سینیٹر شیری رحمان کا پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے واقعہ میں نومولود بچوں کی اموات پر اظہار افسوس،شفاف تحقیقات کا مطالبہ
سینیٹر شیری رحمان کا پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے واقعہ میں نومولود بچوں کی اموات پر اظہار افسوس،شفاف تحقیقات کا مطالبہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔26اگست (اے پی پی):نائب صدر پاکستان پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے المناک سانحہ میں نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔ بدھ کو انہوں نے سیکرٹری جنرل پی پی پی نیئر بخاری کے ہمراہ پمز ہسپتال کا دورہ کیا اور میڈیا سے گفتگوکی ۔ انہوں نے کہاکہ آج مجھے بہت افسوس ہے کہ جوپمزہسپتال میں ہوا ،ہر ماں اور ہر باپ کا دل پھٹ رہا ہے ،بچوں کی صورتحال ایسی تھی کہ کوئی نہیں پہچانا جا رہا تھا ۔انہوں نے کہاکہ یہ حادثہ بہت سے سوالات چھوڑ گیا ہے ، ایک حادثہ ہوتا ہے جس پر بات ہو کر ختم ہو جاتی ہے ۔
شیری رحمان نے کہاکہ سارا ملک سراپا احتجاج اور غم میں ڈوبا ہوا ہے ،وزیر اعظم نے واقعہ کا نوٹس لیا ہے لیکن ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو بھی جواب دینا ہو گا ۔ انہوں نے کہاکہ حادثے کے بعد پانی نہیں تھا ایمرجنسی گیٹ بند تھے ، ہماری اطلاع میں ڈاکٹر بھی موجود نہیں تھے ۔انہوں نے کہاکہ ان مائوں سے پوچھیں جن کے لخت جگر چلے گئے،ہم سیاست کرنے نہیں آئے،ہمیں ہماری قیادت نے بھیجا کہ ہم عوام کی طرف سے سوال پوچھیں اورذمہ داروں کو بے نقاب کریں ۔ وزارت صحت کو اب عوامی فنڈز لینے کا کوئی جواز نہیں، اسے ختم یا صوبوں کو منتقل کر دینا چاہیے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز سید نیر حسین بخاری نے کہا کہ پمز میں 14 بچوں کا جاں بحق ہو جانا انتہائی افسوسناک اور بڑا المیہ ہے۔
یہ واقعہ مکمل غفلت اور کوتاہی کا نتیجہ دکھائی دیتا ہے، جس کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔نیر حسین بخاری نے کہا کہ تحقیقات کے ذریعے یہ تعین کیا جائے کہ سانحہ کیوں پیش آیا اور اس کے ذمہ دار کون ہیں، وزارت کی کارکردگی بھی سامنے آنی چاہیے، اگر دو ہسپتال بھی مناسب انداز میں نہیں سنبھالے جا رہے تو متعلقہ وزیر اور حکام کو جوابدہ ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ معصوم اور نومولودبچوں کو تحفظ فراہم نہیں کیا جا سکا اور قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو گئیں۔ والدین کو تحقیقات کے عمل میں شامل کیا جائے اور انہیں مکمل حقائق سے آگاہ کرکے مطمئن کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی غفلت اور کوتاہی کو بھی تحقیقات کا حصہ بنایا جائے۔ اگر ایمرجنسی گیٹ نہیں کھولا گیا تو اس کی بھی ذمہ داری کا تعین ہونا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ گیس سلنڈرز کا وارڈز کے اندر رکھا جانا بھی ایک اہم سوال ہے۔ حفاظتی انتظامات اور ہسپتال انتظامیہ کی ذمہ داریوں کا مکمل جائزہ لیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے المناک واقعات کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ تحقیقات شفاف انداز میں مکمل کی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔







