کام کی جگہ خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف آگاہی سیمینار کا انعقاد

کام کی جگہ خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف آگاہی سیمینار کا انعقاد

لاڑکانہ ۔ 26 اگست (اے پی پی):صوبائی محتسب سندھ، جسٹس (ر) شاہنواز طارق کی ہدایات پر محتسب ریجنل آفس لاڑکانہ کے کنسلٹنٹ سید شکیل حیدر کی جانب سے گورنمنٹ ایلیمنٹری کالج آف ایجوکیشن (مین) لاڑکانہ میں ”کام کی جگہ خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف آگاہی“ کے عنوان سے گزشتہ روزایک سیمینار منعقد کیا گیا۔اس موقع پر محتسب ریجنل آفس لاڑکانہ کے کنسلٹنٹ سید شکیل حیدر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیمینار کا مقصد خواتین کے لیے محفوظ، باعزت، باوقار اور مساوی کام کرنے کے ماحول کو فروغ دینا اور ہراسمنٹ ایکٹ 2010ءکے تحت خواتین کے قانونی حقوق اور شکایات کے ازالے کے لیے موجود طریقہ کار سے آگاہی فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کے لیے باعزت اور محفوظ کام کا ماحول کوئی مراعات نہیں بلکہ ان کا حق ہے، اس لیے ہر ادارے کو کام کی جگہ ہراسگی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کام کی جگہ پر جنسی، زبانی، جسمانی یا کسی بھی قسم کی ہراسگی سے پاک پیشہ ورانہ ماحول قائم کرنا ضروری ہے، جبکہ خواتین کی ذاتی رازداری، عزت، وقار اور جسمانی تحفظ کو یقینی بنانا اداروں کی اہم ذمہ داری ہے۔

سیمینار کے دوران مساوات اور انصاف پر بھی خصوصی زور دیا گیا، جبکہ خواتین کو روزگار، تربیت، ترقی، ذمہ داریوں، اعترافِ کارکردگی اور قیادت کے شعبوں میں مساوی مواقع فراہم کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ اس کے ساتھ کام اور زندگی میں توازن، پیشہ ورانہ ترقی اور اداروں میں خواتین کی مساوی شرکت کے حوالے سے بھی آگاہی فراہم کی گئی۔انہوں نے کہا کہ ہراسمنٹ ایکٹ 2010ءکی متعلقہ شقوں، شکایات کے ازالے کے نظام اور اداروں کے اندر قائم کی جانے والی انکوائری کمیٹیوں کے کردار کے بارے میں شرکاءکو آگاہ کیا گیا۔ انہوں نے ہراسگی کی شناخت، محفوظ طریقے سے شکایت رپورٹ کرنے، پیشہ ورانہ حدود اور انتظامیہ کی ذمہ داریوں پر بھی زور دیا۔

سیمینار میں یہ بھی آگاہی دی گئی کہ خواتین سے متعلق اداروں کے اندر فیصلے جنس یا ازدواجی حیثیت کے بجائے میرٹ اور کارکردگی کی بنیاد پر کیے جانے چاہئیں، تاکہ کام کی جگہ پر عزت، تحفظ، مساوات اور شمولیت پر مبنی ماحول کو یقینی بنایا جا سکے۔سیمینار میں تدریسی عملے، طلبہ اور کام کرنے والی خواتین نے شرکت کی، جہاں کام کی جگہ خواتین کو درپیش مسائل، ہراسگی کے خلاف قانونی فریم ورک، شکایت درج کرانے کے طریقہ کار اور ہراسگی کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات کے بارے میں تفصیلی آگاہی بھی فراہم کی گئی۔سیمینار میں شرکاءنے کام کی جگہ ہراسگی کے مختلف معاملات کے حوالے سے سوالات کیے، جن پر مناسب رپورٹنگ کے طریقہ کار، شکایت درج کرانے اور دستیاب قانونی سہولیات کے بارے میں آگاہی فراہم کی گئی۔

اس موقع پر سیمینار کے شرکائ کو سفارش کی گئی کہ ادارے قانون کے مطابق انکوائری کمیٹیاں قائم کریں، ملازمین کے لیے باقاعدگی سے آگاہی اور تربیتی پروگرام منعقد کریں، ہراسگی کے خلاف واضح پالیسیاں نافذ کریں، محفوظ شکایت کے ذرائع فراہم کریں اور شکایت کنندگان کو کسی بھی قسم کی انتقامی کارروائی سے تحفظ فراہم کریں۔اس موقع پر پرنسپل گورنمنٹ ایلیمنٹری کالج آف ایجوکیشن (مین) لاڑکانہ نیاز احمد ملاح نے آنے والے مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور اپنے خطاب میں کہا کہ ایسے سیمینارز کا انعقاد ایک اچھی کاوش ہے۔

یہ سیمینار کام کی جگہ ہراسگی کے معاملات کو سمجھنے اور آگاہی میں اضافے کے حوالے سے انتہائی معلوماتی اور مفید ہے۔اس موقع پر انفارمیشن آفیسر لاڑکانہ معراج احمد سامٹیو، منصور علی منگی، عبدالسمع سومرو، جنید علی گورڑ، اساتذہ، طلبہ، طالبات اور دیگر افراد نے شرکت کی۔