اکیس ممالک میں ایک سال کے دوران 20 ملین بچوں کو آن لائن جنسی استحصال یا زیادتی کا سامنا کرنا پڑا،یونیسف

قوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال ( یونیسف)نے کہا ہے کہ 21 ممالک میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے تقریباً 20 ملین بچوں کو ایک سال کے دوران ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر جنسی استحصال یا زیادتی کا سامنا کرنا پڑا جن میں زیادہ تر واقعات سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پیش آئے۔

جنیوا۔3ستمبر (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال ( یونیسف)نے کہا ہے کہ 21 ممالک میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے تقریباً 20 ملین بچوں کو ایک سال کے دوران ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر جنسی استحصال یا زیادتی کا سامنا کرنا پڑا جن میں زیادہ تر واقعات سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پیش آئے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یونیسف نے جمعرات کو جاری ایک رپورٹ میں بتایا کہ افریقا، ایشیا، لاطینی امریکا اور مشرقی یورپ میں 12 سے 17 سال کی عمر کے ہر پانچ میں سے ایک سے زیادہ بچوں نے سروے سے قبل ایک سال کے دوران آن لائن جنسی استحصال یا زیادتی کی کم از کم ایک صورت کا سامنا کیا۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 15 ملین بچوں کو ناپسندیدہ جنسی مواد دکھایا گیا، 9ملین بچوں پر جنسی گفتگو یا جنسی تصاویر شیئر کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیااور 4 ملین بچوں کی جنسی تصاویر ان کی رضامندی کے بغیر شیئر کی گئیں۔

یونیسیف نے کہا کہ دنیا بھر میں ایسے جنسی استحصال یا زیادتی کا شکار بچوں کی تعداد یقینی طور پر کئی کروڑ تک پہنچتی ہے ۔ یہ تحقیق 2020 سے 2025 کے درمیان 21 ممالک میں تقریباً 21 ہزار انٹرنیٹ استعمال کرنے والے بچوں کے قومی سطح پر نمائندہ سروے کی بنیاد پر کی گئی۔ ان ممالک میں کینیا ، برازیل اور سربیا بھی شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 60 فیصد رپورٹ شدہ واقعات سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ہوئے جن میں فیس بک، واٹس ایپ، انسٹاگرام، سنیپ چیٹ اور ٹک ٹاک نمایاں تھے، مزید 14 فیصد واقعات آن لائن گیمنگ کے دوران پیش آئے۔ میٹا، جو فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی ہے نے کہا کہ یونیسیف کے سروے 2020 تک کے عرصے پر مشتمل ہیں جبکہ اس کے بعد کمپنی نے نوعمر صارفین کے تحفظ کے لیے متعدد اقدامات متعارف کرائے ہیں۔

میٹا نے یہ بھی کہا کہ واٹس ایپ کو سوشل میڈیا کی بجائے ایک نجی پیغام رسانی کی ایپ سمجھا جانا چاہیے۔ سنیپ چیٹ نے کہا کہ وہ آن لائن جنسی بلیک میلنگ کے خلاف فعال طور پر کارروائی کر رہا ہے جبکہ ٹک ٹاک نے نابالغ صارفین کے تحفظ کے لیے مختلف حفاظتی اقدامات کا حوالہ دیا۔ یونیسیف کی رپورٹ میں ایک اہم تشویش یہ بھی سامنے آئی کہ آدھے سے زیادہ واقعات میں مبینہ طور پر ایسا شخص ملوث تھا جسے بچہ پہلے سے جانتا تھا مثلاً دوست، رشتہ دار یا ساتھی۔ تاہم، 38 فیصد بچوں نے بتایا کہ انہوں نے ملزم کو پہلی بار آن لائن دیکھا تھا۔

تحقیق کے مطابق بچوں سے متعلق ایسے ایک فیصد سے بھی کم واقعات پولیس، سماجی کارکن یا ہیلپ لائن کو رپورٹ کیے گئے۔ رپورٹ میں مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے خطرے پر بھی توجہ دلائی گئی۔ نو ممالک سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 11 لاکھ بچوں نے بتایا کہ ان کی شکل استعمال کرتے ہوئے AI سے تیار کردہ جنسی تصاویر یا وڈیوز بنائی گئیں۔ تحقیق کے مطابق ٹیکنالوجی کے ذریعے جنسی استحصال کا سامنا کرنے والے بچوں میں خودکشی کے خیالات یا خود کو نقصان پہنچانے کے امکانات تقریباً چار گنا زیادہ تھے جبکہ ان میں اضطراب کی سطح بھی دوسرے بچوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ پائی گئی۔

یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے کہا کہ ایسے تجربات بچوں کو شدید جذباتی اور ذہنی تکلیف پہنچاتے ہیں اور بہت سے بچے یہ سب کچھ خاموشی سے برداشت کرتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ مدد کے لیے کہاں رجوع کریں۔ یونیسیف نے حکومتوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر حفاظتی اقدامات مضبوط کریں، AI سے تیار کردہ جنسی مواد سمیت نئی اقسام کے استحصال سے نمٹنے کے لیے قوانین کو جدید بنائیں اور بچوں کے تحفظ اور رپورٹنگ سسٹم کو مزید موثر بنائیں۔

مزید خبریں