وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی زیر صدارت محکمہ توانائی و برقیات کے جاری منصوبوں اور اہم امور سے متعلق اجلاس

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت منگل کو محکمہ توانائی و برقیات کے جاری منصوبوں اور اہم امور سے متعلق اجلاس کا انعقاد کیا گیا ۔وزیر اعلیٰ ہائوس پشاور تر جمان کے مطابق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی ہائیڈل بجلی، تیل، گیس اور ایل پی جی کے وسائل ملکی ضروریات کا اہم حصہ پورا کر رہے ہیں۔

پشاور۔ 01 ستمبر (اے پی پی):وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت منگل کو محکمہ توانائی و برقیات کے جاری منصوبوں اور اہم امور سے متعلق اجلاس کا انعقاد کیا گیا ۔وزیر اعلیٰ ہائوس پشاور تر جمان کے مطابق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی ہائیڈل بجلی، تیل، گیس اور ایل پی جی کے وسائل ملکی ضروریات کا اہم حصہ پورا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا ملک کی مجموعی ہائیڈل بجلی پیداوار کا 70 فیصد سے زائد نیشنل گرڈ کو فراہم کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی ٹرانسمیشن لائن نہ ہونے کے باعث خیبرپختونخوا اپنی پیدا کردہ بجلی وفاق کو فروخت کرنے پر مجبور ہے۔انہوں نے کہا کہ دوسری طرف اے جی این قاضی فارمولے کے تحت وفاق کے ذمے این ایچ پی کے بقایاجات 2300 ارب سے تجاوز کر چکے ہیں۔

اجلاس کو اس موقع پر خصوصی بر یفنگ بھی دی گئی ۔بریفنگ کے مطابق پہلے عبوری انتظام کے تحت باقاعدہ این ایچ پی کی مد میں بھی وفاق کے ذمے 78 ارب روپے سے زائد بقایاجات ہیں۔ بریفنگ کے مطابق ملک کی 70 فیصد سے زائد ہائیڈل بجلی پیدا کرنے کے باوجود این ایچ پی کی مد میں پنجاب کو خیبرپختونخوا سے زیادہ رقوم مل رہی ہیں۔ بریفنگ کے مطابق گزشتہ تین سال میں خیبرپختونخوا کو این ایچ پی کی مد میں 87.7 ارب روپے ملے، جبکہ پنجاب کو 160.8 ارب روپے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ این ایچ پی کی ادائیگی میں تاخیر اور عدم تناسب سے خیبرپختونخوا کی مالی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا بجلی کی قابل اعتماد ترسیل اور صنعتی ضروریات کے لیے صوبائی ٹرانسمیشن و گرڈ نظام قائم کر رہا ہے۔وزیراعلیٰ کی صوبائی ٹرانسمیشن لائن کا منصوبہ سرمایہ کار کانفرنس میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ صوبائی ٹرانسمیشن لائن کا منصوبہ انتہائی منافع بخش ہے، متعدد ممالک اس میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قدرتی وسائل اور توانائی کی پیداوار کے باوجود خیبرپختونخوا کے عوام کو ان کے وسائل کا فائدہ نہ ملنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا یومیہ 530 ایم ایم سی ایف ڈی قدرتی گیس پیدا کر رہا ہے جبکہ صوبے کی کھپت 200 ایم ایم سی ایف ڈی ہے۔انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 158 کے تحت گیس پیدا کرنے والے صوبے کو اپنی ضروریات پوری کرنے میں ترجیح حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا یومیہ 850 ٹن ایل پی جی پیدا کر رہا ہے جبکہ صوبے کی یومیہ کھپت 600 ٹن ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا ملکی خام تیل کا 48 فیصد اور ایل پی جی کا 38 فیصد فراہم کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اپنے وسائل کے باوجود خیبرپختونخوا کے عوام کو جائز فائدہ نہ ملنا آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے کے حقوق کے تحفظ کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ مضبوط اور باضابطہ طور پر معاملہ اٹھایا جائے۔

مزید خبریں