ستمبر 1965 کی جنگ کے تیسرے روز لیفٹیننٹ کرنل نصیر اللہ بابر نے حاضر دماغی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک پستول سے 30 بھارتی سپاہیوں کو جھانسہ دے کر جنگی قیدی بنا لیا

ستمبر 1965 کی جنگ کے تیسرے روزلیفٹیننٹ کرنل نصیر اللہ بابرنے حاضر دماغی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف ایک پستول سے 30 بھارتی سپاہیوں کو جھانسہ دے کر جنگی قیدی بنا لیا۔تفصیلات کے مطابق جنگ جاری تھی اور پاکستان کی مسلح افواج عوام کے ہمراہ بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے رہی تھیں۔

اسلام آباد۔3ستمبر (اے پی پی):ستمبر 1965 کی جنگ کے تیسرے روزلیفٹیننٹ کرنل نصیر اللہ بابرنے حاضر دماغی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف ایک پستول سے 30 بھارتی سپاہیوں کو جھانسہ دے کر جنگی قیدی بنا لیا۔تفصیلات کے مطابق جنگ جاری تھی اور پاکستان کی مسلح افواج عوام کے ہمراہ بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے رہی تھیں۔

بھارتی وزیراعظم لال بہادر شاستری اپنی قوم پر طاری پاک فضائیہ کے حملوں کا خوف دور کرنے کی ناکام کوششیں کرتے رہے،پاک فوج نے چھمب سیکٹر میں بھارت کے 500 جوانوں کو جنگی قیدی بنایا اور دشمن کے 15 ٹینکوں اور دیگر اسلحے پر قبضہ کیا،پاک فوج کے کمانڈر ان چیف جنرل محمد موسیٰ نے بھارتی زخمی سپاہی کی ایک فیلڈ ہسپتال میں عیادت کی،لیفٹیننٹ کرنل نصیر اللہ بابرنےغیر دانستہ طور پر کشمیرکے بھمبرسیکٹر میں ایک بھارتی پوزیشن پراپنا ہیلی کاپٹر اتارا،لیفٹیننٹ کرنل نصیر اللہ بابرنے حاضر دماغی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف ایک پستول سے 30 بھارتی سپاہیوں کو جھانسہ دے کر جنگی قیدی بنا لیا۔

پاک فضائیہ نے بھارت کے 3طیارے مار گرائے، ایک طیارہ پسرور ایئرفیلڈ پر فلائٹ لیفٹیننٹ حکیم اللہ نے مار گرایا،دوسرے طیارے Gnat E1083 کو فلائٹ آفیسرعباس مرزا پسرورکے ایئر فیلڈ پر اتارنے میں کامیاب ہو گئے،تیسرا Gnat E1083 طیارہ بھارت کا اسکواڈرن لیڈر برج پال سنگھ اُڑا رہا تھا، جسے جنگی قیدی بنا لیا گیا،اس بے مثال معرکے میں افواج پاکستان نے بھارتی جنگی طیاروں کو بھاری نقصان اٹھانے پر مجبور کردیا تھا۔