افغان طالبان رجیم کیخلاف افغانستان فریڈم فرنٹ کا محاذ متحرک، مختلف صوبوں میں ایک ماہ کے دوران 21 بڑی کارروائیاں

افغان طالبان رجیم کیخلاف افغانستان فریڈم فرنٹ کا محاذ متحرک، مختلف صوبوں میں ایک ماہ کے دوران 21 بڑی کارروائیاں

اسلام آباد۔26اگست (اے پی پی):افغان طالبان رجیم کیخلاف افغانستان فریڈم فرنٹ کا محاذ متحرک ہو گیا ہے، مختلف صوبوں میں ایک ماہ کے دوران 21 بڑی کارروائیاں کی ہیں۔تفصیلات کے مطابق افغان طالبان رجیم کے جابرانہ تسلط کیخلاف افغانستان میں سیاسی و مسلح مزاحمتی تحریکیں شدت اختیار کر چکی ہیں۔افغانستان میں طالبان رجیم مخالف مسلح مزاحمتی تحریک افغانستان فریڈم فرنٹ کی ایک ماہ کے دوران کارروائیوں کی تفصیلات سامنے آگئیں۔

حریت پسند مسلح تحریک افغانستان فریڈم فرنٹ نے طالبان رجیم کیخلاف 23 جولائی سے 22 اگست کے دوران 21 کارروائیاں کیں ۔صوبہ بدخشان طالبان رجیم مخالف کارروائیوں کا مرکزی محور رہا، زیباک اور فیض آباد کے اطراف متعدد جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

افغانستان فریڈم فرنٹ کے آفیشل ایکس اکانٹ پر جاری کردہ تفصیلات کے مطابق صوبہ بدخشان سمیت بغلان، ننگرہار، فاریاب، نورستان اور پنجشیر میں طالبان کے مختلف سکیورٹی اہداف کو نشانہ بنایا گیا،مسلح حملوں میں افغان طالبان کے قافلوں،چوکیوں، فوجی سازوسامان، ڈرونز اوردفاعی تنصیبات کونشانہ بنایا گیا، مسلح حملوں میں کابل اور کندوز کےعسکری ہوائی اڈوں کو بھی میزائل اور راکٹوں سے نشانہ بنایا گیا، مختلف محاذوں پر طالبان کو پسپائی پر مجبور کیا گیا جبکہ اہم دفاعی پوزیشنیں بھی قبضے میں لے لی گئیں،

مسلح حملوں کے نتیجے میں متعددافغان طالبان اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے۔دفاعی ماہرین کے مطابق مسلح مزاحمتی تحریکوں کی جانب سے طالبان رجیم کےفوجی قافلوں، چوکیوں اور دفاعی مراکز پر مسلسل حملے رجیم کی عسکری گرفت کمزور ہونے اور مزاحمت کے بڑھتے اثرات کی نشاندہی کرتے ہیں۔افغانستان فریڈم فرنٹ، نیشنل ریزسٹنس فرنٹ اور افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ سمیت دیگر مزاحمتی دھڑوں کی کارروائیوں میں تیزی طالبان رجیم کے جلد خاتمے کا پیش خیمہ ہے۔

مزید خبریں