اقلیتی کاکس کو آگاہ کیا گیا کہ قائداعظم یونیورسٹی طلباء کو کوٹہ کی بنیاد پر نہیں بلکہ میرٹ اور ضرورت کی بنیاد پر وظائف فراہم کرتی ہے، سکالرشپ پروگرام کے تحت اقلیتی طلباء کے لیے کوئی علیحدہ نشستیں مختص نہیں کی گئی
سینیٹر دانش کمار کی زیر صدارت اقلیتی کاکس کا اجلاس ، ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں نافذ کی جانے والی سکالرشپ پالیسیوں اور پروگراموں پر غور
اسلام آباد۔27اگست (اے پی پی):اقلیتی کاکس کو آگاہ کیا گیا کہ قائداعظم یونیورسٹی طلباء کو کوٹہ کی بنیاد پر نہیں بلکہ میرٹ اور ضرورت کی بنیاد پر وظائف فراہم کرتی ہے، سکالرشپ پروگرام کے تحت اقلیتی طلباء کے لیے کوئی علیحدہ نشستیں مختص نہیں کی گئی ۔ اقلیتی کاکس کا اجلاس سینیٹر دنیش کمار کی زیر صدارت جمعرات کو یہاں اولڈ پپس ہال اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ارکان پارلیمنٹ پونجو بھیل، مہیش کمار ملانی، ڈاکٹر نیلسن عظیم، نیلم، سنجے پروانی اور نوید عامر کے علاوہ سیکرٹری وزارت مذہبی امور، چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)، ڈائریکٹر جنرل انسانی حقوق اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے افسران نے بھی شرکت کی۔ سینیٹ سیکریٹریٹ سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ایچ ای سی کے نمائندے نے اجلاس کو ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں نافذ کی جانے والی سکالرشپ پالیسیوں اور پروگراموں کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے کاکس کو بتایا کہ قائداعظم یونیورسٹی طلباء کو کوٹہ کی بنیاد پر نہیں بلکہ میرٹ اور ضرورت کی بنیاد پر وظائف فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سکالرشپ پروگرام کے تحت اقلیتی طلباء کے لیے کوئی علیحدہ نشستیں مختص نہیں کی گئی ہیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ احساس پروگرام کے تحت اقلیتی طلباء کو پروگرام بند کرنے سے قبل دو بیچوں کے لیے وظائف دیئے گئے تھے۔ پہلے بیچ میں 660 مرد اور 253 خواتین اقلیتی طلباء کو سکالر شپ دی گئی جبکہ دوسرے بیچ میں 592 مرد اور 271 خواتین اقلیتی طلباء نے پروگرام سے استفادہ کیا۔ ایچ ای سی کے نمائندے نے وضاحت کی کہ یونیورسٹیاں سکالرشپ کے لیے سالانہ فنڈز مختص کرتی ہیں جبکہ طلبہ کی تعلیمی کارکردگی اور مالی ضروریات کا جائزہ لینے کے لیے سکالرشپ کمیٹیاں قائم ہیں جو اس فنڈ کو مختص کرتی ہیں۔ میرٹ پر مبنی وظائف اعلیٰ تعلیمی کارکردگی کو برقرار رکھنے والے طلبا کو دیئے جاتے ہیں جبکہ ضرورت پر مبنی وظائف یتیموں اور مالی طور پر پسماندہ طلباء کو دیئے جاتے ہیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ 119 یونیورسٹیاں ایچ ای سی کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں اور حکومت نے وظائف کے لیے تقریباً 65 ارب روپے مختص کئے ہیں ۔ کنوینر نے ایچ ای سی کو ہدایت کی کہ وہ کاکس کمیٹی کو گزشتہ تین سالوں کے دوران دیئے گئے سکالرشپس بالخصوص اقلیتی طلباء کو دیئے گئے وظائف کی تعداد کا ریکارڈ پیش کرے۔ انہوں نے اقلیتوں کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے خطیر رقم مختص کرنے کے حکومت بلوچستان کے اقدام کو بھی سراہا۔
انہوں نے عبادت گاہوں کی تزئین و آرائش پر اٹھنے والے اخراجات اور سکول کی سطح پر اقلیتی بچوں کی تعداد کے حوالے سے سکالرشپ فراہم کرنے کی تفصیلات بھی طلب کیں۔ ایم این اے ڈاکٹر نیلسن عظیم نے پاکستان بھر کی یونیورسٹیوں کو طلباء کی ہمہ گیر ترقی کو یقینی بنانے کے لیے ہم نصابی سرگرمیوں کے لیے مناسب کھیل کے میدان اور جگہیں فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ 18 ویں آئینی ترمیم کے بعد کئی مضامین صوبوں کے قانون سازی اور انتظامی دائرہ کار میں آتے ہیں۔








