وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ایکسیس ٹو فنانس سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس، ہائوسنگ، زراعت، ایس ایم ایز اور برآمدی فنانس میں پیش رفت کا جائزہ
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ایکسیس ٹو فنانس سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس، ہائوسنگ، زراعت، ایس ایم ایز اور برآمدی فنانس میں پیش رفت کا جائزہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔25اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ مالیاتی شعبے کی زیادہ استعداد کو پیداواری سرمایہ کاری، کاروبار کے فروغ، گھر کی ملکیت، زرعی پیداوار اور برآمدات کی جانب منتقل کرنا ہے تاکہ معاشی استحکام کو نجی شعبے کی قیادت میں زیادہ مضبوط اور جامع معاشی ترقی میں تبدیل کیا جا سکے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو وزارت خزانہ میں مالیات تک رسائی (ایکسیس ٹو فنانس) سٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا جس میں ہائوسنگ، زراعت، چھوٹے و درمیانے کاروباری اداروں، برآمدات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، قابل تجدید توانائی اور دیگر ترجیحی شعبوں کے لیے سستی اور جامع فنانسنگ کی فراہمی کے اقدامات پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق کمیٹی نے مالی سال 2025-26 کے اختتام کے بعد مالیاتی رسائی سے متعلق مختلف اقدامات میں نمایاں پیش رفت اور فنانسنگ کے مجموعی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اہم قانونی، ضابطہ جاتی اور ادارہ جاتی اصلاحات کو اجاگر کیا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ مالیاتی شعبے کی زیادہ استعداد کو پیداواری سرمایہ کاری، کاروبار کے فروغ، گھر کی ملکیت، زرعی پیداوار اور برآمدات کی جانب منتقل کرنا ہے تاکہ معاشی استحکام کو نجی شعبے کی قیادت میں زیادہ مضبوط اور جامع معاشی ترقی میں تبدیل کیا جا سکے۔ہائوسنگ فنانس میں نمایاں پیش رفت کے بارے میں کمیٹی کو بتایا گیا کہ مجموعی ہائوسنگ فنانس جون کے اختتام پر تقریباً 294 ارب روپے سے بڑھ کر اگست کے وسط تک 307 ارب روپے ہو گیا۔’’
وزیراعظم اپنا گھر پروگرام-گھر ہو تو اپنا‘‘ کے تحت جون سے درخواستوں میں 52 فیصد اضافہ ہوا اور یہ تعداد تقریباً 139,000 تک پہنچ گئی۔ اپنا گھر پروگرام کے تحت منظور شدہ درخواستوں میں84 فیصد اضافہ ہوا اور منظور شدہ درخواستوں کی تعداد 46000 سے تجاوز کر گئی، پروگرام کے تحت منظور شدہ فنانسنگ تقریباً دوگنا ہو کر 144 ارب روپے سے 279 ارب روپے تک پہنچ گئی جبکہ تقسیم کئے گئے قرضوں کی تعداد 59 فیصد اضافے کے ساتھ 7600 سے زائد ہو گئی جن کی مالیت 38 ارب روپے سے زیادہ ہے۔کمیٹی نے ہائوسنگ فنانس کے لیے سٹیٹ بینک آف پاکستان کی نظرثانی شدہ احتیاطی ضوابط کا بھی جائزہ لیا جن میں ہاؤسنگ فنانس میں 90:10 قرض تا قدرِ جائیداد تناسب، 65 فیصد قرض بوجھ تناسب اور غیر رسمی آمدن کی جانچ کے نئے طریقہ کار شامل کیے گئے ہیں۔جائیداد کی قدر کے تعین اور دستاویزات کو آسان بنانے، ڈیجیٹل عمل اور طویل مدتی فنانسنگ کی سہولت پر بھی پیش رفت ہوئی۔ کمیٹی نے فنانشل انسٹی ٹیوشنز (ریکوری آف فنانسز) ترمیمی ایکٹ 2026 کی منظوری کو رہن پر مبنی قرضوں کی وصولی اور نفاذ کے قانونی نظام کو مضبوط بنانے کے حوالے سے اہم اصلاح قرار دیا۔ کمیٹی کے مطابق مضبوط ریکوری فریم ورک سے قرض دہندگان کا اعتماد بڑھے گا، ہاؤسنگ فنانس میں مزید وسعت آئے گی اور ملک میں مارگیج مارکیٹ کو فروغ ملے گا۔
کمیٹی نے ہاؤسنگ فنانس کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر تعمیراتی شعبے پر بھی زور دیا کہ معیاری اور کم لاگت گھروں کی فراہمی میں اضافہ کیا جائے۔ہاؤسنگ اور تعمیراتی سرگرمیوں میں اضافے سے سیمنٹ، تعمیراتی سامان، متعلقہ صنعتوں، ایس ایم ایز، روزگار اور مجموعی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔زراعت اور ایس ایم ای فنانس کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ زرعی قرض لینے والوں کی تعداد جون کے اختتام پر تقریباً 32 لاکھ 60 ہزار سے بڑھ کر اگست کے وسط تک 33 لاکھ 70 ہزار ہو گئی جبکہ زرعی فنانسنگ تقریباً 1.26 ٹریلین روپے کی سطح پر برقرار رہی۔ زرخیز -ای- آسان زرعی قرضہ پروگرام کے تحت 58,000 سے زائد کسان رجسٹر ہو چکے ہیں۔ اسکیم کے تحت چھوٹے کاشتکاروں، بشمول مزارعین، کو زرعی مداخل کے لیے بغیر رہن کے قرضے فراہم کیے جارہے ہیں۔جون سے زرعی قرضوں کی بینک منظوریوں میں تقریباً 12 فیصد اضافہ ہوا اور تعداد تقریباً 16,700 ہوگئی۔زرخیز اسکیم کے تحت منظور شدہ فنانسنگ کی حد 7.2 ارب روپے سے تجاوز کرگئی جبکہ تقریباً 5,000 قرضے جاری کیے گئے۔
کمیٹی نے زرعی قرضوں کی درخواستوں اور منظوریوں کو تیزی سے عملی فنانسنگ میں تبدیل کرنے پر زور دیا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایس ایم ایز کے لیے رسمی فنانسنگ تقریباً 1.05 ٹریلین روپے ہے جس سے تقریباً 330,000 کاروبار مستفید ہورہے ہیں۔13 بینکوں میں ایس ایم ایز کے لیے کریڈٹ اسکورنگ پائلٹ جاری ہے جس میں متبادل طریقوں سے کاروباری کیش فلو کا جائزہ لینا بھی شامل ہے۔کریڈٹ اسکورنگ پائلٹ کا مقصد روایتی رہن پر مبنی قرضوں پر انحصار کم کرتے ہوئے بہتر کریڈٹ اسیسمنٹ کے ذریعے ایس ایم ایز کی فنانسنگ تک رسائی بڑھانا ہے۔زراعت اور ایس ایم ای فنانسنگ کو جون 2027 تک 1.5 ٹریلین روپے اور جون 2028 تک 2 ٹریلین روپے تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔کمیٹی نے رسائیِ فنانس کو حکومت کے برآمدات پر مبنی اقتصادی ترقی کے ایجنڈے سے منسلک کرنے پر خصوصی زور دیا۔اجلاس میں برآمد کنندگان اور ایس ایم ایز کے لیے ورکنگ کیپیٹل، طویل مدتی سرمایہ کاری اور ری فنانسنگ سہولیات میں بہتری کا بھی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ اضافی برآمدات پر کارکردگی کی بنیاد پر ریبیٹ اسکیم (PRIE) یکم جولائی 2026 سے نافذ ہے،10 فیصد تک برآمدی نمو حاصل کرنے والے برآمد کنندگان کو اضافی برآمدات پر ایک فیصد ریبیٹ جبکہ 10 فیصد سے زائد نمو پر 2 فیصد ریبیٹ دیا جائے گا۔ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف پاکستان کے زیر انتظام سہولیات کے ذریعے برآمدی شعبے سے وابستہ ایس ایم ایز کو بینک فنانسنگ تک رسائی فراہم کرنے پر زور دیا گیا۔وزیر خزانہ نے ایس ایم ای فنانس، ایکسپورٹ ری فنانسنگ، طویل مدتی سرمایہ کاری فنانس اور کارکردگی پر مبنی مراعات کو باہم مربوط کرنے پر زور دیا۔پی اے وی ای پروگرام میں بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اگست کے وسط تک 83,000 سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں۔پی اے وی ای پروگرام کے تحت تقریباً 15,800 درخواستیں منظور اور تقریباً 4,000 قرضے جاری کیے گئے۔جون سے پی اے وی ای کے تحت منظوریوں میں تقریباً 24 فیصد اور قرضوں کی تقسیم میں 34 فیصد اضافہ ہوا۔پی اے وی ای کے تحت فراہم کی گئی الیکٹرک گاڑیوں کی تعداد 471 سے تین گنا سے زائد بڑھ کر 1,500 سے تجاوز کرگئی۔
اجلاس میں وزیراعظم کے آن لائن ڈیجیٹل ہاؤسنگ پورٹل پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر انضمام پر زور دیا گیا۔وزیر خزانہ نے مالیات تک رسائی کو قانونی و ریگولیٹری اصلاحات، ڈیجیٹلائزیشن، بہتر کریڈٹ اسیسمنٹ، ہدفی فنانسنگ، رسک شیئرنگ، ری فنانسنگ اور کارکردگی پر مبنی مراعات پر مشتمل ایک مربوط نظام بنانے پر زور دیا۔ وزیر خزانہ نے ہفتہ وار اور ماہانہ بنیادوں پر فنانسنگ، قرض لینے والوں کی تعداد، منظوریوں اور قرضوں کی تقسیم کی نگرانی کی ہدایت کی۔وزیر خزانہ نے فنانسنگ میں حائل رکاوٹوں کو واضح سفارشات کے ساتھ اسٹیئرنگ کمیٹی کے سامنے بروقت لانے کی ہدایت کی۔کسانوں، ایس ایم ایز، برآمد کنندگان، ممکنہ گھر مالکان اور کاروباری افراد میں دستیاب فنانسنگ اسکیموں سے متعلق آگاہی بڑھانے پر زور دیا گیا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ مالیات تک رسائی کا مقصد معاشی مواقع تک رسائی بڑھانا ہے تاکہ گھرانے گھر حاصل کرسکیں اور کسان و کاروباری افراد اپنے فارم اور کاروبار کو وسعت دے سکیں۔حکومت کا مقصد پیداواری صلاحیت، پیداوار، برآمدات اور روزگار میں اضافہ کرتے ہوئے پائیدار اور جامع معاشی ترقی کو فروغ دینا ہے۔وزیر خزانہ نے فنانس ڈویژن، اسٹیٹ بینک، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن، پاکستان بینکس ایسوسی ایشن، متعلقہ وزارتوں، مالیاتی اداروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مسلسل رابطے اور تعاون پر زور دیا۔








