چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد کا سم ڈسٹری بیوشن سائٹ اور سینٹرل زونل آفس کا دورہ

چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے گورنمنٹ اسلامیہ بوائز ہائر سیکنڈری سکول ملتان روڈ لاہور میں قائم بینظیر سم ڈسٹری بیوشن سائٹ کا دورہ کیا اور خواتین بینیفشر یز کو مفت سم کی فراہمی کے انتظامات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے خواتین سے ملاقات کی ان کے مسائل سنے اور انہیں بینظیر سم نئے ڈیجیٹل ادائیگی نظام اور اس سے متعلق حفاظتی اقدامات کے …

لاہور۔25اگست (اے پی پی):چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے گورنمنٹ اسلامیہ بوائز ہائر سیکنڈری سکول ملتان روڈ لاہور میں قائم بینظیر سم ڈسٹری بیوشن سائٹ کا دورہ کیا اور خواتین بینیفشر یز کو مفت سم کی فراہمی کے انتظامات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے خواتین سے ملاقات کی ان کے مسائل سنے اور انہیں بینظیر سم نئے ڈیجیٹل ادائیگی نظام اور اس سے متعلق حفاظتی اقدامات کے بارے میں تفصیلی آگاہی فراہم کی۔

سینیٹر روبینہ خالد نے واضح کیا کہ بینظیر سم بالکل مفت ہے اور اس کی کوئی فیس نہیں کسی بھی سکیم، سروس یا سروے کے لیے کوئی فیس وصول نہیں کی جاتی اور سروے کے لیے کسی فارم کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے خواتین کو ہدایت کی کہ کسی بھی ایجنٹ کو ادائیگی میں کٹوتی نہ کرنے دیں اور شکایت کی صورت میں فوری طور پر اطلاع دیں تاکہ ذمہ داران کے خلاف بروقت کارروائی کی جا سکے۔چیئرپرسن نے خواتین کو آگاہ کیا کہ بینظیر سم ان کا بٹوا ہے، جس کی حفاظت ان کی ذمہ داری ہے۔ خواتین اپنا موبائل فون یا سم کسی ایجنٹ کے حوالے نہ کریں۔

انہوں نے بتایا کہ جب وظیفے کی رقم آئے گی تو انکو موبائل پر تصدیقی میسج بھی موصول ہوگا، جسے خواتین محفوظ رکھیں اور ڈیلیٹ نہ کریں۔ انہوں نے خواتین پر زور دیا کہ بینظیر سم صرفبی آئی ایس پی کے متعلقہ دفتر سے حاصل کریں، کسی دکان سے نہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ نئے ڈیجیٹل نظام کے تحت مستحق خواتین ملک بھر میں کسی بھی جگہ سے، کسی بھی وقت اور مجاز بینک کے کسی بھی ایجنٹ سے اپنی رقم وصول کر سکتی ہیں۔ اگر کسی ایک ایجنٹ سے رقم نہ ملے تو خواتین کسی دوسرے مجاز بینک کے ایجنٹ سے اپنی رقم وصول کرنے کا اختیار رکھتی ہیں۔

سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایات پر نیا ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا گیا ہے، جس کا مقصد مستحق خواتین کو ادائیگیوں کے حوالے سے زیادہ سہولت، شفافیت اور بااختیار بنانا ہے۔چیئرپرسن نے مزید بتایا کہ جن خواتین کے انگوٹھے کی تصدیق نہیں ہو رہی، وہ نادرا دفتر سے چہرے کی شناخت کا سرٹیفکیٹ حاصل کر سکتی ہیں۔ نئے ڈیجیٹل نظام کی مسلسل مانیٹرنگ کی جا رہی ہے تاکہ خواتین کو درپیش مسائل اور شکایات کی بروقت نشاندہی اور ازالہ کیا جا سکے اور نظام کو مزید موثر بنایا جا سکے۔

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے متعلق مستند معلومات کے لیے پروگرام کے آفیشل سوشل میڈیا اکاونٹس سے رجوع کریں اور بلیو ٹک والے اکاونٹس سے جاری ہونے والی معلومات کو ترجیح دیں۔بعد ازاں چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد نے بی آئی ایس پی سینٹرل زونل آفس لاہور کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے شکایات کے اندراج اور ان کے ازالے کے نظام کا جائزہ لیا اور شکایات کے بروقت ازالے کے لیے قائم نظام کو سراہا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل پنجاب نصیر الدین سرور بھی موجود تھے۔

 

مزید خبریں