صدرِ آصف علی زرداری سے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی الوداعی ملاقات، دوطرفہ دیرینہ برادرانہ اور تزویراتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کیلئے ان کی خدمات کو سراہا

صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان میں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی پاک سعودی برادرانہ اور تزویراتی تعلقات مضبوط بنانے کے لیے خدمات کو سراہا

اسلام آباد۔23اگست (اے پی پی):صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی کی پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ برادرانہ اور تزویراتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے خدمات اور کردار کو سراہا ہے۔

صدرمملکت نے ان خیالات کا اظہار سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی سے ایوانِ صدر میں الوداعی ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے پاکستان میں سعودی سفیر کی مخلصانہ اور قابلِ قدر خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دورِ سفارت کے دوران دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں ان کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں۔ صدر نے پاکستان کے لیے ان کے تعاون اور دونوں برادر ممالک کے درمیان روابط کے فروغ میں ان کے مثبت کردار کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ سفیر نواف بن سعید المالکی نے بالخصوص سیاسی، اقتصادی اور تجارتی شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔صدر نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنی آزمودہ دوستی اور تزویراتی شراکت داری کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور پاکستان کے لیے سعودی عرب کی مستقل حمایت کو سراہتا ہے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ سفیر نواف بن سعید المالکی کے دور میں دوطرفہ تعلقات کی جو مضبوط بنیاد قائم ہوئی وہ آئندہ برسوں میں بھی باہمی تعاون کی رہنمائی کرتی رہے گی۔سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی، جو 2017ء سے پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے، نے پاکستان میں اپنے قیام کے دوران حکومت اور عوام کی جانب سے ملنے والی گرمجوشی اور تعاون پر صدرِ مملکت اور حکومتِ پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان اور اس کے عوام کو ہمیشہ قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھتے رہیں گے۔صدرِ مملکت نے سفیر نواف بن سعید المالکی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے ان کے مستقبل کے لیے کامیابی کی دعا کی اور کہا کہ پاکستان ہمیشہ ان کا دوسرا گھر رہے گا۔ملاقات کے دوران سینیٹر شیری رحمان بھی موجود تھیں۔