہ بدقسمتی سے درست ثابت ہوئے ہیں، معاشرے میں قبل از وقت اموات اور دل کے دوروں میں تشویشناک اضافہ بھی غیر معیاری اشیائے خوردونوش کے استعمال سے منسلک ہے۔ وفاقی وزیر نے متعلقہ نگران اور انتظامی اداروں کو فوری طور پر موثر کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اشیائے خوردونوش کے معیار، مقدار اور صحت و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع قومی نظام وضع کرنے کی ضرورت ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ یہ صرف دودھ اور گھی کے نمونوں کا جائزہ ہے، اگر مصالحوں اور دیگر اشیائے خوردونوش کی جانچ شروع کی جائے تو مزید سنگین خامیاں سامنے آ سکتی ہیں۔انہوں نے ملک بھر میں اشیائے خوردونوش کی باقاعدہ اور منظم جانچ کا نظام قائم کرنے پر زور دیا۔وفاقی وزیر نے چاروں صوبوں کی فوڈ اتھارٹیز کے ساتھ مربوط معیار خوراک کا نظام وضع کرنے اور معیار کی خلاف ورزی کرنے والوں سے نمٹنے کے لیے واضح طریقہ کار تیار کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ جب کسی شے کے معیار کا مسئلہ سامنے آئے تو صرف دکاندار کے خلاف کارروائی کافی نہیں بلکہ غیر معیاری مصنوعات تیار کرنے والے صنعت کار اور پیداواری ادارے کو بھی جوابدہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد اشیائے خوردونوش سمیت مصنوعات کا معیار بہتر بنانا ہے جس سے ملکی برآمدات میں بھی اضافہ ہوگا۔
احسن اقبال نے پی سی ایس آئی آر کی مکمل رپورٹ وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کو ضروری کارروائی کے لیے ارسال کرنے کی ہدایت کی اور سہ ماہی بنیادوں پر نگرانی کا نظام قائم کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس نظام میں دیہی منڈیوں کو بھی لازماً شامل کیا جائے تاکہ ملک کے دور دراز علاقوں تک پہنچنے والی اشیائے خوردونوش کے معیار کی بھی موثر نگرانی ہو سکے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ان نمونوں میں سامنے آنے والی خامیاں محض غذائی کمی کا معاملہ نہیں ہیں۔ ٹرانس فیٹ کی زیادہ مقدار اور ضروری وٹامنز کی عدم موجودگی مصنوعات کے معیار میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ آج ہم نوجوانوں میں جس غیر معمولی شرح سے دل کے دورے دیکھ رہے ہیں وہ انتہائی تشویشناک ہے اور اس کی ایک بڑی وجہ غیر معیاری خوراک کی دستیابی اور استعمال بھی ہے۔ بدقسمتی سے دیہی علاقوں میں اکثر بدترین معیار کی مصنوعات پہنچائی جاتی ہیں۔
متعلقہ نگران اداروں کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ عوامی صحت کے تحفظ اور اپنے اداروں پر عوام کا اعتماد برقرار رکھنے میں تمام متعلقہ اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ آپ بحیثیت متعلقہ فریق اس معاملے پر کارروائی کریں تاکہ آپ کے ادارے کی ساکھ بھی متاثر نہ ہو۔ آپ خود ان معیارات پر عمل درآمد یقینی بنائیں اور ہمارے ساتھ بیٹھ کر بتائیں کہ غیر معیاری اشیائے خوردونوش کے معیار کو کیسے یقینی بنایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا ہم آپ کو شراکت دار کے طور پر ساتھ لے کر چلیں گے کیونکہ شہریوں کی صحت پر حکومت کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ ہمارا مقصد صنعتیں بند کرنا نہیں بلکہ مصنوعات کا معیار بہتر بنانا اور صارفین کو محفوظ اور معیاری اشیاء کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔
اجلاس میں اوگرا کی جانب سے ایل پی جی کی مقررہ قیمتوں اور مارکیٹ میں رائج قیمتوں کے درمیان نمایاں فرق سے متعلق رپورٹ پر گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ ملک کی تقریباً 80 فیصد آبادی گھریلو کھانا پکانے کے لیے ایل پی جی استعمال کرتی ہے تاہم اس کی مارکیٹ قیمتوں کی موثر نگرانی کا کوئی مناسب نظام موجود نہیں۔ وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ وزیر پٹرولیم اس معاملے کو فوری طور پر اٹھائیں اور وزارت پٹرولیم اوگرا کے ساتھ مل کر واضح رہنما اصول وضع کرے۔
انہوں نے وزارت پٹرولیم اور اوگرا کو ہدایت کی کہ اس مسئلے کے حل کے لیے اجلاس طلب کرکے تین روز کے اندر معاملہ حل کیا جائے۔وفاقی وزیر نے اس امر پر زور دیا کہ وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان موثر رابطہ کاری، اشیائے خوردونوش کی باقاعدہ سائنسی جانچ اور معیار کی خلاف ورزی پر سخت عمل درآمد ہی کے ذریعے ملک بھر میں محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی اور صارفین کا تحفظ یقینی بنایا جا سکتا ہے۔








