سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے کمپنیوں کے حقیقی یا حتمی مالکان کی تفصیلات فراہم نہ کرنے پر 28 ہزار 761 کمپنیوں کو اظہارِ وجوہ کے نوٹس جاری کر دیئے ہیں۔
سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کا حتمی مالکان کی تفصیلات ظاہر نہ کرنے پر 28 ہزار 761 کمپنیوں کو نوٹس جاری

مزید خبریں
اسلام آباد۔3ستمبر (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے کمپنیوں کے حقیقی یا حتمی مالکان کی تفصیلات فراہم نہ کرنے پر 28 ہزار 761 کمپنیوں کو اظہارِ وجوہ کے نوٹس جاری کر دیئے ہیں۔
جمعرات کے روز ایس ای سی پی کے مطابق ہر رجسٹرڈ کمپنی کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے الٹی میٹ بینیفیشل اونر ، یعنی حقیقی یا حتمی مالک کی تفصیلات سالانہ ریٹرن کے وقت فارم 19 کے ذریعے فراہم کرے۔حتمی مالک سے مراد وہ فرد ہے جو براہِ راست یا کسی دوسری کمپنی یا ادارے کے ذریعے متعلقہ کمپنی کا مالک ہو یا اس پر کنٹرول رکھتا ہو۔ اس میں کمپنی کے کم از کم 25 فیصد حصص یا ووٹنگ حقوق رکھنے والا، یا کسی دوسرے ذریعے سے کمپنی پر مؤثر کنٹرول رکھنے والا شخص بھی شامل ہے۔حتمی مالکان کی تفصیلات فراہم کرنا کمپنیز ایکٹ 2017 کی دفعہ 123 اے کے تحت لازمی ہے۔
ایس ای سی پی کے اعداد و شمار کے مطابق جون 2026 کے اختتام تک پاکستان میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 3 لاکھ ایک ہزار 615 تھی۔حتمی مالکان کی معلومات سے کمپنیوں کے ناموں اور پیچیدہ ملکیتی ڈھانچوں کے پیچھے موجود ان افراد کی شناخت میں مدد ملتی ہے جو درحقیقت کاروبار کے مالک یا اس پر کنٹرول رکھتے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد کارپوریٹ شفافیت کو فروغ دینا اور کمپنیوں کو منی لانڈرنگ، اثاثے چھپانے اور غیر قانونی مالی ترسیلات کے لیے استعمال ہونے سے روکنا ہے۔
اظہارِ وجوہ کے نوٹس متعلقہ کمپنیوں کو ایس ای سی پی کے ای پورٹل اور کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹوز اور مجاز نمائندوں کو ان کے رجسٹرڈ ای میل کے ذریعے الیکٹرانک طور پر جاری کیے گئے ہیں۔متعلقہ کمپنیوں کو 30 دن کے اندر فارم 19 جمع کرانے اور تعمیل کی مصدقہ نقل فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ مقررہ مدت میں تعمیل نہ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف ایس ای سی پی قانون کے مطابق جرمانے کی کارروائی شروع کر سکتا ہے۔








