کرغز-پاکستان شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ ، دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور بین الاقوامی ایجنڈے کے اہم امور پر جامع تبادلہ خیال کیا، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کے کرغزستان کے دورہ پر مشترکہ اعلامیہ
کرغز-پاکستان شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ ، دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور بین الاقوامی ایجنڈے کے اہم امور پر جامع تبادلہ خیال کیا، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کے کرغزستان کے دورہ پر مشترکہ اعلامیہ

مزید خبریں
بشکیک۔2ستمبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کرغزستان کے صدر صادیر ژاپاروف کی دعوت پر 2 ستمبر کو کرغزستان کا سرکاری دورہ کیا، دورے کے دوران کرغز جمہوریہ کے صدر اور وزیرِ اعظم کے درمیان مذاکرات ہوئے جن میں دونوں رہنماؤں نے کرغز-پاکستان تعلقات کے تمام پہلوؤں کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی ایجنڈے کے اہم امور پر جامع تبادلہ خیال کیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق بدھ کو یہاں جاری مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات روایتی دوستانہ اور خوشگوار ماحول میں ہوئے جو کرغزستان اور پاکستان کے درمیان اعلیٰ سطح کے سیاسی مفاہمت اور باہمی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی احترام، خودمختار مساوات، علاقائی سالمیت، اندرونی معاملات میں عدم مداخلت اور باہمی مفاد کے اصولوں پر مبنی دوطرفہ تعلقات میں مسلسل مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کرغز-پاکستان شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
رہنماؤں نے کہا کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم کا سرکاری دورہ اعلیٰ سطحی فعال سیاسی مکالمے کا منطقی تسلسل ہے جو کرغز جمہوریہ کے صدر صادیر ژاپاروف کے 3 سے 4 دسمبر 2025 تک پاکستان کے سرکاری دورے اور صدر مملکت آصف علی زرداری کے 6 سے 9 جولائی 2026 تک کرغزستان کے سرکاری دورے کے دوران جاری رہا۔دونوں فریقوں نے طے پانے والے معاہدوں پر مستقل عملدرآمد کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے تجارت و اقتصادیات، سرمایہ کاری، نقل و حمل و لاجسٹکس، توانائی اور انسانی بنیادوں پر تعاون کو مزید فروغ دے کر دوطرفہ تعاون کو عملی طور پر ایک نئی اور معیاری سطح تک لے جانے کے پختہ عزم کا اظہار کیا۔انہوں نے 2026۔2027 کے لئے کرغزستان کی وزارتِ خارجہ اور پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے درمیان تعاون کے پروگرام پر دستخط کا خیرمقدم کیا اور قرار دیا کہ یہ دونوں ممالک کی وزارتِ خارجہ کے درمیان سیاسی مکالمے اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے اس بات کی توثیق کی کہ تجارتی، اقتصادی اور سرمایہ کاری کے تعاون کو مزید گہرا کرنا کرغزستان۔پاکستان شراکت داری کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے دونوں ممالک کی حکومتوں کو ہدایت کی کہ اعلیٰ سطح کے دوروں کے دوران طے پانے والے معاہدوں پر مستقل عملدرآمد یقینی بنایا جائے، تجارت، اقتصادی، سائنسی و تکنیکی تعاون سے متعلق کرغز-پاکستان بین الحکومتی کمیشن کی عملی کارکردگی کو مزید مؤثر بنایا جائے اور دونوں ممالک کے سرکاری اداروں، متعلقہ تنظیموں، مالیاتی اداروں اور کاروباری برادریوں کے درمیان مؤثر روابط یقینی بنائے جائیں۔ مشترکہ اعلامیہ کے مطابق رہنماؤں نے اقتصادی شراکت داری کو ایک نئے مرحلے میں منتقل کرنے کی ضرورت پر زور دیا جس کا مقصد باہمی تجارت کے حجم میں اضافہ، سرمایہ کاری تعاون میں توسیع، صنعتی تعاون کا فروغ، مشترکہ منصوبوں کا قیام اور معیشت کے ترجیحی شعبوں میں باہمی مفاد کے منصوبوں پر عملدرآمد ہے۔
دونوں فریقوں نے کان کنی اور معدنیات کی پراسیسنگ، زراعت، خوراک، ٹیکسٹائل اور ہلکی صنعت، ادویہ سازی، حلال صنعت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے شعبوں میں صنعتی اور سرمایہ کاری تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا جبکہ مشترکہ منصوبوں کے قیام، مقامی سطح پر پیداوار، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور باہمی مفاد کے سرمایہ کاری منصوبوں پر خصوصی توجہ دینے پر زور دیا۔ انہوں نے متعلقہ سرکاری حکام کو جامع ایکشن پلان تیار کرنے اور اس پر عملدرآمد کی ہدایت کی جس کا مقصد مرحلہ وار دوطرفہ تجارت کے حجم کو 200 ملین ڈالر تک بڑھانا، باہمی تجارت کے طریقۂ کار کو بہتر بنانا، مشترکہ سرمایہ کاری منصوبوں کی حمایت، صنعتی تعاون کو فروغ دینا اور دونوں ممالک کے درمیان کاروباری سرگرمیوں کو وسعت دینا ہے۔فریقین نے دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان براہِ راست روابط کے فروغ میں کرغز۔پاکستان مشترکہ بزنس کونسل کے اہم کردار پر زور دیتے ہوئے دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی منصوبوں کے فروغ کے لئے اس کی سرگرمیوں میں سہولت فراہم کرنے پر اتفاق کیا۔
دونوں رہنماؤں نے کرغز جمہوریہ کے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے درمیان تعاون کے معاہدے پر دستخط کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے بین الاقوامی سرمایہ کاری، جدید مالیاتی ٹیکنالوجیز، جدت اور عالمی کاروبار کو راغب کرنے کے لئے کرغز جمہوریہ میں تمچی اسپیشل فنانشل انویسٹمنٹ ٹیریٹری کے قیام کا خیرمقدم کیا۔انہوں نے تمچی اسپیشل فنانشل انویسٹمنٹ ٹیریٹری اور پاکستان کے مالیاتی اداروں، سرمایہ کاری فنڈز، بینکوں اور کاروباری برادریوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے میں دلچسپی کا اظہار کیا جس میں مشترکہ سرمایہ کاری منصوبوں، مالیاتی ذرائع اور ڈیجیٹل حل کی ترقی بھی شامل ہے۔ فریقین نے تمچی اسپیشل فنانشل انویسٹمنٹ ٹیریٹری کی جانب سے فراہم کردہ مواقع سے عملی استفادے کے لئے دونوں ممالک کی متعلقہ تنظیموں اور کاروباری برادریوں کے درمیان براہِ راست روابط کے قیام کی حمایت کی۔ انہوں نے زور دیا کہ کرغزستان اور پاکستان کے درمیان براہِ راست اقتصادی روابط، بشمول تجارت، سرمایہ کاری، صنعتی تعاون، مالیاتی تعاون اور نقل و حمل و لاجسٹکس کے روابط میں توسیع، جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے درمیان اقتصادی رابطہ کو مضبوط بنانے میں عملی کردار ادا کرے گی۔
رہنماؤں نے کرغیز جمہوریہ کے صدر کے ماتحت نیشنل ایجنسی فار ورچوئل ایسٹس اینڈ بلاک چین ٹیکنالوجیز اور پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے درمیان ورچوئل اثاثوں کے شعبے میں تعاون کی یادداشت پر دستخط کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دستاویز دوطرفہ اقتصادی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے ایک نئے مرحلے کی علامت ہے۔ فریقین نے ان دستاویزات کی تزویراتی اہمیت کو اجاگر کیا جو مالیاتی منڈیوں کے انضمام، محفوظ اور شفاف ڈیجیٹل اثاثہ جاتی نظام کے قیام، سرحد پار سرمایہ کاری کے فروغ اور عالمی ڈیجیٹلائزیشن کے دور میں دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی جدت طرازی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ مشترکہ اعلامیہ کے مطابق انہوں نے کرغز جمہوریہ اور پاکستان کے درمیان نقل و حمل اور ٹرانزٹ تعاون کو مزید فروغ دینے کی اہمیت کا اظہار کیا اور قابلِ اعتماد اور اقتصادی طور پر مؤثر ٹرانسپورٹ و لاجسٹکس راستوں کی ترقی، باہمی مال برداری کے حجم میں اضافے اور دونوں ممالک کے درمیان سامان کی پائیدار ترسیل کے لئے سازگار حالات پیدا کرنے میں دلچسپی کا اعادہ کیا۔
رہنماؤں نے کرغز جمہوریہ کی کابینہ اور پاکستان کی حکومت کے درمیان ٹرانزٹ تجارت کے معاہدے پر دستخط کا خیرمقدم کیا اور زور دیا کہ یہ تزویراتی دستاویز علاقائی انضمام کے فروغ، باہمی تجارت کے حجم میں نمایاں اضافے اور لاجسٹکس راستوں کو بہتر بنانے کے لئے نئی راہیں کھولتی ہے جس سے دونوں ممالک جنوبی اور وسطی ایشیا کے درمیان اہم ٹرانسپورٹ مراکز بن سکتے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے ٹرانزٹ ٹریفک سے متعلق موجودہ چار ملکی معاہدے پر مؤثر عملدرآمد کی اہمیت کا اعادہ کرتے ہوئے معاہدے کے تحت مقرر کردہ ٹرانسپورٹ روٹ کے پائیدار آپریشن کو یقینی بنانے، متعلقہ ٹرانسپورٹ، کسٹمز اور انتظامی طریقۂ کار کو آسان بنانے اور مال برداری میں حائل عملی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ فریقین نے کرغزستان کی بیرونی تجارت اور ٹرانزٹ کے مواقع کو وسعت دینے، نقل و حمل کو فروغ دینے اور دونوں ممالک کے درمیان ٹرانسپورٹ و لاجسٹکس کے راستوں کو متنوع بنانے کے لئے پاکستان کی سمندری بندرگاہوں کی استعداد سے مزید استفادہ کرنے میں دلچسپی کا اعادہ کیا۔
دونوں رہنماؤں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مال بردار گاڑیوں کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے کے لئے عملی کام جاری رکھا جائے تاکہ باہمی مال برداری کے حجم میں اضافہ ہو۔ فریقین نے "کرغز پوسٹ” اور پاکستان پوسٹ کے درمیان ڈاک خدمات اور ای کامرس کے شعبے میں باہمی مفاد پر مبنی تعاون کے ارادے کے دوطرفہ معاہدے پر دستخط کا خیرمقدم کیا اور براہِ راست اقتصادی روابط کے فروغ کے لئے جدید ترسیلی ذرائع اور ای کامرس کی ترقی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے توانائی کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے میں دلچسپی کا اظہار کیا اور پائیدار ترقی کے حصول کے لئے مشترکہ منصوبوں کو آگے بڑھانے کی کوششوں میں باہمی حمایت کا اعادہ کیا۔ اس سلسلے میں دونوں فریقوں نے کاسا 1000 منصوبے پر بروقت عملدرآمد کی اہمیت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے توانائی کے شعبے میں مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام پر اطمینان کا اظہار کیا اور اسے ہدایت کی کہ بجلی، پن بجلی، قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے شعبوں میں تعاون کے لئے ٹھوس تجاویز تیار کی جائیں جنہیں بعد ازاں کرغز-پاکستان بین الحکومتی کمیشن برائے تجارت، اقتصادی، سائنسی و تکنیکی تعاون کے فریم ورک میں زیرِ غور لایا جائے گا۔
دونوں ملکوں نے ثقافت، تعلیم، سائنس اور جدت طرازی کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کی نمایاں استعداد کا اعادہ کیا اور تعلیمی و ثقافتی تبادلوں کو وسعت دینے، اعلیٰ تعلیمی اداروں، ثقافتی اداروں اور تحقیقی مراکز کے درمیان شراکت داری مضبوط بنانے اور مشترکہ ثقافتی و انسانی، تعلیمی اور سائنسی منصوبوں پر عملدرآمد میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ فریقین نے طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید بہتر بنانے اور دونوں ممالک کے متعلقہ حکام اور پیشہ ورانہ ریگولیٹری اداروں کے درمیان روابط کی اہمیت پر زور دیا تاکہ طبی تربیت کے اعلیٰ معیار کو یقینی بنایا جاسکے۔
انہوں نے کرغز جمہوریہ کی وزارتِ سائنس و اعلیٰ اور پاکستان کی وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے درمیان سائنسی و تکنیکی تعاون کے معاہدے، کرغزستان کی وزارتِ تعلیم اور پاکستان کی وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت کے درمیان تعلیم کے شعبے میں تعاون کی یادداشت، کرغزستان کی وزارتِ صحت اور پاکستان کے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کی یادداشت، پاکستان کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اور کرغزستان کے صدر کے ماتحت نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹیجک انیشی ایٹوز کے درمیان علمی تحقیق اور مشترکہ سرگرمیوں کے شعبے میں مفاہمت کی یادداشت اور انسٹی ٹیوٹ آف سٹرٹیجک سٹڈیز اسلام آباد اور کرغزستان کے صدر کے ماتحت نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹرٹیجک سٹڈیز کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کا خیرمقدم کیا اور ان دستاویزات کی خصوصی اہمیت پر زور دیا۔
فریقین نے قرار دیا کہ یہ معاہدے سائنسی اور تعلیمی تعاون کے لئے مضبوط قانونی اور ادارہ جاتی بنیاد فراہم کرتے ہیں، تعلیمی نقل و حرکت کو آسان بناتے ہیں، اعلیٰ تربیت یافتہ ماہرین کی تیاری کے لئے نئے مواقع پیدا کرتے ہیں اور ماہرین کی سطح پر روابط کو گہرا کرتے ہیں جو باہمی خیرسگالی اور عوامی سطح پر روابط کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گے۔ فریقین نے سیاحت کے شعبے میں تعاون کے نمایاں امکانات پر زور دیتے ہوئے باہمی سیاحتی آمدورفت میں اضافے، سیاحتی آپریٹرز کے درمیان براہِ راست روابط کے فروغ اور دونوں ممالک کے سیاحتی امکانات کو اجاگر کرنے میں سہولت فراہم کرنے پر اتفاق کیا۔انہوں نے کرغز-پاکستان مشترکہ ورکنگ گروپ برائے سیاحت کے قیام پر اطمینان کا اظہار کیا اور اسے ہدایت کی کہ مشترکہ طور پر سیاحتی مصنوعات کے فروغ، تجربات کے تبادلے اور دونوں ممالک کی سیاحتی صنعتوں کے نمائندوں کے درمیان روابط سمیت تعاون کے مخصوص شعبوں کی نشاندہی کرے۔
دونوں ملکوں کے رہنماؤں نے دہشت گردی، انتہاپسندی، بین الاقوامی منظم جرائم، منشیات، نفسیاتی اثرات رکھنے والے مادوں اور ان کے پیش خیمہ کیمیائی اجزا کی غیر قانونی سمگلنگ، انسانی سمگلنگ، غیر قانونی ہجرت، سائبر جرائم اور دیگر عصرِ حاضر کے چیلنجز اور خطرات سے نمٹنے کے لئے دونوں ممالک کے متعلقہ حکام کے درمیان تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ فریقین نے کرغزستان اور پاکستان کے درمیان حوالگی کے معاہدے، فوجداری معاملات میں باہمی قانونی معاونت کے معاہدے نیز کرغز جمہوریہ کی وزارتِ داخلہ اور پاکستان کی وزارتِ داخلہ و انسدادِ منشیات کے درمیان منشیات، نفسیاتی اثرات رکھنے والے مادوں، نئے نفسیاتی اثرات رکھنے والے مادوں، ان کے پیش خیمہ کیمیائی اجزا اور متعلقہ امور کی غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف تعاون کی یادداشت پر دستخط کا خیرمقدم کیا۔ رہنماؤں نے ان دستاویزات کے مجموعے کو مذکورہ شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے کے لئے بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاہدے بین الاقوامی جرائم کے مؤثر سدباب کے لئے مضبوط بین الاقوامی قانونی بنیاد فراہم کرتے ہیں، دونوں ممالک کی سرزمین پر شہریوں کے حقوق اور جائز مفادات کے تحفظ کے مواقع کو وسعت دیتے ہیں اور کرغزستان اور پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کو نئی سطح تک لے جاتے ہیں۔ انہوں نے دفاع کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ دینے اور دونوں ممالک کے متعلقہ اداروں کے درمیان روابط مضبوط بنانے میں دلچسپی کا اعادہ کیا۔ رہنماؤں نے ثقافتی و انسانی، بین العلاقائی اور بین البلدیاتی روابط کو مزید فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہیں کرغزستان اور پاکستان کے عوام کے درمیان دوستی اور باہمی مفاہمت کو مضبوط بنانے کا اہم عنصر قرار دیا۔ اس سلسلے میں فریقین نے کرغز جمہوریہ کے شہر اوش اور پاکستان کے شہر لاہور کے درمیان سسٹر سٹی تعلقات کے قیام کے معاہدے پر دستخط کا خیرمقدم کیا۔ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے کرغز جمہوریہ کو چھٹی نومیڈ گیمز کی میزبانی پر مبارکباد دی اور ان کھیلوں کے بین الاقوامی ثقافتی و انسانی تعاون کے فروغ، تاریخی و ثقافتی ورثے کے تحفظ اور تہذیبوں کے درمیان مکالمے کے فروغ میں منفرد کردار کو سراہا۔کرغزستان نے پاکستانی کھیلوں کے وفد کی شرکت کو بھرپور انداز میں سراہا۔
رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور پر اقوامِ متحدہ، شنگھائی تعاون تنظیم، اسلامی تعاون تنظیم، اقتصادی تعاون تنظیم اور دیگر بین الاقوامی و علاقائی تنظیموں کے اندر مزید رابطہ اور تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔ پاکستان نے 2025۔2026 میں شنگھائی تعاون تنظیم کی کامیاب صدارت اور تنظیم کی 25 ویں سالگرہ کے موقع پر بشکیک میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کے اجلاس کے کامیاب انعقاد کو سراہا اور تنظیم میں مزید قریبی تعاون کے لیے آمادگی کا اعادہ کیا۔ کرغزستان نے 2026۔2027 کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم اور اقتصادی تعاون تنظیم کی صدارت کے لیے پاکستان کی حمایت کا اظہار کیا اور علاقائی استحکام، رابطہ اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے اقدامات کو آگے بڑھانے کی غرض سے کوششوں میں مزید رابطہ کے لیے آمادگی کا اعادہ کیا۔ وزیرِ اعظم نے کرغزستان کو 2027۔2028 کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے بین الاقوامی امن، سلامتی اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے اقوامِ متحدہ میں قریبی رابطہ اور تعاون کے لیے آمادگی کا اعادہ کیا۔ کرغزستان کے صدر نے اقوامِ متحدہ میں کرغزستان کی حمایت پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے 2025۔2026 کے دوران اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے پاکستان کی بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لئے خدمات کو بھی سراہا۔ فریقین نے کرغز جمہوریہ کی سلامتی کونسل کی رکنیت کی مدت کے دوران علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی سے متعلق امور پر قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ کرغزستان نے مشرقِ وسطیٰ میں امن، استحکام اور مکالمے کو یقینی بنانے کی بین الاقوامی کوششوں میں کردار ادا کرنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ کرغزستان کے صدر نے پاکستان کی قیادت بالخصوص وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی ثالثی کی کوششوں کا خیرمقدم کیا جن کے نتیجے میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط ممکن ہوئے۔ فریقین نے قرار دیا کہ خطے میں استحکام اور پائیدار اقتصادی ترقی جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے درمیان تجارت، نقل و حمل، توانائی کے تعاون اور رابطہ کاری کے فروغ کے لیے انتہائی اہم ہے۔
خطے اور اس سے باہر ہونے والے دہشت گرد حملوں کی مذمت کرتے ہوئے رہنماؤں نے اس امر کا اعادہ کیا کہ خطے میں امن اور استحکام ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہیں۔ انہوں نے دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر کے خلاف اقوامِ متحدہ، شنگھائی تعاون تنظیم اور اسلامی تعاون تنظیم سمیت تمام فورمز پر مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے افغانستان میں استحکام اور سلامتی کو جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے درمیان بلا تعطل رابطہ کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اہم شرط قرار دیا۔ اس سلسلے میں دونوں رہنماؤں نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کی سرزمین کو دیگر ممالک کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے، جیسا کہ اس کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کا تقاضا ہے۔ انہوں نے اتفاق کیا کہ جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے درمیان تعاون اور رابطہ کی وسیع صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لئے محفوظ اور سازگار ماحول ضروری ہے۔
دونوں رہنماؤں نے تمام زیرِ التوا تنازعات اور اختلافات کو یکطرفہ طرزِ عمل اختیار کرنے کے بجائے بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے اصولوں اور مقاصد کے مطابق پرامن ذرائع سے فوری اور پرامن طور پر حل کرنے پر زور دیا۔ پاکستان نے عالمی سطح پر پہاڑی علاقوں سے متعلق ایجنڈے، پہاڑی خطوں کی پائیدار ترقی اور موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے کرغزستان کے بین الاقوامی اقدامات کی حمایت کا اعادہ کیا جن میں 2027 میں دوسرے عالمی ماؤنٹین سمٹ "بشکیک+25” کا انعقاد بھی شامل ہے اور اس کے کام میں فعال شرکت کے لیے آمادگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کرغزستان کی وزارتِ قدرتی وسائل، ماحولیات و تکنیکی نگرانی اور پاکستان کی وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کے درمیان ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کا خیرمقدم کیا۔ مشترکہ اعلامیہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا سرکاری دورہ کرغزستان۔پاکستان تعاون میں ایک نئے باب کا آغاز کرتا ہے جس کی بنیاد طے پانے والے معاہدوں پر مستقل عمل درآمد، تجارت، اقتصادیات اور سرمایہ کاری کے تعاون میں مزید توسیع، ٹرانسپورٹ و لاجسٹکس تعاون کو مضبوط بنانے اور باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کے فروغ پر ہوگی۔
رہنماؤں نے دسمبر 2025 میں کرغزستان کے صدر صادیر ژاپاروف کے پاکستان کے سرکاری دورے، جولائی 2026 میں صدر مملکت آصف علی زرداری کے کرغزستان کے سرکاری دورے اور وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کے کرغزستان کے سرکاری دورے کے دوران طے پانے والے معاہدوں پر عملی عملدرآمد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے ان تمام دوروں کو دوطرفہ تعاون کی مزید ترقی کے لئے ایک مسلسل اور مربوط بنیاد قرار دیا۔ دونوں رہنماؤں نے خصوصی طور پر اس بات کا ذکر کیا کہ سرمایہ کاری تعاون میں توسیع، صنعتی تعاون کی ترقی اور ٹرانسپورٹ و لاجسٹکس تعاون میں بہتری کرغز جمہوریہ اور پاکستان کے عوام کے طویل المدتی مفادات سے ہم آہنگ ہے اور دوطرفہ تعلقات کی مزید معیاری ترقی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے کرغزستان کے عوام، صدر صادیر ژاپاروف اور حکومت کا پاکستانی وفد کے لیے گرمجوشانہ مہمان نوازی اور سرکاری دورے کے اعلیٰ سطح کے انتظامات پر دلی شکریہ ادا کیا اور کرغزستان کے صدر کو اپنی سہولت کے مطابق پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔ کرغزستان کے صدر نے دعوت قبول کرلی، دورے کی تاریخ سفارتی ذرائع سے باہمی مشاورت کے ذریعے طے کی جائے گی۔








