راولپنڈی میں منی ڈیمز کی الاٹمنٹ کے لیے قرعہ اندازی، 27 کاشتکار کامیاب

وزیر اعلیٰ پنجاب کے خطہ پوٹھوار کے لیے زرعی ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت ضلع راولپنڈی میں کاشتکاروں کے درمیان منی ڈیمز کی الاٹمنٹ کے لیے قرعہ اندازی کی تقریب منعقد ہوئی جس میں 56 درخواستوں میں سے 27 خوش نصیب کاشتکاروں کے نام قرعہ اندازی کے ذریعے منتخب کیے گئے

راولپنڈی۔31اگست (اے پی پی):وزیر اعلیٰ پنجاب کے خطہ پوٹھوار کے لیے زرعی ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت ضلع راولپنڈی میں کاشتکاروں کے درمیان منی ڈیمز کی الاٹمنٹ کے لیے قرعہ اندازی کی تقریب منعقد ہوئی جس میں 56 درخواستوں میں سے 27 خوش نصیب کاشتکاروں کے نام قرعہ اندازی کے ذریعے منتخب کیے گئے۔تقریب کے مہمان خصوصی رکن پنجاب اسمبلی اور چیئرمین وزیر اعلیٰ انسپکشن ٹیم راجہ محمد حنیف ایڈووکیٹ تھے۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل سوائل کنزرویشن ڈاکٹر پرویز سکندر، ڈائریکٹر زراعت توسیع راولپنڈی ڈویژن سید شاہد افتخار بخاری، اسسٹنٹ کمشنر راولپنڈی، ڈائریکٹر سوائل کنزرویشن عتیق الرحمان، ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع سعدیہ بانو، محکمہ زراعت کے دیگر افسران اور زمیندار بھی موجود تھے۔قرعہ اندازی میں منتخب ہونے والے 27 کاشتکاروں میں سے 12 کا تعلق تحصیل راولپنڈی اور تحصیل ٹیکسلا، 12 کاشتکار تحصیل گوجر خان جبکہ 3 کاشتکار تحصیل کہوٹہ اور تحصیل کلر سیداں سے ہیں۔حکومت پنجاب کے زرعی ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت تین سال کے دوران راولپنڈی ڈویژن اور ضلع خوشاب میں 70 فیصد سبسڈی پر مجموعی طور پر 600 منی ڈیمز تعمیر کیے جائیں گے۔ منصوبے کے پہلے سال راولپنڈی ڈویژن میں 111 منی ڈیمز کی تعمیر مکمل کی جا چکی ہے۔

حکام کے مطابق منی ڈیمز کی تعمیر سے خطہ پوٹھوار میں پانی کے تحفظ کو یقینی بنانے، آبی وسائل میں اضافہ کرنے اور بارانی علاقوں میں زرعی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ کاشتکار ان ڈیمز کے ذریعے فصلوں، باغات اور سبزیوں کی آبپاشی کر سکیں گے جس سے زرعی پیداوار میں اضافے کے ساتھ ان کی آمدن میں بھی بہتری متوقع ہے۔اس موقع پر راجہ محمد حنیف ایڈووکیٹ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے گزشتہ چند برسوں کے دوران زراعت کی ترقی کے لیے تاریخ ساز اقدامات کیے ہیں۔ خطہ پوٹھوار کے لیے زرعی ٹرانسفارمیشن پلان کا آغاز یہاں کے کاشتکاروں کے لیے ایک انمول تحفہ ہے۔ پروگرام کے تحت اصلاح آبپاشی کے منصوبوں اور جدید زرعی تحقیق پر عمل درآمد جاری ہے جبکہ کسان کارڈ کے ذریعے زرعی مداخل کی خریداری کے لیے بلاسود قرضوں اور گرین ٹریکٹرز پر سبسڈی کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ زراعت کی ترقی موجودہ پنجاب حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور حکومت کاشتکاروں کو جدید زرعی سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل سوائل کنزرویشن ڈاکٹر پرویز سکندر نے کہا کہ بارانی علاقوں میں فصلوں کی آبپاشی ہمیشہ سے ایک اہم مسئلہ رہی ہے۔ زمین کی ناہمواری اور زیر زمین پانی کی گہرائی کے باعث کئی علاقوں میں آبپاشی مشکل ہو جاتی ہے۔

ان مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت پنجاب نے منی ڈیمز کی سکیم متعارف کرائی ہے جس سے بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنانے کے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے وژن کے مطابق زراعت میں جدید نظام کو فروغ دیا جائے گا۔