قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس، واپڈا سکیورٹی بل، کے فور منصوبے میں تاخیر اور تربیلا متاثرین کے امور کا جائزہ لیا

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس، واپڈا سکیورٹی بل، کے فور منصوبے میں تاخیر اور تربیلا متاثرین کے امور کا جائزہ لیا

اسلام آباد۔2ستمبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کو بتایا گیا ہے کہ واپڈا ایکٹ 1958 میں فی الوقت سکیورٹی نظام کی تشکیل، دائرہ اختیار، اختیارات یا فرائض سے متعلق کوئی قانونی شق موجود نہیں، مجوزہ واپڈا سکیورٹی فورس ایکٹ فورس کو اپنی ذمہ داریاں موثر انداز میں انجام دینے کے لیے ضروری قانونی اختیار اور عملیاتی فریم ورک فراہم کرے گا۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس بدھ کو رکن قومی اسمبلی احمد عتیق انور کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا۔

بدھ کویہاں قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جاری پریس ریلیز کے مطابق چیئرمین واپڈا نے قومی اثاثوں کے تحفظ، مختلف مقامات پر موجود تنصیبات کی سکیورٹی اور واپڈا کے منصوبوں پر کام کرنے والے ملکی و غیر ملکی اہلکاروں کے تحفظ میں واپڈا سکیورٹی فورس کے اہم کردار کے بارے میں کمیٹی کو بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ مجوزہ واپڈا سکیورٹی فورس ایکٹ فورس کو اپنی ذمہ داریاں موثر انداز میں انجام دینے کے لیے ضروری قانونی اختیار اور عملیاتی فریم ورک فراہم کرے گا۔کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ واپڈا ایکٹ 1958 میں فی الوقت سکیورٹی نظام کی تشکیل، دائرہ اختیار، اختیارات یا فرائض سے متعلق کوئی قانونی شق موجود نہیں۔ تفصیلی غور و خوض کے بعد کمیٹی نے بل پر غور آئندہ اجلاس تک موخر کرنے کا فیصلہ کیا۔

کمیٹی نے محمد ادریس کی کنوینئرشپ میں ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی جسے ’’بھاری اخراجات کے باوجود کے فور منصوبے کی عدم تکمیل کی تحقیقات‘‘ کی ذمہ داری سونپی گئی۔کمیٹی نے بابر نواز خان کی جانب سے پیش کردہ تربیلا ڈیم اتھارٹی کے قیام کے معاملے پر بھی غور کیا جس کا مقصد تربیلا ڈیم متاثرین کی آبادکاری اور بحالی ہے۔

تفصیلی غور و خوض کے بعد کمیٹی نے ان کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے واضح اور قانونی طور پر قابل عمل طریقہ کار کی ضرورت پر زور دیا اور وزارت کو معاملے کے موثر حل کے لیے مناسب قانونی راستہ تجویز کرنے کی سفارش کی۔اجلاس میں ارکان قومی اسمبلی شمائلہ رانا، محمد ادریس، سید جاوید علی شاہ جیلانی، شازیہ مری (زوم کے ذریعے)، صبا تالپور، میاں خان بگٹی، ذوالفقار علی ، سید وسیم حسین، امین الحق (محرک)، بابر نواز خان (محرک) اور فاقی وزیر برائے آبی وسائل میاں محمد معین وٹو کے علاوہ وزارت آبی وسائل کے حکام نے شرکت کی۔