نیوزی لینڈ کے وزیرِاعظم کرسٹوفر لکسن نے کہا کہ ان کی جماعت پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کرے گی، جس کے تحت 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کی تجویز ہے اور خلاف ورزی کرنے والے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ان کی عالمی آمدنی کے 10 فیصد تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔
نیوزی لینڈ 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کا بل پیش کرے گا،وزیراعظم کا اعلان

مزید خبریں
ولنگٹن۔24اگست (اے پی پی):نیوزی لینڈ کے وزیرِاعظم کرسٹوفر لکسن نے کہا کہ ان کی جماعت پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کرے گی، جس کے تحت 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کی تجویز ہے اور خلاف ورزی کرنے والے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ان کی عالمی آمدنی کے 10 فیصد تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ بات انہوں نے پیر کو ایک بیان میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ قانون کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو صارفین کی عمر کی تصدیق کے لیے مناسب اقدامات کرنا ہوں گے۔ اس مقصد کے لیے موجودہ اکائونٹ کی معلومات، چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل شناختی دستاویزات استعمال کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ کی ایک پوری نسل کے بچوں کو پہنچنے والے نقصان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
سوشل میڈیا بچوں کو نقصان دہ مواد، عادی بنانے والی ٹیکنالوجی اور ایسے دباؤ کا سامنا کرا رہا ہے جس سے نمٹنے کے لیے وہ تیار نہیں اور اس کے اثرات ان کی خاندانی زندگی، ذہنی صحت، نیند اور تعلیم پر پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ مجوزہ پابندی پر مکمل عمل درآمد آسان نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہر بچے کو سوشل میڈیا سے دور کرنا ممکن نہیں ہوگا اور کچھ بچے پابندی سے بچنے کے طریقے تلاش کرلیں گے لیکن یہ مسئلہ اتنا اہم ہے کہ کم از کم اس کی کوشش ضرور کی جانی چاہیے۔ یہ واضح نہیں کہ بل کو پارلیمنٹ سے منظور کرانے کے لیے کافی حمایت حاصل ہوگی یا نہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ دسمبر میں آسٹریلیا دنیا کا پہلا ملک بن گیا تھا جس نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کی۔ اس پابندی میں ٹک ٹاک، یوٹیوب، انسٹاگرام اور فیس بک سمیت متعدد پلیٹ فارمز شامل ہیں۔








