پاکستان کے مینوفیکچرنگ شعبے کی سرگرمیوں میں اگست کے دوران مزید بہتری ریکارڈ کی گئی جس کے نتیجے میں ایچ بی ایل پاکستان مینوفیکچرنگ پرچیزنگ مینیجرز انڈیکس (پی ایم آئی) جولائی کے 51.7 سے بڑھ کر 51.8 ہوگیا، جو مارچ کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
پاکستان کے مینوفیکچرنگ شعبے کی سرگرمیوں میں اگست کے دوران مزید بہتری ریکارڈ کی گئی ہے،خرم شہزاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔2ستمبر (اے پی پی):پاکستان کے مینوفیکچرنگ شعبے کی سرگرمیوں میں اگست کے دوران مزید بہتری ریکارڈ کی گئی جس کے نتیجے میں ایچ بی ایل پاکستان مینوفیکچرنگ پرچیزنگ مینیجرز انڈیکس (پی ایم آئی) جولائی کے 51.7 سے بڑھ کر 51.8 ہوگیا، جو مارچ کے بعد بلند ترین سطح ہے۔وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا کہ ایس اینڈ پی گلوبل کے مرتب کردہ انڈیکس کے مطابق مینوفیکچرنگ شعبے میں بہتری کی بنیادی وجوہات میں نئے آرڈرز میں اضافہ، پیداوار میں مسلسل توسیع، برآمدی آرڈرز میں بہتری اور کاروباری اعتماد میں اضافہ شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اگست میں نئے آرڈرز میں گزشتہ پانچ ماہ کے دوران تیز ترین رفتار سے اضافہ ہوا جبکہ برآمدی آرڈرز میں مسلسل چوتھے ماہ بہتری ریکارڈ کی گئی۔ مضبوط آرڈر فلو کے باعث پیداوار میں بھی توسیع کا سلسلہ جاری رہا۔مینوفیکچرنگ کمپنیوں نے مستقبل میں طلب میں اضافے کی توقعات کے پیش نظر اپنی خریداری کی سرگرمیوں میں مسلسل تیسرے ماہ اضافہ کیا اور انوینٹری میں بھی مزید اضافہ کیا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ سپلائی کے حالات میں بھی بہتری آئی ہے اور ڈیلیوری میں تاخیر نومبر 2025ء کے بعد کم ترین سطح پر آگئی۔ اسی طرح پیداواری لاگت کے دبائو میں بھی کمی دیکھی گئی اور ان پٹ لاگت میں مہنگائی کی رفتار 2026ء کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔
کاروباری اعتماد میں بھی نمایاں بہتری آئی جبکہ مستقبل میں فروخت میں مسلسل اضافے کی توقعات کے باعث کاروباری اداروں کی امید رواں سال کی بلند ترین سطحوں میں شامل ہوگئی۔ماہرین کے مطابق طلب میں بہتری، برآمدی آرڈرز میں مسلسل اضافہ، پیداوار میں توسیع اور کاروباری اعتماد میں اضافے سے پاکستان کے مینوفیکچرنگ شعبے میں مثبت رفتار برقرار رہنے کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔مینوفیکچرنگ سرگرمیوں میں یہ بہتری ملکی صنعتی پیداوار، برآمدات اور مجموعی معاشی سرگرمیوں کے لیے ایک مثبت اشارہ قرار دی جا رہی ہے۔








