ایم ایل-1 ریلوے لائن کی بہتری، توسیع اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، منصوبے کی تکمیل کیلئے قابل عمل اور جامع مالیاتی حکمت عملی وضع کی جائے،احسن اقبال

ایم ایل-1 ریلوے لائن کی بہتری، توسیع اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، منصوبے کی تکمیل کیلئے قابل عمل اور جامع مالیاتی حکمت عملی وضع کی جائے،احسن اقبال

اسلام آباد۔28اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے وزیراعظم کی ہدایت پر ایم ایل-1 منصوبے کے روہڑی تا ملتان سیکشن کی مالی اعانت کے لیے قائم کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایم ایل-1 ریلوے لائن کی بہتری، توسیع اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور منصوبے کی تکمیل کے لیے قابل عمل اور جامع مالیاتی حکمت عملی وضع کی جائے۔اجلاس میں ایم ایل-1 منصوبے کی مکمل تکمیل کے لیے مختلف ذرائع سے مالی اعانت کے امکانات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جن میں سرکاری ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی)، بیرونی مالی معاونت، سرکاری و نجی شراکت داری، مقامی تجارتی بینکوں اور سرمایہ مارکیٹ سے مالی وسائل کا حصول شامل ہے۔

کمیٹی نے منصوبے کی تکمیل کے لیے ایک جامع اور حتمی مالیاتی منصوبہ مرتب کرنے پر بھی غور کیا۔اجلاس میں فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کی جانب سے ایم ایل-1 کے روہڑی تا ملتان سیکشن کو نجی سرمایہ کاری کے ذریعے تعمیر کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ روہڑی تا ملتان سیکشن کی تعمیر پر 450 ارب روپے سے زائد لاگت کا تخمینہ ہے۔اجلاس کو ریلوے لائن کی موجودہ حالت اور اس کے باعث پیش آنے والے حادثات کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ گزشتہ دس برس کے دوران ریلوے لائن کے بوسیدہ اور خستہ حال ہونے کے باعث ٹرینوں کے پٹری سے اترنے کے 399 واقعات پیش آئے جبکہ اس عرصے میں 158 حادثات بھی رپورٹ ہوئے۔وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ ایم ایل-1 ریلوے لائن کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور اس کی استعداد میں اضافہ حکومت کی ترجیح ہے۔

انہوں نے کہا کہ جدید، محفوظ اور موثر ریلوے نظام ملک کی معاشی سرگرمیوں، عوامی سفری سہولیات اور تجارتی نقل و حمل کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایشیائی ترقاتی بینک کی مالی معاونت سے کراچی تا روہڑی ریلوے سیکشن پر کام رواں مالی سال میں شروع کر دیا جائے گا اور اس حوالے سے تمام ضروری اقدامات بروقت مکمل کیے جائیں۔

روہڑی تا ملتان سیکشن کے حوالے سے وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ منصوبے کی مستند اور غیر جانب دار تھرڈ پارٹی سے جامع فزیبلٹی سٹڈی کرائی جائے تاکہ منصوبے کی تکنیکی، مالیاتی اور معاشی افادیت کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جاسکے اور اس کی بنیاد پر قابل عمل مالیاتی ماڈل وضع کیا جائے۔احسن اقبال نے وزارت ریلوے کو ہدایت کی کہ مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے لوکوموٹیوز، مال بردار ریل گاڑیوں اور مسافر کوچز کے حوالے سے مکمل منصوبہ بندی کی جائے اور ان تمام ضروریات کے لیے درکار مالی وسائل کا جامع تخمینہ تیار کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے ساتھ ساتھ ریل کے انجنوں، مال بردار گاڑیوں اور مسافر کوچز کی دستیابی بھی ایک موثر اور جدید ریلوے نظام کے لیے ناگزیر ہے، اس لیے ان تمام اجزاء کو ایک مربوط منصوبہ بندی کا حصہ بنایا جائے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ترقیاتی بجٹ میں مسلسل کمی کے باعث قومی اور عوامی اہمیت کے حامل متعدد منصوبے متاثر ہو رہے ہیں، اس لیے دستیاب وسائل کو موثر انداز میں بروئے کار لانے اور متبادل مالیاتی ذرائع تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایم ایل-1 محض ایک ریلوے منصوبہ نہیں بلکہ پاکستان کے مواصلاتی ڈھانچے، تجارت، صنعت اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ایک اہم قومی منصوبہ ہے جس کی بروقت اور موثر تکمیل سے ملک میں نقل و حمل کے نظام کو جدید بنانے میں مدد ملے گی۔اجلاس میں متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور ایم ایل-1 منصوبے کی مالی اعانت، روہڑی تا ملتان سیکشن کی تعمیر، فزیبلٹی سٹڈی اور مستقبل کی ریلوے ضروریات سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔