سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کا اجلاس، ہائیڈروکاربن ڈویلپمنٹ انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان سے متعلق اہم انتظامی اور ادارہ جاتی امور کا جائزہ لیا گیا
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کا اجلاس، ہائیڈروکاربن ڈویلپمنٹ انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان سے متعلق اہم انتظامی اور ادارہ جاتی امور کا جائزہ لیا گیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔2ستمبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کا اجلاس سینیٹر عمر فاروق کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں ہائیڈروکاربن ڈویلپمنٹ انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان (ایچ ڈی آئی پی) سے متعلق اہم انتظامی اور ادارہ جاتی امور کا جائزہ لیا گیا جن میں ادارے کے سربراہ کی تقرری، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی حیثیت، بجٹ اور ملازمین کی مستقلی کے معاملات شامل تھے۔ سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس کے دوران سینیٹر قرۃ العین مری نے پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے کمیٹی کو متعلقہ دستاویزات کی فراہمی میں تاخیر پر استفسار کیا۔انہوں نے کہا کہ کمیٹی کو متعلقہ دستاویزات بروقت فراہم کی جائیں تاکہ کمیٹی اپنی نگرانی کی ذمہ داریاں موثر انداز میں انجام دے سکے۔ اجلاس میں ہائیڈروکاربن ڈویلپمنٹ انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان کی سربراہی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔
حکام نے بتایا کہ ادارے کے سربراہ کی تقرری کا عمل آخری مراحل میں ہے اور وزیراعظم کی منظوری کے بعد تقرری عمل میں لائی جائے گی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا گیا کہ ادارے کا سالانہ بجٹ 700 ملین روپے ہے جبکہ حکومت کی جانب سے اسے 50 ملین روپے کی گرانٹ بھی فراہم کی جاتی ہے۔کمیٹی نے وزیراعظم آفس اور سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق او جی ڈی سی ایل کو ہدایت کی کہ گیس کے کنویں سے پانچ کلومیٹر کے دائرے میں گیس کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور اس پر عملدرآمد کیا جائے۔کمیٹی کو ادارے میں ملازمین کے ڈھانچے کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ بعض ملازمین مستقل جبکہ دیگر کنٹریکٹ کی بنیاد پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ عارضی ملازمین نے عدالتوں سے رجوع کیا اور عدالتی کارروائی کے نتیجے میں ان کی ملازمتیں مستقل ہو گئیں۔ خاتون عارضی ملازمہ کے معاملے پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر عمر فاروق نےنشاندہی کی کہ ایک خاتون عارضی ملازمہ نے عدالت سے رجوع نہیں کیا اور سوال کیا کہ اسے مستقل کیوں نہیں کیا گیا۔
حکام نے وضاحت کی کہ خاتون ملازمہ نے ادارے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو درخواست دی تھی تاہم بورڈ نے ان کے حق میں فیصلہ نہیں کیا۔ سینیٹر عمر فاروق نے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل سے متعلق بھی تفصیلات طلب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ بورڈ کے ارکان کون ہیں۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ بورڈ اس وقت غیر فعال ہے اور نجی شعبے سے ارکان کی تقرری کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا۔ خاتون افسر کی مستقلی کے معاملے پر سینیٹر قرۃ العین مری نے کہا کہ کمیٹی پہلے ہی خاتون افسر کو مستقل کرنے کی سفارش کر چکی ہے۔کمیٹی نے ادارے کے سربراہ کی تقرری، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تکمیل اور خاتون افسر کی مستقلی کے معاملے کے حل میں پیش رفت کی ضرورت پر زور دیا۔سینیٹر جام سیف اللہ خان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار سے وابستہ کمپنیاں ان علاقوں کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں جہاں کامیاب دریافتیں ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دریافت والے علاقوں کی ترقی مقامی لوگوں کا بنیادی حق ہے اور قدرتی وسائل کے فوائد ان علاقوں میں رہنے والی آبادی تک پہنچنے چاہئیں۔سینیٹر جام سیف اللہ خان نے کہا کہ وزیراعظم نے گیس کے کنویں سے پانچ کلومیٹر کے دائرے میں گیس کی فراہمی کے واضح احکامات جاری کیے ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ ان ہدایات پر من و عن عملدرآمد کیا جائے اور وزارت پٹرولیم اس حوالے سے جلد از جلد واضح پالیسی گائیڈ لائنز جاری کرے۔پٹرولیم ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ مطلوبہ گائیڈ لائنز ایک ماہ کے اندر تیار کر لی جائیں گی۔
اجلاس میں ڈیپارٹمنٹ آف ایکسپلوسوز (Explosives)کے ڈائریکٹر جنرل کی تقرری کے حوالے سے معاملہ بھی زیر بحث آیا۔۔چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں محکمہ کے سربراہ کی تعلیمی قابلیت اور ان کی تقرری کے لیے اختیار کیے گئے طریقہ کار کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی جائے۔ کمیٹی نے تقرری کے عمل میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے مکمل تفصیلات طلب کر لیں۔اجلاس میں ایس این جی پی ایل کا معاملہ بھی زیر بحث آیا جس میں کسی بھی معاملے پر فیصلہ کرنے کے حوالے سے کمیٹی کے اختیارات سے متعلق سوالات اٹھائے گئے۔








