پمز ہسپتال کے واقعہ کی تحقیقات مکمل شفاف انداز میں کی جائیں گی ،ایک آدمی بھی سپیئر نہیں ہوگا،وفاقی وزیر صحت

پمز ہسپتال کے واقعہ کی تحقیقات مکمل شفاف انداز میں کی جائیں گی ،ایک آدمی بھی سپیئر نہیں ہوگا،وفاقی وزیر صحت

اسلام آباد۔28اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی صحت ،خدمات، ضوابط و رابطہ سید مصطفیٰ کمال نے پمز ہسپتال میں نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے کے واقعہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی فرد کو بچایا نہیں جائے گا، واقعہ کی تحقیقات مکمل شفاف انداز میں کی جائیں گی اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔

جمعہ کو ایوان بالا کے اجلاس میں پمز واقعہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ اس سے زیادہ اندوہناک اور دل خراش واقعہ نہیں ہوسکتا، معصوم بچے اپنی جانوں سے چلے گئے اور اس پر کوئی تسلی بخش وضاحت موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ وفاقی وزیر صحت کی حیثیت سے اس معاملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں اور پارلیمان کے سامنے جوابدہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ واقعہ کی تحقیقات کے لئے وزیراعظم کی جانب سے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور اس کی رپورٹ 24 گھنٹوں میں متوقع ہے، اگر رپورٹ میں کوئی پہلو تشنہ رہ گیا تو ارکان کی تجاویز کو ضرور مدنظر رکھا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعظم اور حکومت کی جانب سے کسی شخص کو بچانے یا رپورٹ چھپانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ’’ایک آدمی بھی سپیئر نہیں ہوگا‘‘۔وفاقی وزیر نے کمیٹی کی مدت کو صرف 40 دن تک محدود رکھنے کے بجائے اسے کھلا رکھنے کی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات کو چند دنوں کی کارروائی تک محدود نہیں کیا جانا چاہئے، کمیٹی کو اس وقت تک کام جاری رکھنا چاہئے جب تک تمام متعلقہ ادارے اور ماہرین آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے قابل عمل لائحہ عمل پر متفق نہ ہوجائیں۔

انہوں نے کہا کہ وزارت صحت کے پاس گزشتہ 14 ماہ کی متعلقہ معلومات اور ریکارڈ موجود ہے اور وہ تحقیقات کرنے والی کمیٹی کو تمام معلومات فراہم کرنے کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ افسران کو کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ حقائق سامنے آسکیں اور مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جاسکے۔ سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پمز کا واقعہ نظام میں موجود خامیوں کی نشاندہی کا ایک موقع بھی ہے اور ہمیں اس سانحے کو صرف ایک ہسپتال تک محدود نہیں رکھنا چاہئے۔

انہوں نے ماہرین کو تحقیقات اور اصلاحات کے عمل میں شامل کرنے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وزارت ماہرین کی رہنمائی اور تجاویز پر عمل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ہر سال بڑی تعداد میں ایسے بچے اور مائیں بھی جاں بحق ہوتی ہیں جن کی جانیں بچائی جاسکتی ہیں۔ انہوں نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک سال کے دوران پانچ سال تک کی عمر کے تقریباً چار لاکھ بچے جاں بحق ہوتے ہیں جبکہ حمل اور زچگی کے دوران ہزاروں ماؤں کی جانیں ضائع ہوجاتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان اموات کی روک تھام کے لئے بھی مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف پمز کے موجودہ واقعہ کے ذمہ داروں کا تعین کرنا نہیں بلکہ پورے نظام میں بنیادی اور مؤثر اصلاحات لانا ہے تاکہ آئندہ کسی بچے کی جان غفلت یا انتظامی کمزوری کے باعث ضائع نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی وزارت کی تمام متعلقہ معلومات اور ریکارڈ پارلیمانی کمیٹی کے سامنے رکھنے کے لئے تیار ہیں اور تحقیقات کے عمل میں مکمل تعاون کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اس معاملے کو دبانے کے بجائے ذمہ داروں کا تعین کرے گی اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔وفاقی وزیر نے ایوان بالا کے ارکان کی جانب سے واقعہ پر تشویش اور تجاویز پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس سانحے کو چند روزہ بحث تک محدود نہیں ہونا چاہئے بلکہ اسے مستقبل کے لئے جامع اصلاحات کی بنیاد بنانا چاہئے۔