بھارت میں رواں سال اگست 1901 کے بعد سے تاریخ کا گرم ترین مہینہ ریکارڈ

بھارت میں رواں سال اگست 1901 کے بعد سے اب تک کا سب سے گرم ترین مہینہ رہا، جہاں ملک کا اوسط درجہ حرارت 28.01 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔

نئی دہلی۔2ستمبر (اے پی پی):بھارت میں رواں سال اگست 1901 کے بعد سے اب تک کا سب سے گرم ترین مہینہ رہا، جہاں ملک کا اوسط درجہ حرارت 28.01 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔

اردو نیوز کے مطابق بھارت کے محکمہ موسمیات نے گزشتہ روز بتایا ہے کہ اگست کا اوسط درجہ حرارت طویل مدتی اوسط سے 0.67 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا۔ محکمہ موسمیات نے یہ نتائج اگست کے اختتام پر جاری کیے۔ محکمے نے بتایا کہ اس طرح اگست کے اوسط درجہ حرارت کا سابقہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا، جو 2023 میں 28.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق اگست میں بھارت میں مون سون کی بارشیں معمول سے 16 فیصد کم رہیں، جس کے باعث گرمی میں اضافہ ہوا۔ اس کی ایک وجہ ال نینو کی صورتحال بھی تھی۔ ال نینو ایک قدرتی طور پر رونما ہونے والا موسمیاتی مظہر ہے جو دنیا بھر میں ہوائوں، فضائی دبائو اور بارش کے نظام میں تبدیلیاں پیدا کرتا ہے۔

بھارت اور جنوب مشرقی ایشیا میں ال نینو کے باعث عموماً خشک موسم پیدا ہوتا ہے۔ سائنسدانوں کو خدشہ ہے کہ یہ مظہر پہلے ہی فوسل ایندھن جلانے کے باعث گرم ہوتی ہوئی زمین کی گرمی میں مزید اضافہ کرے گا جبکہ شدید موسمی حالات میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک بھارت شدید گرمی کے خطرے سے خاص طور پر دوچار ہے۔ موسمیاتی تبدیلی شدید گرمی کے واقعات کی تعداد اور شدت میں اضافہ کر رہی ہے اور حالیہ برسوں میں ملک کے بعض حصوں میں درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھتا دیکھا گیا ہے۔