وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ بھرتیوں میں استعمال ہونے والی متنازع اسناد کی اصلیت کا معاملہ جب سول کورٹ میں زیر سماعت ہو تو اس کے فیصلے سے قبل متعلقہ افسران کے خلاف فوجداری یا محکمانہ کارروائی شروع نہیں کی جا سکتی، ایسی کارروائی سول کورٹ کے فیصلے کے بعد قانون کے مطابق ہی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
سول کورٹ کے فیصلے تک مبینہ جعلی اسناد پر فوجداری یا محکمانہ کارروائی نہیں ہو سکتی، وفاقی آئینی عدالت

مزید خبریں
اسلام آباد۔3ستمبر (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ بھرتیوں میں استعمال ہونے والی متنازع اسناد کی اصلیت کا معاملہ جب سول کورٹ میں زیر سماعت ہو تو اس کے فیصلے سے قبل متعلقہ افسران کے خلاف فوجداری یا محکمانہ کارروائی شروع نہیں کی جا سکتی، ایسی کارروائی سول کورٹ کے فیصلے کے بعد قانون کے مطابق ہی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ پر مشتمل وفاقی آئینی عدالت کے دو رکنی بینچ نے یہ حکم خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں عربی اور تھیالوجی ٹیچرز کی بھرتیوں سے متعلق دائر دو سول پٹیشنز برائے اجازت اپیل پر اپنے فیصلے میں دیا۔عدالت نے تفصیلی تحریری فیصلہ میں قرار دیا کہ متنازع دستاویزات کی اصلیت کسی بھی ممکنہ فوجداری یا محکمانہ کارروائی کی بنیاد ہے اور چونکہ اس معاملے کا فیصلہ سول کورٹ کے سامنے زیر التوا ہے، اس لیے پہلے سول کورٹ کو دستاویزات کی اصلیت کا تعین کرنے دیا جائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ عام طور پر ایک ہی معاملے سے متعلق فوجداری کارروائی کو سول مقدمے کے فیصلے تک مؤخر کرنا لازم نہیں ہوتا، تاہم جہاں فوجداری ذمہ داری براہ راست سول مقدمے کے نتیجے پر منحصر ہو یا دونوں معاملات اس قدر باہم منسلک ہوں کہ متضاد فیصلوں سے کسی فریق کے ساتھ سنگین ناانصافی کا خدشہ ہو، وہاں فوجداری عدالت کو سول مقدمے کے فیصلے تک کارروائی روک دینی چاہیے۔عدالت نے مزید قرار دیا کہ سول کارروائی کا مقصد شہری حقوق اور ذمہ داریوں کا نفاذ جبکہ فوجداری کارروائی کا مقصد جرم کے مرتکب شخص کو سزا دینا ہے۔ دونوں کارروائیاں بیک وقت شروع کرنے پر عمومی پابندی نہیں، تاہم جب دونوں مقدمات کا موضوع ایک ہی ہو اور باہم گہرا تعلق ہو تو فوجداری عدالت کو سول عدالت کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے۔
فیصلے کے مطابق بنوں میں 2010ء میں عربی ٹیچر اور تھیالوجی ٹیچر کی آسامیوں پر بھرتیوں کے معاملے میں پہلے پشاور ہائی کورٹ کے بنوں بینچ نے تحقیقات کے بعد بعض تقرریوں کو غیر قانونی اور کالعدم قرار دیا تھا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے 7 مارچ 2018ء کو بھرتیوں کا عمل نئے سرے سے شروع کرنے اور ٹیسٹ میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کو، جن کی اسناد حقیقی ہوں، تقرری دینے کی ہدایت کی تھی۔عدالت نے نوٹ کیا کہ اس کے بعد دوبارہ بھرتیوں کے عمل پر بھی اعتراضات سامنے آئے اور معاملہ سول کورٹ تک پہنچا، جہاں متنازع اسناد کی اصلیت کا تعین ہونا باقی ہے۔وفاقی آئینی عدالت نے پشاور ہائی کورٹ کے 13 فروری 2025ء کے فیصلے کے خلاف دائر درخواستوں کو اپیلوں میں تبدیل کرتے ہوئے قرار دیا کہ درخواست گزاروں کے خلاف فوجداری یا محکمانہ کارروائی متنازع دستاویزات کی اصلیت کے بارے میں سول کورٹ کے فیصلے کے بعد اور قانون کے مطابق ہی شروع کی جا سکتی ہے۔عدالت نے دونوں اپیلیں مذکورہ آبزرویشنز کے ساتھ نمٹا دیں۔








