محکمہ زراعت کی کاشتکاروں کو کماد کی کاشت یکم ستمبر سے 30 ستمبر تک مکمل کرنے کی ہدایت
محکمہ زراعت کی کاشتکاروں کو کماد کی کاشت یکم ستمبر سے 30 ستمبر تک مکمل کرنے کی ہدایت

مزید خبریں
سیالکوٹ۔ 27 اگست (اے پی پی):محکمہ زراعت پنجاب نے کاشتکاروں کو ستمبر میں کماد کی کاشت کے حوالے سے سفارشات جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ بہتر پیداوار کے حصول کے لیے موزوں زمین، منظور شدہ اقسام اور زمین کی مناسب تیاری کو یقینی بنایا جائے جبکہ ستمبر کاشتہ کماد کی کاشت یکم ستمبر سے 30 ستمبر تک مکمل کی جائے۔ترجمان محکمہ زراعت سیالکوٹ کے مطابق کماد کی کاشت کے لیے میرا اور بھاری میرا زمین موزوں ہے جس میں پانی کے نکاس کا مناسب انتظام اور نامیاتی مادہ وافر مقدار میں موجود ہو۔ تاہم مناسب دیکھ بھال کے ذریعے کماد کو ہلکی اور نسبتاً کمزور زمین میں بھی کامیابی سے کاشت کیا جا سکتا ہے جبکہ سیم اور تھور سے متاثرہ زمین کماد کی کاشت کے لیے موزوں نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گنے کی جڑیں زمین میں کافی گہرائی تک جاتی ہیں، اس لیے کماد کی کاشت کے لیے زمین کو کم از کم ایک فٹ گہرائی تک اچھی طرح تیار کرنا ضروری ہے۔ کاشت سے قبل زمین کو نرم، بھربھرا اور ہموار کیا جائے اور زمین کی تیاری سے پہلے اچھی طرح گلی سڑی گوبر کی کھاد استعمال کی جائے۔ترجمان نے کہا کہ زمین کی بہتر تیاری کے لیے روٹاویٹر چلانے کے بعد دو مرتبہ چزل ہل ایک دوسرے کے مخالف رخ میں چلایا جائے اور بعد ازاں عام ہل اور سہاگہ کی مدد سے زمین کو مکمل طور پر تیار کیا جائے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ستمبر میں کاشت کے لیے درمیانی اور پچھیتی پکنے والی اقسام زیادہ موزوں رہتی ہیں۔ دریائی اور اس سے ملحقہ علاقوں کے لیے منظور شدہ اقسام سی پی 77-400، سی پی ایف 237، ایس پی ایف 213 اور ایچ ایس ایف 240 ہیں۔
دیگر علاقوں میں مذکورہ اقسام کے علاوہ سی پی ایف 246، سی پی ایف 247، سی پی ایف 248 اور سی پی ایف 249 بھی کاشت کی جا سکتی ہیں جبکہ ایس پی ایف 234 جنوبی پنجاب میں دریائی علاقوں کے علاوہ راجن پور، بہاولپور اور رحیم یار خان کے اضلاع کے لیے موزوں ترین قسم ہے۔
محکمہ زراعت نے کاشتکاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بہتر اور زیادہ پیداوار کے حصول کے لیے صرف محکمہ زراعت کی منظور شدہ اقسام کا صحت مند اور بیماریوں سے پاک بیج استعمال کریں اور کماد کی کاشت مقررہ وقت کے اندر مکمل کریں۔








