وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چودھری نے کہا ہے کہ قومی فشریز اینڈ ایکوا کلچر پالیسی پر کام جاری ہے، جس کا مقصد جدید طریقوں، مؤثر پالیسیوں اور سرمایہ کاری میں اضافے کے ذریعے ماہی گیری کے شعبے کی استعداد سے فائدہ اٹھا کر سالانہ 10 ارب ڈالر تک کی آمدن حاصل کرنا ہے
ماہی گیری کے شعبے میں 10 بلین ڈالر کی صلاحیت سے استفادہ کیلئے پالیسی پر کام جاری ہے،وفاقی وزیر برائے بحری امور

مزید خبریں
اسلام آباد۔20اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چودھری نے کہا ہے کہ قومی فشریز اینڈ ایکوا کلچر پالیسی پر کام جاری ہے، جس کا مقصد جدید طریقوں، مؤثر پالیسیوں اور سرمایہ کاری میں اضافے کے ذریعے ماہی گیری کے شعبے کی استعداد سے فائدہ اٹھا کر سالانہ 10 ارب ڈالر تک کی آمدن حاصل کرنا ہے۔وفاقی وزیر نے وزارت بحری امور اور اس کے ماتحت اداروں کی کارکردگی، پیش رفت اور کامیابیوں کا جائزہ لینے کیلئے منعقدہ اجلاس کی صدارت کی۔ وفاقی وزیر نے بحری شعبے میں کاروبار کیلئے آسانیاں پیدا کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ طریقہ کار کو سادہ بنایا جائے اور کاروباری برادری سمیت متعلقہ سٹیک ہولڈرز سے بامعنی مشاورت یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے وزارت اور اس کے ماتحت اداروں کو ہدایت کی کہ سمندری اقتصادی سرگرمیوں سے متعلق پالیسیوں اور اقدامات میں متعلقہ شعبوں کی آرا اور سفارشات کو شامل کیا جائے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ خدمت مراکز کی طرز پر ون ونڈو آپریشن کے قیام کیلئے کام مکمل کرلیا گیا ہے۔ اس سہولت کے ذریعے کاروباری برادری کو مختلف سرکاری خدمات ایک ہی پلیٹ فارم پر دستیاب ہوں گی، جس سے سرمایہ کاروں اور بحری شعبے سے وابستہ کاروباری اداروں کیلئے سہولت پیدا ہوگی۔ محمد جنید انوار چودھری نے گوادر پورٹ پر 100 ایکڑ رقبے پر آف ڈاک ٹرمینل کے قیام کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارت کو فروغ دینے اور علاقائی لاجسٹکس رابطوں کو مضبوط بنانے میں معاون ہوگا۔ ٹرمینل سے کارگو ہینڈلنگ اور لاجسٹکس سہولیات بہتر ہونے کے ساتھ گوادر کی وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت کیلئے گیٹ وے کی حیثیت مزید مستحکم ہوگی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سمندری حیاتیاتی تنوع اور ساحلی ماحولیاتی نظام کے تحفظ کیلئے عالمی ماحولیاتی سہولت (جی ای ایف) کے تعاون سے 30 لاکھ ڈالر کا منصوبہ بھی جاری ہے۔ منصوبے میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور ماحول دوست ماہی گیری کے طریقوں کے فروغ پر توجہ دی جارہی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ بحری شعبے کی معاشی ترقی ماحولیاتی تحفظ، بالخصوص سمندری اور ساحلی ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے ساتھ مربوط ہونی چاہیے۔ انہوں نے تجاوزات سے واگزار کرائی گئی بندرگاہی اراضی کے استعمال کیلئے جامع منصوبہ بنانے کا حکم دیا اور کہا کہ اس اراضی کے مؤثر استعمال سے اضافی معاشی وسائل پیدا کرنے کے ساتھ ملک کی بلیو اکانومی کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔ اجلاس میں جاری مختلف منصوبوں اور اقدامات پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وفاقی وزیر نے متعلقہ حکام کو منصوبوں کی بروقت تکمیل اور تمام سٹیک ہولڈرز کے درمیان رابطہ کاری مزید مضبوط بنانے کی ہدایت کی۔








