وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے سی پیک کے 2025ء تا 2029ء کے عملی منصوبے پر عمل درآمد کے ایک سال کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے تفصیلی اجلاس کی صدارت کی۔ یہ عملی منصوبہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کے اگست 2025ء میں دورہ چین کے دوران طے پایا تھا۔
سی پیک کے دوسرے مرحلے کی معاشی صلاحیت سے بھرپور استفادے کے لیے نجی شعبے کو قائدانہ کردار ادا کرنا ہوگا، احسن اقبال

مزید خبریں
اسلام آباد۔1ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے سی پیک کے 2025ء تا 2029ء کے عملی منصوبے پر عمل درآمد کے ایک سال کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے تفصیلی اجلاس کی صدارت کی۔ یہ عملی منصوبہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کے اگست 2025ء میں دورہ چین کے دوران طے پایا تھا۔ اجلاس میں عملی منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے طے شدہ ترجیحات پر عمل درآمد مزید تیز کرنے کے اقدامات پر غور کیا گیا۔اجلاس کے دوران احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات مشکل حالات میں ہمیشہ مزید مضبوط ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شدید توانائی بحران کے دوران چین نے پاکستان کو اہم سرمایہ کاری فراہم کی۔ سی پیک کے پہلے مرحلے میں چین نے تقریباً 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی اور پاکستان کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں تقریباً 8000 میگاواٹ کا اضافہ ہوا جس سے توانائی بحران پر قابو پانے اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے میں مدد ملی۔ انہوں نے تھر کے کوئلے کے ذخائر کی ترقی اور فائبر آپٹک نیٹ ورک کو سی پیک کے پہلے مرحلے کی اہم کامیابیاں قرار دیتے ہوئے کہا کہ دوسرے مرحلے میں اسی بنیاد پر کاروباری تعاون، صنعتی ترقی، زرعی جدیدکاری، معدنیات، انسانی وسائل اور ٹیکنالوجی کے شعبوں کو آگے بڑھایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے کی ترجیحات اڑان پاکستان کے پانچ بنیادی ستونوں سے ہم آہنگ ہیں، جنہیں ترقی، روزگار و معاش، جدت، سبز معیشت اور روابط کی پانچ راہداریوں کے ذریعے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ ترقی کی راہداری صنعتی اور زرعی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرکے برآمدات کو فروغ دے گی جبکہ روزگار و معاش کی راہداری سماجی ترقی اور کم ترقی یافتہ علاقوں کی بہتری پر توجہ مرکوز کرے گی۔ جدت کی راہداری ای-پاکستان کے وژن سے ہم آہنگ ہے جس کے ذریعے اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی استعداد بڑھانے اور لاکھوں نوجوانوں کو جدید فنی مہارتیں فراہم کرنے پر کام کیا جا رہا ہے، ’’ہماری نوجوان آبادی پاکستان کا سب سے بڑا معاشی اثاثہ ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ سبز معیشت کی راہداری کے تحت موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے، پانی و غذائی تحفظ اور زرعی جدیدکاری پر توجہ دی جائے گی۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت نے ایک ہزار رعی ماہرین کو جدید زرعی ٹیکنالوجی کی تربیت کے لیے چین بھیجنے کا پروگرام شروع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے ملک میں تربیت یافتہ انسانی وسائل کا مضبوط حلقہ تشکیل پائے گا اور بہتر بیجوں، زرعی مشینری، پانی کے موثر استعمال اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ فصلوں کے ذریعے سبز انقلاب 2.0 کی بنیاد رکھی جائے گی۔احسن اقبال نے کہا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے کی معاشی صلاحیت سے بھرپور استفادے کے لیے نجی شعبے کو قائدانہ کردار ادا کرنا ہوگا جبکہ حکومت سرمایہ کاری اور کاروباری شراکت داری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات میں اضافہ 2035ء تک 100 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف پاکستان کی معاشی بقاء کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے حکومت اور نجی شعبے کے درمیان موثر تعاون کے ذریعے مسابقتی صلاحیت بہتر بنانے اور میڈ ان پاکستان کو عملی منصوبے پر بروقت عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ ا حسن اقبال نے کہا کہ اقتصادی تبدیلی کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان کسی بھی قسم کے سیاسی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ تزویراتی اور سفارتی کامیابیوں کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنے کے لیے قومی یکجہتی، اصلاحات اور بہتر طرز حکمرانی ضروری ہیں۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان کے مستقبل اور نوجوانوں کے بہتر کل کے لیے ملکی اقتصادی ترقی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت ہنگامہ آرائی کی نہیں بلکہ معیشت کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔ ا نہوں نے زور دیتے ہوئے تمام سیاسی قوتوں پر زور دیا کہ وہ معیشت کو مضبوط بنانے اور برآمدات پر مبنی خود انحصار پاکستان کی تعمیر پر توجہ مرکوز کریں۔







