عالمی حدت چند برسوں میں 1.5 ڈگری سیلیس سے تجاوز کر سکتی ہے ، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یو این ای پی)نے خبردار کیا گیا ہے کہ عالمی حدت آئندہ چند برسوں میں پیرس معاہدے کے تحت مقرر کردہ 1.5 ڈگری سیلسیس کی حد سے تجاوز کرسکتی ہے۔

اقوام متحدہ ۔3ستمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یو این ای پی)نے خبردار کیا گیا ہے کہ عالمی حدت آئندہ چند برسوں میں پیرس معاہدے کے تحت مقرر کردہ 1.5 ڈگری سیلسیس کی حد سے تجاوز کرسکتی ہے۔

شنہوا نے یو این ای پی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر انگر اینڈرسن کی تازہ ترین رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ انتہائی پرامید منظرنامے میں بھی صنعتی دور سے قبل کی سطح کے مقابلے میں عالمی درجہ حرارت میں اضافے کی شرح 1.8 ڈگری سیلسیس تک پہنچ سکتی ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ شدید موسمی حالات اور ماحولیاتی نظام کو پہنچنے والے نقصانات میں اضافے سے انسانی صحت، غذائی تحفظ، بنیادی ڈھانچے اور معیشتوں کو سنگین خطرات لاحق ہوں گے۔

انگر اینڈرسن نے کہا کہ اگر عالمی درجہ حرارت 1.5 ڈگری سیلیس سے زیادہ رہتا ہے تو اس کے اچھے نتائج برآمد نہیں ہوں گے، دنیا بھر میں شدید گرمی کی لہریں پہلے ہی ظاہر کر رہی ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات تیزی سے رونما ہوں گے، زیادہ شدید ہوں گے اور طویل عرصے تک برقرار رہیں گے جس کے نتیجے میں مزید جانی نقصان اور گہری معاشرتی و معاشی مشکلات پیدا ہوں گی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں فوری اور مسلسل کمی کے ذریعے عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو کم کیا جاسکتا ہے، اس مقصد کے لیے ’’حد سے تجاوز، عروج اور کمی‘‘ کے راستے پر عمل کرتے ہوئے درجہ حرارت میں اضافے کی بلند ترین سطح کو محدود کرنا اور بالآخر پیرس معاہدے کے عالمی اہداف حاصل کرنا اب بھی ممکن ہے۔